بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 72 hadith
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسواک کرنا منہ کی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا موجب ہے۔
حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں نے مسواک کے بارہ میں تمہیں بارہا تاکید کی ہے۔
حضرت مغیرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات سفر میں میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا آپﷺ نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا جی حضور، ہے۔ چنانچہ آپﷺ سواری سے اترے اور اندھیرے میں اتنی دور گئے جہاں آپ نظر نہیں آتے تھے۔ (قضائے حاجت کے بعد) آپ واپس تشریف لائے اور وضو کرنے لگے۔ میں لوٹے سے پانی ڈالنے لگا۔ آپؐ نے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے۔ آپؐ پر اونی جبہ تھا۔ آپؐ اس میں سے اپنے بازو نہیں نکال سکتے تھے۔ اس لئے آپﷺ نے جبہ کے اندر سے ہاتھ نکال کر انہیں دھویا۔ پھر سر کا مسح کیا۔ آپﷺ نے پاؤں میں موزے پہن رکھے تھے اس لئے میں جھکا کہ آپﷺ کے موزے اتاروں۔ تو آپﷺ نے فرمایا رہنے دو میں ان پر مسح کروں گا کیونکہ میں نے انہیں پاؤں دھو کر پہنا تھا۔
حضرت زر بن حبیشؓ بیان کرتے ہیں کہ میں صفوان بن عسالؓ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کا مسئلہ پوچھنے آیا۔ حضرت صفوان نے کہا اے زر! کیسے آئے؟ میں نے کہا علم سیکھنے کے لئے آیا ہوں۔ اس پر انہوں نے کہا طالب علم کے آگے فرشتے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور اس کی اس علمی طلب پر بہت خوش ہوتے ہیں۔ اس پر میں نے کہا پیشاب پاخانہ کے بعد وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کرنے کا مسئلہ میرے دل میں کھٹکتا ہے۔ آپ نبی ﷺ کے صحابی ہیں۔ آپ سے پوچھنے آیا ہوں کہ اس بارہ میں آپ نے نبی ﷺ سے کوئی بات سنی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ آنحضرت ﷺ فرماتے تھے اگر سفر میں ہوں تو تین دن رات اپنے موزے پہنے رکھ سکتے ہیں۔ چاہے کوئی پیشاب پاخانہ کرے یا سوئے۔ البتہ کوئی شخص جنبی ہو اور اسے نہانا ضروری ہو، تو پھر موزے اتارنے کا حکم ہے۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ عشق و محبت کے بارہ میں بھی کوئی بات آپ نے سنی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں، ہم ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک دیہاتی آدمی نے بلند آواز سے آپﷺ کو اے محمد! کہہ کر پکارا۔ آپﷺ نے بھی اسی لہجہ میں اس کو ہاں میں جواب دیا۔ میں نے اسے کہا تیرا ستیاناس ہو، تو نبی ﷺ کے حضور میں ادب کا طریق اختیار کر اور آہستہ بول کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دربار میں اونچی آواز نکالنے سے منع فرمایا ہے۔ وہ دیہاتی کہنے لگا خدا کی قسم! میں تو آہستہ نہیں بولوں گا۔ پھر اس نے کہا، یہ بندہ آپ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان میں شامل نہیں۔ (یعنی ان جیسے اعمال اس کے نصیب میں نہیں)۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن انسان اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی مسلمان یا مومن بندہ وضوء کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرہ سے ہر وہ خطا پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتی ہے جو اس نے اپنی آنکھوں سے کی ہوتی ہے اور جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو وہ ساری خطائیں جو اس نے اپنے ہاتھوں سے کی تھیں پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتی ہیں اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ وہ ساری خطائیں نکل جاتی ہیں جن کی طرف اس کے پاؤں چل کر گئے تھے یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو کر نکلتا ہے۔
حضرت عثمان بن عفانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے وضوء کیا اور اچھی طرح وضوء کیا تو اس کے جسم سے اس کی خطائیں نکل جاتی ہیں یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی (خطائیں) نکل جاتی ہیں۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غُسلِ جنابت فرماتے تو سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرمگاہ دھوتے۔ پھر نماز کے وضوء کی طرح وضوء فرماتے۔ پھر پانی لیتے اور اپنی انگلیوں کو بالوں کی جڑوں میں داخل کرتے یہان تک کہ جب آپؐ دیکھتے کہ اچھی طرح صفائی ہو گئی ہے تو اپنے سر پر دونوں ہاتھوں سے تین دفعہ پانی ڈالتے۔ پھر اپنے سارے جسم پر پانی ڈالتے۔ پھر اپنے دونوں پاؤں دھوتے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ گناہ مٹاتا اور درجات بلند کرتا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا تمام قسم کی ناپسندیدگیوں کے باوجود پورا وضوء کرنا اور مساجد کی طرف زیادہ قدم اٹھانا اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا۔ پس یہی رباط ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے گھر میں وضوء کرے اور اللہ کے گھروں میں کسی گھر کو چل کر جائے۔ تاکہ اللہ کے فرائض میں سے کوئی فریضہ ادا کرے تو اس کے دونوں قدموں میں سے ایک قدم برائی دور کرے گا اور دوسرا قدم درجہ بڑھائے گا۔