بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 72 hadith
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ! کونسا عمل سب سے افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا پھر کونسا؟ آپؐ نے فرمایا والدین سے نیک سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا پھر کونسا؟ آپؐ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر میں خاموش ہو رہا اور رسول اللہ ﷺ سے مزید کچھ نہ پوچھا۔ اور اگر میں آپؐ سے اَور پوچھتا تو مجھے اَور بھی بتاتے۔
حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا نماز کی کلید طہارت ہے۔ نماز کی تحریم تکبیر ہے۔ نماز کی تحلیل تسلیم ہے۔ (یعنی اللہ اکبر کہنے کے بعد نماز کے علاوہ کوئی اور بات یا کام کرنا منع ہو جاتا ہے اور سلام کے بعد وہ تمام کام جو نماز میں منع تھے جائز ہو جاتے ہیں)۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جماعت کے ساتھ نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے افضل ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں ــــ اور وہ انصار میں سے تھے ـــــ کہ نبیﷺ کے پاس جبریل آئے اور کہا اٹھیے نماز پڑھیں۔ چنانچہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ سورج ڈھلنے لگا۔ پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا۔ پھر سورج غروب ہونے پر مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر عشاء کی نماز شفق یعنی سفیدی کے غائب ہونے کے بعد پڑھی پھر طلوع فجر کے بعد صبح کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد دوسرے دن پھر جبرئیل آئے اور ان کے بتانے پر آپﷺ نے ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا تھا۔ پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس سے دو گنا ہو گیا تھا اور مغرب کی نماز کل والے وقت پر ہی پڑھی۔ پھر عشاء کی نماز آدھی رات یا تیسرا حصہ رات گزرنے پر پڑھی اور صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھی جبکہ روشنی پوری طرح پھیل چکی تھی۔ اس کے بعد حضرت جبرئیلؑ نے کہا ہر نماز کا افضل اور بہترین وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان کا ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تکبیر (یعنی اللہ اکبر) کہہ کر نماز شروع کرتے، اس کے بعد سورۃ فاتحہ پڑھتے۔ جب رکوع کرتے تو نہ سر کو اوپر اٹھا کر رکھتے نہ جھکاتے بلکہ پیٹھ کے برابر اور ہموار رکھتے اور جب رکوع سے اٹھتے تو سیدھے کھڑے ہو کر پھر سجدہ میں جاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو پوری طرح بیٹھنے کے بعد دوسرا سجدہ کرتے۔ اور ہر دو رکعتوں کے بعد تشہد کے لئے بیٹھتے، اپنا دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور بایاں بچھا دیتے اور اس طرح بیٹھ کر تشہد پڑھتے۔ اور شیطان کی طرح بیٹھنے (یعنی ایڑیوں پر بیٹھنے) سے منع فرماتے اور سجدہ میں بازو بچھانے سے منع فرماتے جس طرح کہ کتا اپنے بازو بچھا کر بیٹھتا ہے۔ آخر میں آپ ﷺ السلام علیکم و رحمۃ اللٰہ کہہ کر نماز ختم کرتے۔
حضرت مالکؓ نے بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کے پاس آئے اور ہم تقریباً ایک ہی عمر کے جوان تھے۔ ہم آپ کے پاس بیس دن اور راتیں رہے۔ رسول اللہ ﷺ بہت ہی مہربان اور نرم دل تھے۔ جب آپ سمجھے کہ ہمیں اپنے گھر والوں سے ملنے کی خواہش ہے یا کہا ہم مشتاق ہیں، تو آپؐ نے ان لوگوں کی بابت ہم سے پوچھا جن کو ہم اپنے پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ہم نے آپؐ کو بتایا۔ آپؐ نے فرمایا اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ اور ان میں رہو، اُنہیں تعلیم دو اور انہیں نیک باتیں بتاؤ۔ آپؐ نے بعض باتوں کا ذکر کیا جنہیں میں یاد رکھتا ہوں یا یہ کہا میں یاد نہیں رکھتا اور فرمایا تم اسی طرح نماز پڑھنا، جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے ایک تمہارے لیے اذان دے اور چاہیے کہ تم میں سے بڑا تمہارا امام ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ آدمی کی نماز اس کے گھر اور اس کے بازار میں نماز کی نسبت بیس سے کچھ درجہ زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اس طرح کہ جب تم میں سے کوئی وضوء کرتا ہے اور اچھی طرح وضوء کرتا ہے پھر مسجد میں آتا ہے اور نماز کے سوا کوئی چیز اسے اس پر آمادہ نہیں کرتی اور اس کا نماز کے علاوہ کوئی ارادہ نہیں ہوتا تو جو قدم بھی وہ اٹھاتا ہے اس کے ساتھ اس کا ایک درجہ اونچا کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے ایک برائی دور کر دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے اور وہ اس وقت تک نماز میں ہی ہوتا ہے جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے۔ اور فرشتے تم میں سے ہر اُس شخص کے لئے دعائیں کرتے ہیں جو اپنی جگہ پر رہتا ہے جہاں اُس نے نماز پڑھی۔ اور وہ (فرشتے) کہتے ہیں اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ اے اللہ! اسے بخش دے۔ اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما جب تک کہ وہ کسی کو تکلیف نہ دے اور جب تک وہ اس میں کوئی نئی صورت نہ پیدا کرے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب نماز کھڑی ہو جائے تو اس کی طرف دوڑ کر نہ آؤ بلکہ چلتے ہوئے آؤ اور تم پر سکینت لازم ہے۔ جو (نماز کا حصہ) تمہیں مل جائے وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے (بعد میں) پورا کر لو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہہ دی جائے تو دوڑ کر اس کی طرف نہ آؤ بلکہ اس کی طرف آؤ جبکہ تم پر سکینت لازم ہے اور جو (نماز کا حصہ) تم پالو وہ پڑھ لو اور جو تم سے رہ جائے اسے پورا کرلو کیونکہ جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔