بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 72 hadith
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں حضرت معاذؓ نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے پھر آ کر اپنے لوگوں کی اِمامت کرتے تھے۔ ایک رات انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کی پھر اپنے لوگوں کے پاس آ کر ان کی امامت کی تو اس میں سورہ بقرہ شروع کر دی اس پر ایک آدمی الگ ہو گیا اور سلام پھیرا، اکیلے نماز پڑھی اور جانے لگا۔ اس پر لوگوں نے اسے کہا کہ اے فلاں کیا تو منافق ہو گیا ہے؟ اس پر اس نے جواب دیا نہیں خدا کی قسم اور میں ضرور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جاؤں گا اور ضروریہ آپؐ کو بتاؤں گا۔ چنانچہ وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! ہم پانی لانے والے اونٹ رکھتے ہیں دن بھر کام کرتے ہیں اور حضرت معاذؓ نے آپؐ کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کی اور پھر آ کر سورہ بقرہ شروع کر دی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ حضرت معاذؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے معاذ! کیا تم آزمائش میں ڈالنے والے ہو! یہ پڑھا کرو یہ پڑھا کرو۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا اور الضُّحَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى اور سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى کی تلاوت کیا کرو۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ چار رکعت ظہر سے پہلے نہیں چھوڑا کرتے تھے اور دو رکعتیں صبح سے پہلے۔
حضرت معاذ بن جبلؓ اپنے قبیلہ میں نماز پڑھایا کرتے تھے۔ حضرت حرامؓ آئے ان کا ارادہ اپنے نخلستان کو پانی دینے کا تھا۔ وہ مسجد میں آئے تاکہ لوگوں کے ساتھ نماز ادا کریں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت معاذؓ نے نماز کو طویل کر دیا ہے تو انہوں نے اپنی نماز مختصر کی اور اپنے باغیچہ میں جا کر پانی دینے لگے۔ حضرت معاذؓ نے جب نماز ختم کی تو انہیں بتایا گیا کہ حضرت حرامؓ مسجد میں آئے جب انہوں نے دیکھا کہ آپؓ نے نماز لمبی کر دی ہے تو انہوں نے اپنی نماز مختصر کی اور اپنے باغ کو پانی دینے لگے۔ حضرت معاذؓ نے کہا وہ منافق ہے اپنے باغیچہ کو پانی دینے کی غرض سے نماز اس طرح جلدی سے پڑھتا ہے (یہ کیسی نماز ہے) حضرت حرامؓ کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت معاذؓ بھی آپﷺ کے پاس بیٹھے تھے۔ حضرت حرامؓ نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ! میرا ارادہ اپنے باغیچہ کو پانی دینے کا تھا (لیکن چونکہ نماز کا وقت تھا) اس لئے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی غرض سے مسجد آیا (کہ پہلے نماز پڑھ لوں پھر باغیچہ کو پانی دوں گا) جب معاذ نے نماز بہت لمبی کر دی تو میں نے خود ہی نماز مختصر کر کے پڑھ لی۔ اس پر معاذ نے مجھے طعنہ دیا کہ میں منافق ہوں۔ نبیﷺ (حضرت حرامؓ کی یہ شکایت سن کر) معاذؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہو؟ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہو؟ لوگوں کو لمبی نماز نہ پڑھاؤ بلکہ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اور الشَّمْسِ وَضُحَاهَا اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرو۔
حضرت معاویہ بن حکم اَلسُّلَمِیؓ نے بیان کیا کہ اس اثناء میں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے کسی شخص نے چھینک ماری۔ اس پر میں نے یرحمک اللہ کہا کہ اللہ تجھ پر رحم کرے۔ تو لوگ مجھے گھورنے لگے۔ میں نے کہا میری ماں مجھے کھوئے تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ مجھے دیکھنے لگے ہو؟ اس پر وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھ لی۔ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں میں نے آپؐ سے بہتر معلم نہ تو آپؐ سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ آپؐ کے بعد۔ خدا کی قسم! نہ تو آپؐ نے مجھے ڈانٹا اور نہ مجھے مارا نہ مجھے بُرا بھلا کہا (صرف یہ) فرمایا یہ نماز ہے اس میں کوئی انسانی کلام مناسب نہیں یہ تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرآن کی قراءت ہے یا جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے عرض کیا کہ یا رسولﷺ اللہ! میں جاہلیت کے زمانہ سے نیا نیا آیا ہوں اور یقیناً اب اللہ (دین) اسلام کو لایا ہے اور ہم میں بعض آدمی ایسے ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں آپؐ نے فرمایا کہ ان کے پاس مت جاؤ۔ اس نے کہا کہ ہم میں بعض آدمی ایسے ہیں جو شگون لیتے ہیں آپؐ نے فرمایا یہ ایک ایسی بات ہے جسے وہ اپنے سینوں میں پاتے ہیں پس یہ ان کے لئے (کوئی) روک نہ بنے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے۔ ایک شخص آیا اور اس نے نماز پڑھی۔ پھر اس نے نبی ﷺ کو سلام کیا۔ آپؐ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا واپس جاؤ اور نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ چنانچہ وہ لوٹ گیا۔ پھر اس نے اسی طرح ہی نماز پڑھی جس طرح (پہلے) پڑھی تھی۔ پھر وہ آیا اور اس نے نبی ﷺ کو سلام کیا۔ آپؐ نے فرمایا واپس جاؤ اور نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ آپؐ نے تین بار ایسا ہی فرمایا۔ اس نے کہا اس ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ اس لئے آپؐ مجھے سکھائیں۔ آپؐ نے فرمایا جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہو۔ پھر قرآن میں سے جو میسر ہو، پڑھو۔ پھر رکوع کرو۔ یہاں تک کہ رکوع میں تمہیں اطمینان ہو جائے۔ پھر سر اٹھاؤ۔ یہاں تک کہ اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ۔ پھر سجدہ کرو۔ یہاں تک کہ سجدہ میں تمہیں اطمینان ہو جائے۔ پھر سر اٹھاؤ۔ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔ الغرض اپنی ساری نماز میں اسی طرح ادا کرو۔
حضرت عتبانؓ بن مالکؓ جو نبی ﷺ کے انصار صحابہؓ میں سے تھے جو (غزوہ) بدر میں شریک ہوئے تھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسولﷺ اللہ! میری بینائی کمزور ہو گئی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں۔ جب بارشیں ہوتی ہیں تو وہ وادی جو میرے اور ان کے درمیان ہے بہہ پڑتی ہے اور میں ان کی مسجد میں جاکر انہیں نماز نہیں پڑھا سکتا۔ یا رسولﷺ اللہ! میری خواہش ہے کہ آپؐ تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھیں جسے میں نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انشاء اللہ میں ضرور ایسا کروں گا۔ حضرت عتبانؓ کہتے ہیں اگلی صبح جب دن چڑھا تو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ صدیق تشریف لائے رسول اللہ ﷺ نے اجازت چاہی۔ میں نے اجازت دی۔ جب آپؐ (گھر میں آئے تو) بیٹھے نہیں یہانتک کہ اندر تشریف لے آئے۔ فرمایا کہ تم اپنے گھر میں کہاں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے گھر کے ایک کونہ کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور ہم بھی آپؐ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں اور سلام پھیرا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے آپؐ کو خزیر کے لئے روک لیا جو ہم نے آپؐ کے لئے تیار کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ محلہ کے بعض اور افراد بھی ہمارے ارد گرد سے آ گئے۔ یہانتک کہ گھر میں آدمیوں کی خاصی تعداد جمع ہو گئی۔ اُن میں سے کسی نے کہا مالکؓ بن دُخشُن کہاں ہے؟ ایک نے کہا کہ وہ تو منافق ہے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت نہیں کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کے بارہ میں یہ مت کہو۔ کیا تمہیں پتہ نہیں کہ اس نے اللہ کی رضا چاہتے ہوئے لَا اِلٰہَ اِلَا اللّٰہُ کا اقرار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسولﷺ بہتر جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے کہا کہ ہم تو اس کی توجہ اور اس کی خیر خواہی منافقین کے لئے ہی دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اللہ کی رضا چاہتے ہوئے لَا اِلٰہَ اِلَا اللّٰہُ کا اقرار کیا اللہ اس پر آگ کو حرام فرما چکا ہے۔
حضرت جابر بن اسودؓ یا اسود بن جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانہ مبارک میں دو آدمیوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ مسجد میں نماز باجماعت ہو چکی ہوگی گھر میں ظہر کی نماز پڑھی اور پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ رسول اللہﷺ نماز پڑھا رہے ہیں (وہ نماز میں شامل ہونے کی بجائے) مسجد میں ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے کہ ایک مرتبہ تو وہ نماز پڑھ چکے ہیں دوبارہ وہی نماز پڑھنا درست نہیں۔ جب رسول اللہﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد انہیں دیکھا کہ وہ نماز میں شامل نہیں ہوئے ہیں تو انہیں بلوایا وہ دونوں خوف کے مارے کانپتے ہوئے آئے کہ شاید ان سے کوئی جرم سرزد ہوگیا ہے۔ آپؐ نے ان سے نماز نہ پڑھنے کی وجہ پوچھی۔ انہوں نے جب امر واقعہ بتایا تو آپؐ نے فرمایا جب اکیلے نماز پڑھ چکے ہو تو دوبارہ جماعت کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیا کرو خواہ تم پہلی ادا کردہ نماز کو ہی فرض سمجھتے ہو۔
عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نفل نماز کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حضورﷺ میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے پھر باہر تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے پھر اندر تشریف لاتے اور دو رکعت ادا فرماتے اور آپؐ لوگوں کو مغرب پڑھاتے پھر (اندر) تشریف لاتے اور دو رکعت ادا فرماتے پھر آپؐ لوگوں کو عشاء پڑھاتے اور میرے گھر تشریف لاتے اور دو رکعت ادا فرماتے اور آپؐ رات کو نو رکعت پڑھتے جن میں وتر شامل ہیں۔ اور آپؐ لمبی رات کھڑے ہو کر اور لمبی رات بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب آپؐ کھڑے ہو کر قرات فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعت پڑھتے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ حضرت حفصہؓ نے مجھے بتایا کہ جب مؤذن صبح کی اذان دے کر بیٹھ جاتا اور صبح نمودار ہوتی تو رسول اللہ ﷺ ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے، پیشتر اس کے کہ باجماعت نماز شروع کی جاتی۔