بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 72 hadith
حضرت حفصہؓ فرماتی ہیں جب فجر طلوع ہو جاتی تو رسول اللہ ﷺ صرف دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔
حضرت زید بن ثابتؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے گھروں میں نماز (سنن و نوافل) پڑھا کرو کیونکہ جماعت کے ساتھ فرضوں کے سوا باقی نماز گھر میں پڑھنا بہترین نماز ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ رات (کے پچھلے حصہ) میں گیارہ رکعت تہجد پڑھتے۔ جب فجر طلوع ہوتی تو دو ہلکی رکعتیں پڑھتے اور پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔ جب موذن نماز کے لیے اطلاع دیتا (تو آپؐ نماز پڑھانے تشریف لے جاتے)۔
انس بن سیرین کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمرؓ سے سوال کیا کہ صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعت کے بارہ میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا میں ان میں لمبی قراء ت کروں؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ رات کو دو دو رکعت ادا فرماتے۔ پھر ایک رکعت کے ساتھ وتر کرتے۔ وہ (انس) کہتے ہیں میں نے کہا میں اس بارہ میں آپ سے نہیں پوچھ رہا۔ انہوں (حضرت ابن عمرؓ) نے کہا تم سادہ لوح ہو۔ کیا تم مجھے اتنی مہلت بھی نہیں دو گے کہ میں تمہارے سامنے پوری حدیث بیان کروں۔ رسول اللہ ﷺ رات کو دو دو رکعت کر کے پڑھتے اور ایک رکعت سے وتر کرتے اور صبح (کی نماز) سے قبل دو رکعت پڑھتے گویا کہ اذان آپ کو سنائی دے رہی ہے۔
عیسیٰ بن حفص بن عاصم بن حضرت عمر بن خطابؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مکہ کے رستہ میں مَیں حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ تھا وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں ظہر دو رکعتیں پڑھائیں پھر ان کی نظر پڑی جہاں انہوں نے نماز پڑھائی تھی۔ پھر وہ آگے بڑھے تو ہم بھی ان کے ہمراہ آگے بڑھے یہاں تک کہ وہ اپنے پڑاؤ پر پہنچ گئے۔ وہ بیٹھ گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ پھر انہوں نے کچھ لوگوں کو کھڑے دیکھا تو پوچھا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے بتایا کہ یہ نوافل پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں نے نوافل (غالباً سنتیں) پڑھنے ہوتے تو ضرور اپنی نماز پوری پڑھتا۔ اے میرے بھتیجے! میں رسول اللہؐ کے ہمراہ سفر میں رہا ہوں۔ آپؐ نے کبھی دو رکعت سے زائد نہیں پڑھیں یہانتک کہ اللہ نے آپؐ کو وفات دے دی۔ میں حضرت ابو بکرؓ کے ساتھ رہا۔ انہوں نے بھی دو رکعت سے زائد (نہیں پڑھیں) یہانتک کہ اللہ نے ان کو وفات دے دی۔ میں حضرت عمرؓ کے ساتھ بھی رہا۔ انہوں نے دو رکعت سے زائد (نہیں پڑھیں) یہانتک کہ اللہ نے ان کو وفات دے دی۔ پھر میں حضرت عثمانؓ کے ساتھ بھی رہا۔ انہوں نے بھی دو رکعت سے زائد رکعتیں (نہیں پڑھیں) یہانتک کہ اللہ نے ان کو وفات دے دی اور اللہ فرما چکا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (احزاب 22) یقیناً اللہ کے رسولؐ میں تمہارے لئے نیک نمونہ ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر اور عصر نیز مغرب اور عشاء بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع کر کے پڑھیں۔ وکیع کی روایت میں ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا تاکہ آپ ؐ اپنی امت پر کوئی تنگی نہ ڈالیں۔ ابو معاویہ کی روایت میں (لِمَ فَعَلَ ذَالِکَ کے بجائے) مَا اَراد اِلیٰ ذَالِکَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر، عصر اور مغرب، عشاء مدینہ میں بغیر خوف اور بارش کے جمع کیں۔ حضرت ابن عباسؓ سے کہا گیا آپؐ کی اس سے کیا منشاء تھی۔ انہوں نے کہا کہ آپؐ نے چاہا کہ آپؐ اپنی امت کو تکلیف میں نہ ڈالیں۔
حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ نماز میں ہم نے محسوس کیا کہ کوئی کمی بیشی ہوئی ہے۔ نماز کے بعد ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! نماز کے بارہ میں کوئی نئی ہدایت نازل ہوئی ہے؟ حضورؐ نے فرمایا کیا بات ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ حضورؐ نے ابھی اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا میں بھی انسان ہوں جس طرح تم بھولتے ہو۔ اسی طرح میں بھی بھول سکتا ہوں۔ جب تم میں سے کوئی نماز میں بھول جائے تو دو سجدے سہو کرے پھر آپؐ نے قبلہ رخ ہو کر دو سجدے کیے۔
حضرت ثوبانؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے نیز کہتے اے اللہ! تو سلام ہے اور سلامتی کا منبع ہے۔ اے جلال اور عزت والے! تو بہت برکت والا ہے۔ ولید کہتے ہیں کہ میں نے اوزاعی سے پوچھا کہ استغفار کیسے کرتے؟ انہوں نے کہا تم کہتے ہو استغفراللہ استغفراللہ۔