بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 72 hadith
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اے معاذ! بخدا میں یقیناً تم سے محبت کرتا ہوں۔ پھر فرمایا اے معاذ ! میں تمہیں تاکید کرتا ہوں ہر نماز کے بعد ہرگز نہ چھوڑنا کہ تم کہو اے اللہ میری مدد فرما اپنے ذکر کے لیے اور اپنے شکر کے لیے اور اپنی عبادت کی خوبصورتی کے لیے۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ
مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس حالت میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ رونے کی بنا پر آپﷺ کے سینہ میں آواز تھی چکی کی آواز کی طرح۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ غریب مہاجر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مالدار لوگ بلند درجات اور دائمی نعمتیں لے گئے۔ آپؐ نے فرمایا وہ کیسے؟ انہوں نے کہا کہ وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں جیسے ہم روزے رکھتے ہیں مگر وہ صدقہ دیتے ہیں ہم صدقہ نہیں دیتے اور وہ غلام آزاد کرتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کرتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی بات نہ سکھاؤں جس کے ذریعہ تم اپنے سے سبقت لے جانے والوں کو پا لوگے اور اپنے سے بعد والوں سے آگے رہو گے اور کوئی تم سے آگے نہیں بڑھ سکے گا سوائے اس کے کہ وہ ایسا ہی کرے جیسا تم کرو۔ انہوں نے عرض کیا ضرور یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا ہر نماز کے بعد تم تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو گے اللہ اکبر کہو گے اور الحمدللہ کہو گے۔ (راوی) ابو صالح کہتے ہیں کہ غریب مہاجر پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دوبارہ آئے اور عرض کیا کہ ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی سن لیا ہے۔ وہ بھی ویسا ہی کرنے لگ گئے ہیں جو ہم کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔
ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز رمضان میں کیسی تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ آپؐ رمضان میں اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت نماز سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے اور اُن کی خوبی اور لمبائی کے متعلق نہ پوچھ۔ پھر چار رکعت پڑھتے اور اُن کی خوبی اور لمبائی کے متعلق نہ پوچھ۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ میں نے (ایک بار آپؐ سے) عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپؐ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ فرمایا عائشہؓ ! میری آنکھیں تو سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے دوست سے دشمنی کی۔ میں اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ میرا بندہ جتنا میرا قرب اس چیز سے، جو مجھے پسند ہے اور میں نے اس پر فرض کردی ہے، حاصل کرسکتا ہے اتنا کسی اور چیز سے حاصل نہیں کرسکتا اور نوافل کے ذریعہ سے میرا بندہ میرے قریب ہو جاتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب میں اس کو اپنا دوست بنا لیتا ہوں تو اس کے کان بن جاتا ہوں۔ جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ (یعنی میں ہی اس کا کارساز ہوتا ہوں) اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کو دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ چاہتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔
حضرت ابو سعید ؓ نے بیان کیا کہ ایک عورت نبیﷺ کے پاس آئی اور ہم آپؐ کے پاس تھے۔ اس نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرا خاوند صفوان بن معطل جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتا ہے اور میرا روزہ کھلوا دیتا ہے جب میں روزہ رکھتی ہوں اور یہ فجر کی نماز اس وقت پڑھتا ہے جب سورج نکلتا ہے۔ حضرت ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ اس وقت صفوان آپؐ کی مجلس میں موجود تھے۔ آپ نے ان پر ان کی بیوی کی شکایت کے متعلق دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا کہ اس کا یہ کہنا کہ یہ جب نماز پڑھتی ہے میں اس کو مارتا ہوں کہ وہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے۔ میں نے اس کو منع کیا۔ آپؐ نے فرمایا اگر ایک سورۃ بھی ہوتی تو لوگوں کے لیے کافی ہوتی۔ اور اس کا یہ کہنا کہ میں اس کا روزہ کھلوا دیتا ہوں کہ یہ روزے رکھتی چلی جاتی ہے اور چونکہ میں جوان آدمی ہوں اس لئے صبر نہیں کرسکتا۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ اس دن آپؐ نے فرمایا کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے اور اس کا یہ کہنا کہ میں سورج نکلنے کے بعد فجر کی نماز پڑھتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ایسے گھر والا آدمی ہوں اور یہ بات معروف ہے کہ ہمیں سورج نکلنے سے پہلے جاگ نہیں آتی۔ آپؐ نے فرمایا جب تمہاری آنکھ کھلے تو نماز پڑھ لیا کرو۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپؐ کے پاس ایک عورت آئی اور عرض کیا کہ میرا خاوند صفوان بن معطل (مجھ سے بُرا سلوک کرتا ہے) جب میں نماز پڑھوں تو مجھے مارتا ہے اور اگر روزہ رکھوں تو روزہ کھلوا دیتا ہے اور خود فجر کی نماز ایسے وقت میں پڑھتا ہے جب سورج نکل آیا ہوتا ہے۔ صفوان اس وقت مجلس میں موجود تھے۔ آپؐ نے ان سے ان شکایات کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! یہ جو کہتی ہے کہ میں نماز پڑھوں تو یہ مارتا ہے۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نماز میں (لمبی لمبی) دو سورتیں پڑھتی ہے۔ (اور مجھے کام پر جانا ہوتا ہے، اس لئے) میں نے اسے کہا ہے کہ چھوٹی سورت پڑھے (تاکہ یہ میرے لئے کھانا پکا سکے اور میں کام پر جا سکوں) اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر قرآن کی ایک ہی سورت ہو تو لوگوں کے لئے کافی ہے (یعنی ایک سورۃ پڑھنے سے نماز ہو جاتی ہے)۔ پھر صفوان نے کہا رہی اس کی یہ شکایت کہ اگر میں روزہ رکھوں تو یہ روزہ تڑوا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ روزے رکھتی ہی چلی جاتی ہے اور (آپ جانتے ہیں کہ میں نوجوان ہوں) اتنا صبر نہیں کر سکتا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر کوئی عورت نفلی روزے نہ رکھے۔ اب رہا (اس کا آخری) اعتراض کہ میں نماز اس وقت پڑھتا ہوں جب سورج طلوع ہو جاتا ہے تو ہم ایسے لوگ ہیں کہ ہمارے بارہ میں سب لوگوں کو معلوم ہے کہ ہم سورج چڑھے اٹھتے ہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا اے صفوان! جب تم جاگو تو نماز پڑھ لیا کرو۔