بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 29 hadith
حضرت بلالؓ سے روایت ہے کہ وہ نماز فجر کی اطلاع دینے کے لئے نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اُن سے کہا گیا کہ آپؐ سوئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ۔ پھر فجر کی اذان میں یہ کلمات برقرار رکھے گئے اور یہی طریق قائم ہوگیا۔
حضرت زِیاد بن حارث صُدَائیؓ (صدا قبیلہ کے فرد) نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ آپؐ نے مجھے ارشاد فرمایا اور میں نے اذان دی۔ پھر حضرت بلالؓ نے اِقامت کہنے کا ارادہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (ہمارے) صدائی بھائی نے اذان دی ہے۔ جو اذان دے وہی اقامت کہتا ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مؤذن اذان دے، تو تم بھی اس جیسے الفاظ کہو۔
عبداللہ بن عتبہ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ مجھے میری پھوپھی حضرت ام حبیبہؓ نے بتایا کہ جب رسول اللہ ﷺ ان کے پاس ان کی دن اور رات کی باری میں تشریف فرما ہوتے اور آپؐ مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تو آپؐ وہی کہتے جو مؤذن کہہ رہا ہوتا تھا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم اذان سنو تو اسی طرح کہو جیسے مؤذن کہتا ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے مؤذن (کی اذان) سن کر یہ کہا کہ وَاَنا اَشْہَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْہَدُ اَ نَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا (ترجمہ) میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ ایک ہے اُس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمدؐ کے نبی ہونے پر راضی ہوں تو اس کے گناہ بخش دئیے گئے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اذان سننے کے وقت یہ دعا کی اَللَّہُمَّ رَبَّ ھَذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّا مَّۃِ وَالصَّلاَۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسیلَۃَ وَالْفَضِیلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَحْموُدًا الَّذی وَعَدْتَّہُ (ترجمہ) اے اللہ! جو اس دعوۃ کامل اور اس قائم ہونے والی نماز کا رب ہے۔ محمد ﷺ کو وسیلہ عطا فرما اور فضیلت عطا فرما اور آپؐ کو اس مَقام محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، تو قیامت کے دن شفاعت اس کے لئے واجب ہوگئی۔
عبد الرحمن بن ابی صعصعہ نے اپنے والد سے روایت کی _ اور ان کے والد حضرت ابو سعیدؓ (خدری) کی زیرِ کفالت تھے _ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے حضرت ابو سعیدؓ نے کہا کہ جب تم صحراء میں ہو تو اونچی آواز میں اذان دیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس اذان کو کوئی جنّ و انس اور شجر و حجر نہیں سُنتے مگر وہ اس کے لئے گواہی دیتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا مؤذن کے لئے اس کی آواز کی دوری کے مطابق مغفرت ہوگی۔ اور اس کے لئے ہر تر اور خشک چیز مغفرت مانگتی ہے اور نماز میں حاضر ہونے والے کے لئے پچیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور ان دونوں کے درمیان (غلطیوں کا) کفارہ ہوجائیں گی۔
حضرت معاویہ بن ابو سفیانؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذان دینے والے، قیامت کے دن، لوگوں میں سب سے لمبی گردن والے ہوں گے۔