بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 29 hadith
محمد بن عبد اللہ بن زیداپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے( نماز کے بلانے کے لئے) بگل کا سوچا ، پھر ناقوس 1 کا ارشاد فرمایا 2 ، پس وہ تراشا گیا۔ پھر حضرت عبد اللہؓ بن زید کو خواب دکھائی گئی انہوں نے بتایا میں نے خواب میں ایک آدمی دیکھا۔ اُس پر دو سبز کپڑے تھے اور وہ آدمی ناقوس اٹھائے ہوئے تھا ۔ میں نے اُس کو( خواب میں ہی) کہا اے اللہ کے بندے تم یہ ناقوس فروخت کرو گے ؟ اُس نے کہا تم اس سے کیا کرو گے ؟ میں نے کہا کہ میں اس کے ذریعہ نماز کیلئے بلایا کروں گا ۔ اُس نے کہا کیا میں تجھے اس سے بہتر طریق نہ بتاؤں؟ میں نے کہا وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا تو کہ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ حَیََّّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیََّّ عَلَی الصَّلَاۃ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ (ترجمہ) اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ؐاللہ کے رسول ہیں ۔نماز کی طرف آؤ ، نماز کی طرف آؤ۔ کامیابی کی طرف آؤ ، کامیابی کی طرف آؤ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ راوی کہتے ہیں حضرت عبد اللہؓ بن زید نکلے اور وہ رسول اللہ ﷺکے پاس آئے اور حضور ﷺ کو اپنی رؤیا بتائی۔انہوں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! میں نے (خواب میں) ایک آدمی دیکھا اُس پر دوسبز کپڑے تھے وہ ناقوس اٹھائے ہوئے تھا۔پھر ساری بات آپؐ کے سامنے بیان کی۔ رسول اللہ ﷺنے (صحابہ ؓ سے ) فرمایا تمہارے دوست نے رؤیا دیکھی ہے ( پھر عبد اللہ بن زید ؓ کو ارشاد فرمایا ) تم بلالؓ کے ساتھ مسجد جاؤ اور اُسے یہ ( کلمات )بتاتے جاؤ اور وہ ان کو بلند آواز سے پکاریں کیونکہ تمہاری نسبت وہ زیادہ بلند آواز والے ہیں۔ انہوں (حضرت عبد اللہ بن زیدؓ) نے کہا کہ میںبلالؓکے ساتھ مسجد کی طرف گیا اورمیں انہیں یہ ( کلمات )بتاتا جاتااور وہ انہیں بلند آواز کے ساتھ پکارتے جاتے۔ حضرت عمربن خطابؓ نے یہ آواز سنی۔ وہ باہر تشریف لائے اور انہوں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! خدا کی قسم میں نے بھی خواب میں وہی دیکھا جو اُنہوں نے دیکھا۔ (راوی) اَبُوعُبَید نے کہا مجھے راوی) ابو بکر حَکَمی نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہؓ بن زید انصاری نے اس ضمن میں اپنے اشعار کہے : میں جلال اور عزت والے اللہ کی اذان سکھلانے پر بہت تعریف کرتا ہوں ، جب کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے بشارت دینے والا یہ (اذان) لے کر آیا۔ کیا ہی معزز ہے وہ بشارت دینے والا اور وہ میرے پاس ان کو متواتر تین راتیں لاتا رہا اور جب بھی آیا مجھے عزت میں بڑھایا۔
رسول اللہ ﷺ کے مؤذن حضرت سعدؓ٭ (بن عائذ)سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ
عون بن ابو جحیفہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس أبطحمیں جبکہ آپؐ سُرخ رنگ کے خیمہ میں تھے آیا۔ حضرت بلالؓ نکلے اور اذان دی اور اپنی اذان میں رُخ پھیرا اور اپنی دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالیں۔
حضرت ابن عمرؓ نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺ
حضرت جابر بن سمرہ ؓ نے بیان کیا کہ حضرت بلالؓ اذان کے وقت میں تاخیر نہ کرتے تھے، ہاں کبھی اقامت میں کچھ دیر کردیتے تھے ۔
حضرت عثمان بن ابی العاص ؓنے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے جو آخری تاکیدی حکم مجھے دیا وہ یہ تھا کہ میں مؤذن مقرر نہ کروں جو اذان پر معاوضہ لے ۔
حضرت بلالؓ نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایاکہ فجر میں تثویب٭ کروں اور آپؐ نے مجھے منع فرمایا کہ میں عشاء میں تثویب کروں۔
سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے نماز کے لئے جو فکر درپیش تھی اس بارہ میں لوگوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے بوق کا ذکر کیا۔ آپ ؐنے اُسے یہود کی وجہ سے ناپسند کیا ، پھر انہوں نے ناقوس کا ذکر کیا ، اُسے آپ ؐنے عیسائیوں کی وجہ سے ناپسند کیا۔ پس اُسی رات اذان خواب میں ایک انصاریؓ آدمی کو دکھائی گئی جو عبد اللہؓ بن زید کہلاتے تھے اور حضرت عمر بن خطابؓ کوبھی ۔ انصاری تو رات کو ہی رسول اللہ ﷺکی خدمت میں گئے۔ رسول اللہ ﷺنے بلال ؓ کو اس کا حکم دیا۔اُنہوں نے اذان دی۔ (راوی) زہری نے کہا کہ حضرت بلالؓ نے نمازفجر کی اذان میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم_ نماز نیند سے بہتر ہے _ کا اضافہ کردیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی اسے قائم رکھا۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! میں نے بھی خواب میں اسی شخص کی طرح دیکھا ہاں مگر وہ مجھ سے سبقت لے گیا ۔
عبد اللہ بن مُحَیْرِیزسے روایت ہے ، وہ حضرت ابومحذورہ بن مِعْیَر ؓ کی کفالت میں پلنے والے یتیم تھے۔جب حضرت ابومحذورہ ؓنے ان (عبد اللہ بن مُحَیْرِیز کو شام کی طرف روانہ کرنے کے لئے تیاری کی تومیں ( عبداللہ بن مُحَیْرِیز) نے حضرت ابومحذورہؓ سے کہا اے میرے چچا! میں شام کی طرف روانہ ہورہا ہوں۔ مجھ سے آپ کی اذان کے بارہ میں سوال کیا جائے گا۔_انہوں نے مجھے بتایا کہ _ حضرت ابو محذورہ ؓنے بیان کیا کہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ نکلا اورہم راستہ میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے مؤذن نے رسول اللہ ﷺ کے پاس نماز کے لئے اذان دی ہم نے مؤذن کی آواز سنی ۔اس وقت ہم آپؐ سے اعراض کرنے والے تھے۔٭پس ہم چیخ چیخ کر اس کی نقل کرنے لگے اور ہم اس کا مذاق اُڑاتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے سنا اور آپ ؐ نے ہمیں بلانے کے لئے چند آدمیوں کو بھیجا۔ انہوں نے ہمیں آپؐ کے سامنے بٹھا دیا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا میں نے تم میں سے کس کی آواز کو سُنا جو بلند ہوئی۔ سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اور انہوں نے سچ ہی کہا تھا۔آپؐ نے ان سب کو بھیج دیا اور مجھے روک لیا اور مجھ سے فرمایا کھڑے ہو جاؤ اور اذان دو ، پس میں کھڑا ہوا اُس وقت مجھے رسول للہ ﷺ اور جس کا آپ مجھے حکم دے رہے تھے اُس سے زیادہ ناپسند اور کوئی چیز نہیں تھی۔ میں آپؐ کے سامنے کھڑا ہوا اور رسول اللہ ﷺ خود اذان (کے کلمات) مجھے بتانے لگے۔ فرمایا تم کہو اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَرأَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ(ترجمہ) اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں _ پھر مجھ سے فرمایا اپنی آواز(اور) بلند کرو (اور کہو ) _ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ حَیََّّ عَلَی الصَّلَاۃ حَیََّّ عَلَی الصَّلَاۃ حَیَّ عَلَی الْفَلَاح حَیَّ عَلَی الْفَلَاح اللَّہُ أَکْبَر اللَّہُ أَکْبَر لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ(ترجمہ)میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں ۔نماز کی طرف آؤ ، نمازکی طرف آؤ ، کامیابی کی طرف آؤ ، کامیابی کی طرف آؤ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ پھرجب میں اذان ختم کر چکا توآپؐ نے مجھے بلایا اور مجھے ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی ۔ پھر آپؐنے اپنا ہاتھ ابومحذورہؓ کی پیشانی پر رکھا ۔ پھر آپؐ نے اُن کے چہرے اور سینے پر ہاتھ پھیرااور اسے پھیرتے ہوئے ان کے جگر تک لے گئے۔پھر رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ حضرت ابو محذورہؓ کی ناف تک پہنچ گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تجھے برکت دے اور تجھ پر برکت ڈالے ۔ میں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! آپؐ مجھے مکہ میں اذان دینے پر مقرر فرماتے ہیں؟آپؐ نے فرمایا ہاں ! میں نے تمہیں مقرر کر دیا ہے ۔ پس مجھ میں رسول اللہ ﷺ کے لئے جو ناپسندیدگی تھی جاتی رہی اور یہ ساری کی ساری رسول اللہ ﷺ کی محبت میں تبدیل ہوگئی ۔ پھر میں رسول اللہ ﷺکے مکہ کے والی حضرت عَتّابؓ بن اَسِید کے پاس آیا ۔میں نے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق ان کی معیت میں نماز کے لئے اذان دی۔
حضرت ابومَحذُورہ ؓنے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اذان سکھائی انیس19 کلمات اور اقامت (سکھائی) سترہ 17کلمات ۔ اذان(یہ ہے) اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَرأَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ حَیََّّ عَلَی الصَّلَاۃ حَیََّّ عَلَی الصَّلَاۃ حَیَّ عَلَی الْفَلَاح حَیَّ عَلَی الْفَلَاح اللَّہُ أَکْبَر اللَّہُ أَکْبَر لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ (ترجمہ) اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ نماز کیلئے آؤ ، نماز کیلئے آؤ ۔ کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ اور اقامت کے سترہ کلمات اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر۔أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ ۔أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ۔ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ ۔حَیََّّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیََّّ عَلَی الصَّلَاۃِ۔ حَیَّ عَلَی الْفَلَاح ِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ ۔قَدْ قَامَتِ الصَّلا ۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلا ۃُ ۔ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ۔ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ(ترجمہ) اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ؐاللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ؐاللہ کے رسول ہیں ۔ نماز کی طرف آؤ ۔ نماز کی طرف آؤ ۔ کامیابی کی طرف آؤ۔ کامیابی کی طرف آؤ۔ کھڑی ہوگئی نماز ۔ کھڑی ہوگئی نماز ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔