محمد بن عبد اللہ بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (نماز کے بلانے کے لئے) بگل کا سوچا، پھر ناقوس کا ارشاد فرمایا، پس وہ تراشا گیا۔ پھر حضرت عبد اللہؓ بن زید کو خواب دکھائی گئی انہوں نے بتایا میں نے خواب میں ایک آدمی دیکھا۔ اُس پر دو سبز کپڑے تھے اور وہ آدمی ناقوس اٹھائے ہوئے تھا۔ میں نے اُس کو (خواب میں ہی) کہا اے اللہ کے بندے تم یہ ناقوس فروخت کرو گے؟ اُس نے کہا تم اس سے کیا کرو گے؟ میں نے کہا کہ میں اس کے ذریعہ نماز کیلئے بلایا کروں گا۔ اُس نے کہا کیا میں تجھے اس سے بہتر طریق نہ بتاؤں؟ میں نے کہا وہ کیا ہے؟ اس نے کہا تو کہ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ (ترجمہ) اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ۔ کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت عبد اللہؓ بن زید نکلے اور وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور حضور ﷺ کو اپنی رؤیا بتائی۔ انہوں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! میں نے (خواب میں) ایک آدمی دیکھا اُس پر دو سبز کپڑے تھے وہ ناقوس اٹھائے ہوئے تھا۔ پھر ساری بات آپؐ کے سامنے بیان کی۔ رسول اللہ ﷺ نے (صحابہؓ سے) فرمایا تمہارے دوست نے رؤیا دیکھی ہے (پھر عبد اللہ بن زیدؓ کو ارشاد فرمایا) تم بلالؓ کے ساتھ مسجد جاؤ اور اُسے یہ (کلمات) بتاتے جاؤ اور وہ ان کو بلند آواز سے پکاریں کیونکہ تمہاری نسبت وہ زیادہ بلند آواز والے ہیں۔ انہوں (حضرت عبد اللہ بن زیدؓ) نے کہا کہ میں بلالؓ کے ساتھ مسجد کی طرف گیا اور میں انہیں یہ (کلمات) بتاتا جاتا اور وہ انہیں بلند آواز کے ساتھ پکارتے جاتے۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے یہ آواز سنی۔ وہ باہر تشریف لائے اور انہوں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! خدا کی قسم میں نے بھی خواب میں وہی دیکھا جو اُنہوں نے دیکھا۔ (راوی) اَبُوعُبَید نے کہا مجھے (راوی) ابو بکر
نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہؓ بن زید انصاری نے اس ضمن میں اپنے اشعار کہے: میں جلال اور عزت والے اللہ کی اذان سکھلانے پر بہت تعریف کرتا ہوں، جب کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے بشارت دینے والا یہ (اذان) لے کر آیا۔ کیا ہی معزز ہے وہ بشارت دینے والا اور وہ میرے پاس ان کو متواتر تین راتیں لاتا رہا اور جب بھی آیا مجھے عزت میں بڑھایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اسْتَشَارَ النَّاسَ لِمَا يُهِمُّهُمْ إِلَى الصَّلاَةِ فَذَكَرُوا الْبُوقَ فَكَرِهَهُ مِنْ أَجْلِ الْيَهُودِ ثُمَّ ذَكَرُوا النَّاقُوسَ فَكَرِهَهُ مِنْ أَجْلِ النَّصَارَى فَأُرِيَ النِّدَاءَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَطَرَقَ الأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَيْلاً فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِلاَلاً بِهِ فَأَذَّنَ . قَالَ الزُّهْرِيُّ وَزَادَ بِلاَلٌ فِي نِدَاءِ صَلاَةِ الْغَدَاةِ الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فَأَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي رَأَى وَلَكِنَّهُ سَبَقَنِي .
سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نماز کے لئے جو فکر درپیش تھی اس بارہ میں لوگوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے بوق کا ذکر کیا۔ آپؐ نے اُسے یہود کی وجہ سے ناپسند کیا ، پھر انہوں نے ناقوس کا ذکر کیا ، اُسے آپؐ نے عیسائیوں کی وجہ سے ناپسند کیا۔ پس اُسی رات اذان خواب میں ایک انصاریؓ آدمی کو دکھائی گئی جو عبد اللہؓ بن زید کہلاتے تھے اور حضرت عمر بن خطابؓ کو بھی۔ انصاری تو رات کو ہی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے بلالؓ کو اس کا حکم دیا۔ اُنہوں نے اذان دی۔ (راوی) زہری نے کہا کہ حضرت بلالؓ نے نماز فجر کی اذان میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم _ نماز نیند سے بہتر ہے _ کا اضافہ کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی اسے قائم رکھا۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! میں نے بھی خواب میں اسی شخص کی طرح دیکھا ہاں مگر وہ مجھ سے سبقت لے گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ - وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ بْنِ مِعْيَرٍ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ - فَقُلْتُ لأَبِي مَحْذُورَةَ أَىْ عَمِّ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَإِنِّي أُسْأَلُ عَنْ تَأْذِينِكَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ قَالَ خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِالصَّلاَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ عَنْهُ مُتَنَكِّبُونَ فَصَرَخْنَا نَحْكِيهِ نَهْزَأُ بِهِ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا قَوْمًا فَأَقْعَدُونَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ . فَأَشَارَ إِلَىَّ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَصَدَقُوا فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي وَقَالَ لِي قُمْ فَأَذِّنْ . فَقُمْتُ وَلاَ شَىْءَ أَكْرَهُ إِلَىَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلاَ مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَلْقَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ فَقَالَ قُلِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . ثُمَّ قَالَ لِي
عبد اللہ بن مُحَیْرِیز سے روایت ہے، وہ حضرت ابو محذورہ بن مِعْیَر ؓ کی کفالت میں پلنے والے یتیم تھے۔ جب حضرت ابو محذورہ ؓ نے ان (عبد اللہ بن مُحَیْرِیز کو شام کی طرف روانہ کرنے کے لئے تیاری کی تو میں (عبداللہ بن مُحَیْرِیز) نے حضرت ابو محذورہؓ سے کہا اے میرے چچا! میں شام کی طرف روانہ ہو رہا ہوں۔ مجھ سے آپ کی اذان کے بارہ میں سوال کیا جائے گا۔ _ انہوں نے مجھے بتایا کہ _ حضرت ابو محذورہ ؓ نے بیان کیا کہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ نکلا اور ہم راستہ میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے مؤذن نے رسول اللہ ﷺ کے پاس نماز کے لئے اذان دی ہم نے مؤذن کی آواز سنی۔ اس وقت ہم آپؐ سے اعراض کرنے والے تھے۔ پس ہم چیخ چیخ کر اس کی نقل کرنے لگے اور ہم اس کا مذاق اُڑاتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے سنا اور آپؐ نے ہمیں بلانے کے لئے چند آدمیوں کو بھیجا۔ انہوں نے ہمیں آپؐ کے سامنے بٹھا دیا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا میں نے تم میں سے کس کی آواز کو سُنا جو بلند ہوئی۔ سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اور انہوں نے سچ ہی کہا تھا۔ آپؐ نے ان سب کو بھیج دیا اور مجھے روک لیا اور مجھ سے فرمایا کھڑے ہو جاؤ اور اذان دو، پس میں کھڑا ہوا اُس وقت مجھے رسول اللہ ﷺ اور جس کا آپ مجھے حکم دے رہے تھے اُس سے زیادہ ناپسند اور کوئی چیز نہیں تھی۔ میں آپؐ کے سامنے کھڑا ہوا اور رسول اللہ ﷺ خود اذان (کے کلمات) مجھے بتانے لگے۔ فرمایا تم کہو اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ (ترجمہ) اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں _ پھر مجھ سے فرمایا اپنی آواز (اور) بلند کرو (اور کہو ) _ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃ حَیَّ عَلَی الْفَلَاح حَیَّ عَلَی الْفَلَاح اللَّہُ أَکْبَر اللَّہُ أَکْبَر لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ (ترجمہ) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ نماز کی طرف
حضرت ابو مَحذُورہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اذان سکھائی انیس 19 کلمات اور اقامت (سکھائی) سترہ 17 کلمات۔ اذان (یہ ہے) اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ حَیََّّ عَلَی الصَّلَاۃ حَیََّّ عَلَی الصَّلَاۃ حَیَّ عَلَی الْفَلَاح حَیَّ عَلَی الْفَلَاح اللَّہُ أَکْبَر اللَّہُ أَکْبَر لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ (ترجمہ) اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ نماز کیلئے آؤ، نماز کیلئے آؤ۔ کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اور اقامت کے سترہ کلمات اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر اَللَّہُ أَکْبَر۔ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ۔ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللَّہ۔ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّہ۔ حَیََّّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیََّّ عَلَی الصَّلَاۃِ۔ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ۔ قَدْ قَامَتِ الصَّلاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاۃُ۔ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ۔ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ
رسول اللہ ﷺ کے مؤذن حضرت سعدؓ (بن عائذ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلالؓ کو ارشاد فرمایا کہ وہ اپنی دونوں انگلیاں (اذان کہنے کے وقت) اپنے دونوں کانوں میں ڈالیں اور فرمایا یہ تمہاری آواز کو زیادہ بلند کرنے والا ہے۔
عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِالأَبْطَحِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ فَخَرَجَ بِلاَلٌ فَأَذَّنَ فَاسْتَدَارَ فِي أَذَانِهِ وَجَعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ .
عون بن ابو جحیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس أبطح میں جبکہ آپؐ سُرخ رنگ کے خیمہ میں تھے آیا۔ حضرت بلالؓ نکلے اور اذان دی اور اپنی اذان میں رُخ پھیرا اور اپنی دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالیں۔
. ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَىْءٌ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ ثُمَّ بَلَغَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
. فَذَهَبَ كُلُّ شَىْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ كَرَاهِيَةٍ وَعَادَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَحَبَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَدِمْتُ عَلَى
عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِمَكَّةَ فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلاَةِ عَلَى أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . قَالَ وَأَخْبَرَنِي ذَلِكَ مَنْ أَدْرَكَ
، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ پھر جب میں اذان ختم کر چکا تو آپؐ نے مجھے بلایا اور مجھے ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی۔ پھر آپؐ نے اپنا ہاتھ ابو محذورہؓ کی پیشانی پر رکھا۔ پھر آپؐ نے اُن کے چہرے اور سینے پر ہاتھ پھیرا اور اسے پھیرتے ہوئے ان کے جگر تک لے گئے۔ پھر رسول اللہ
ﷺ
کا ہاتھ حضرت ابو محذورہؓ کی ناف تک پہنچ گیا۔ پھر رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا اللہ تجھے برکت دے اور تجھ پر برکت ڈالے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ مجھے مکہ میں اذان دینے پر مقرر فرماتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں! میں نے تمہیں مقرر کر دیا ہے۔ پس مجھ میں رسول اللہ
ﷺ
کے لئے جو ناپسندیدگی تھی جاتی رہی اور یہ ساری کی ساری رسول اللہ
ﷺ
کی محبت میں تبدیل ہوگئی۔ پھر میں رسول اللہ
ﷺ
کے مکہ کے والی حضرت
عَتّابؓ
بن
اَسِید
کے پاس آیا۔ میں نے رسول اللہ
ﷺ
کے ارشاد کے مطابق ان کی معیت میں نماز کے لئے اذان دی۔
(ترجمہ) اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ نماز کی طرف
آؤ
۔ نماز کی طرف
آؤ
۔ کامیابی کی طرف
آؤ
۔ کامیابی کی طرف
آؤ
۔ کھڑی ہوگئی نماز۔ کھڑی ہوگئی نماز۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔