بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 400 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ ڈالتا تو میں ضرور انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا۔
حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ رات کو دو، دو رکعت نماز ادا کرتے اور فارغ ہو جاتے۔
حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسواک کیا کرو، کیونکہ مسواک منہ کو صاف کرنے والی اور رب کو راضی کرنے والی ہے۔ جبریل جب بھی میرے پاس آتے ہیں، مجھے مسواک کرنے کی وصیت کرتے ہیں یہاں تک کہ میں ڈرا کہ کہیں مجھ پر اور میری امت پر فرض ہی نہ ہو جائے، اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خدشہ نہ ہوتا تو میں اسے اُن کے لئے فرض قرار دے دیتا اور میں مسواک کرتا ہوں یہاں تک کہ ڈرتا ہوں کہ میں اپنے منہ کے سامنے کے حصے چھیل نہ دوں۔
شُریح بن ہانی نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ مجھے بتائیے کہ جب نبی ﷺ آپؓ کے گھر آتے ہیں تو سب سے پہلے کیا کرتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا جب حضور ﷺ تشریف لاتے تو سب سے پہلے مسواک سے آغاز کرتے۔
حضرت علی بن ابی طالبؓ نے فرمایا کہ تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں۔ اُنہیں مسواک سے پاک کیا کرو۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ باتیں فطرت ہیں یا فرمایا پانچ باتیں فطرت میں سے ہیں۔ ختنہ، استرہ لینا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال لینا، مونچھیں تراشنا۔
حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دس باتیں فطرت میں سے ہیں۔ مونچھیں تراشنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈال کر صاف کرنا، ناخن کاٹنا، ہاتھ پاؤں کے جوڑوں کو دھونا۔ بغل کے بال لینا۔ زیرِ ناف بال صاف کرنا اور پانی سے استنجاء۔ راوی مصعب کہتے ہیں کہ میں دسویں بات بھول گیا ہوں، ہاں کُلّی کرنا ہوسکتا ہے۔
حضرت عمار بن یاسرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فطرت سے ہے کلی کرنا، ناک میں پانی ڈال کر صاف کرنا، مسواک کرنا، مونچھیں تراشنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال لینا اور زیر ناف بال صاف کرنا اور ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا اور پانی سے استنجاء کرنا اور ختنہ کرنا۔
حضرت انس بن مالکؓ نے کہا کہ ہمارے لئے وقت مقرر کر دیا گیا ہے، مونچھیں تراشنے، زیر ناف بال لینے اور بغل کے بال لینے اور ناخن کاٹنے کا کہ چالیس راتوں سے زیادہ ہم اُسے نہ چھوڑیں۔
حضرت زید بن ارقم ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان درختوں کے جھنڈ میں (ضرر رساں چیزیں) موجود ہوتی ہیں۔ جب کوئی تم میں سے (ان میں) داخل ہو تو کہے اے اللہ! میں (ظاہری) گندوں اور (باطنی) گندگیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔