بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 400 hadith
حضرت ثوبانؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا استقامت اختیار کرو اور (اس کو) پورے طور پر نباہ نہیں سکو گے اور جان لو تمہارے اعمال میں سے سب سے بہتر نماز ہے۔ اور وضو کی حفاظت نہیں کرتا مگر مومن ہی۔
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا استقامت اختیار کرو اور (اس کو) پوری طرح نباہ* نہیں سکو گے اور جان لو کہ تمہارے اعمال میں سے سب سے افضل نماز ہے اور وضو کی حفاظت نہیں کرتا مگر مومن۔
حضرت ابو امامہ ؓ نے مرفوعًا روایت کرتے ہوئے بیان کیا استقامت اختیار کرو، کیا ہی اچھا ہے کہ تم استقامت کر سکو۔ تمہارے اعمال میں سے بہترین نماز ہے۔ اور وضو کی حفاظت نہیں کرتا مگر مومن۔
حضرت ابو مالک اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وضو پورے طور پر کرنا نصف ایمان ہے۔ الحمد للہ میزان کو بھر دیتا ہے۔ تسبیح و تکبیر آسمانوں اور زمین کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نُور ہے اور زکوٰۃ برہان (دلیل) ہے۔ صبر روشنی ہے۔ قرآن حجت ہے۔ تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف۔ لوگوں میں سے ہر ایک ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ اپنے نفس کو بیچنے والا ہوتا ہے یا تو اُسے آزاد کرنے والا ہے ، یا اُسے ہلاک کرنے والا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی جب وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر مسجد آتا ہے اور نماز کے علاوہ اُسے کوئی اور مقصد نہیں لاتا، وہ کوئی قدم نہیں اُٹھاتا مگر اللہ اُس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے اور اس کی وجہ سے ایک گناہ گرا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔
حضرت عبد اللہ صُنَابِحِیؓ ِّ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے وضو کیا اور کُلّی کی، اور ناک میں پانی لیا تو برائیاں منہ اور ناک سے نکل جاتی ہیں اور جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو منہ سے اور ناک سے اس کی خطائیں نکل جاتی ہیں حتی کہ اس کی دونوں آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے بھی اس کی خطائیں نکل جاتی ہیں اور جب دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو دونوں ہاتھوں سے اس کی خطائیں نکل جاتی ہیں اور وہ جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اُس کے سر سے اس کے گناہ دُور ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ اُس کے کانوں سے بھی نکل جاتے ہیں اور جب اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں سے اس کی تمام خطائیں نکل جاتی ہیں یہاں تک کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی اور اُس کی نماز اور مسجد کی طرف جانا نفل ہوجاتا ہے۔
حضرت عمرو بن عَبَسَہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ جب وضو کرتا ہے اور اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو اُس کے ہاتھوں سے اس کی خطائیں گر جاتی ہیں اور جب اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو خطائیں اُس کے چہرے سے گر جاتی ہیں اور جب اپنے بازو دھوتا اور اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کی خطائیں اس کے بازوؤں اور سر سے گر جاتی ہیں اور جب وہ اپنے پیر دھوتا ہے تو اس کی خطائیں اس کے پیروں سے گر جاتی ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے بیان کیا کہ عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ اُسے کیسے پہچانیں گے جسے آپؐ نے اپنی امت میں سے نہ دیکھا ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا چمکدار چہروں والے، خوب سفید ہاتھ پاؤں والے وضو کے نشانات کی وجہ سے۔
حُمران جو حضرت عثمان بن عفانؓ کے آزاد کردہ غلام تھے کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمانؓ بن عفان کو (مسجد کے) چبوترہ پر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ آپؐ نے وضو کے لئے پانی منگوایا اور وضو کیا پھر فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی اسی جگہ پر بیٹھے ہوئے دیکھا اور آپؐ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور فرمایا جس نے وضو کیا جس طرح میں نے وضو کیا ہے، تو اُس کے گذشتہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اس سے) دھوکہ میں نہ آ جانا۔
حضرت حذیفہؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو عبادت کے لئے بیدار ہوتے تو اپنے منہ کو مسواک سے صاف کرتے۔