بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 400 hadith
حضرت ام سلمہ ؓ نے بیان فرمایاکہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپؐ کے لحاف میں تھی اور میں نے اپنے میں وہ پایا جو عورتیں پاتی ہیں یعنی حیض(کا احساس ہوا) ۔میں چپکے سے لحاف سے نکل گئی ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکیا تم حائضہ ہوگئی ہو ؟ میں نے عرض کیا میں نے اپنے میں وہ محسوس کیا جو عورتیں حیض میں محسوس کرتی ہیں۔ حضور ؐنے فرمایایہ وہ ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لئے لکھ دیا ہے۔ حضرت ام سلمہ ؓنے بتایاکہ میں گئی اور اپنی حالت کو درست کیا ،پھر واپس آئی ۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایاادھر آجاؤ اور میرے ساتھ لحاف میں داخل ہوجاؤ۔وہ کہتی ہیں میں آپؐکے ساتھ (لحاف میں) داخل ہوگئی ۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی
امیر معاویہؓ بن ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام حبیبہؓ سے پوچھاکہ آپ حیض (کے ایام )میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیسے رہا کرتی تھیں ؟ انہوں نے کہا ہم میں سے کوئی اپنے حیض کی شدت کی ابتداء میں اپنی نصف رانوں تک ازار باندھ لیتی پھر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لیٹ جاتی ۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے حائضہ سے یا عورت کی دبر میں مباشرت کی یا کاہن کے پاس گیا اور جو اس(کاہن) نے کہا اس کی تصدیق کی تو اس نے جو محمدؐ پر نازل کیا گیا ہے اُس کا کفر کیا ۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے اس شخص کے بارے میں جو اپنی حائضہ بیوی سے مباشرت کرے ۔ فرمایا وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے گا۔
حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے حائضہ عورت کے غسل کے بارے میں سوال کیا ۔ حضور ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر کوئی پانی اور بیری (کے پتے) لے اور وہ صفائی کرے اور اچھی طرح صفائی کرے _ یا (فَتُحْسِنُ الطُّھُوْرَ کی بجائے)فرمایا تَبْلُغُ فِی الطُّھُوْرِ_ پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور اُسے اچھی طرح سے مَلے یہاں تک کہ پانی سر کے بالوں کی جڑھوں تک پہنچ جائے۔ پھر اپنے اوپر پانی ڈالے، پھرایک مشک لگا ہوا پھاہا لے اور اس کے ذریعہ صفائی کرے۔ حضرت اسماءؓ نے عرض کیا اس کے ذریعہ میں کیسے صفائی کروں؟حضور ﷺ نے فرمایا سُبحان اللہ !اس سے صفائی کرو۔ حضرت عائشہؓ نے سرگوشی کے انداز میں کہا جہاں جہاں خون کے آثار پاؤ وہاں لگاؤ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیںپھراس نے حضور ؐسے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا ۔ حضور ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک پانی لے اورصفائی کرے اورخوب اچھی طرح صفائی کرے _یا (فَتُحْسِنُ الطُّھُوْرَ کی بجائے)فرمایا تَبْلُغُ فِی الطُّھُوْرِ_پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور اُسے اچھی طرح سے مَلے یہاں تک کہ پانی اس کے سر کی جڑھوں تک پہنچ جائے پھر اپنے جسم پر پانی بہائے۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایاانصار کی عورتیں کیا ہی اچھی عورتیں ہیں، دین سیکھنے میں حیا ان کو مانع نہیں ہوئی ۔
حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایامیں ہڈی سے گوشت اُتارتی جبکہ میں حائضہ ہوتی پھر رسول اللہ ﷺ اس کو لیتے اور اسی جگہ اپنا منہ مبارک رکھتے جہاں میرا منہ لگا تھا اور(اسی طرح) میں برتن سے پانی پیتی۔ رسول اللہ ﷺاُس (برتن) کو لیتے اور اسی جگہ منہ مبارک رکھتے جہاں میرا منہ ہوتاتھا اور میں حائضہ ہوتی تھی ۔
حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ یہود گھر میں حائضہ عورت کے ساتھ نہیں بیٹھا کرتے تھے اور نہ ہی کھاتے اور پیتے ۔وہ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں اس کا ذکر نبی ﷺ کی خدمت میں کیا گیاتو اللہ نے یہ نازل کیا وَ یَسْأَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ھُوَ اَذًی فَاعْتِزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ(ترجمہ) اور وہ تجھ سے حیض کی حالت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ تو کہہ دے کہ یہ ایک تکلیف (کی حالت) ہے۔ پس حیض کے دوران عورتوں سے الگ رہو٭۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب کچھ کرو سوائے مقاربت کے۔
حضرت ام سلمہ ؓ نے بیان فرمایارسول اللہ ﷺ اس مسجد کے صحن میں داخل ہوئے اور بلند آواز سے فرمایا مسجد میں جنبی اور حائضہ کا آنا درست نہیں۔
حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسی عورت کے بارے میں فرمایا جو طُہرکے بعد وہ دیکھے جو اُسے شک میں ڈالے ۔ آپؐ نے فرمایا یہ توصرف ایک رگ ہے یا فرمایا رگیں ہیں۔ راوی محمد بن یحییٰ نے کہاطُہر کے بعد سے مراد غسل کے بعد ۔