بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 146 hadith
حضرت ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا اگر نحوست فی الواقعہ ہوتی ہے تو پھر وہ گھوڑے اور عورت اور گھر میں ہے۔ ایک اور روایت میں حَقٌّ کا لفظ نہیں ہے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر یہ(نحوست)ہے تو وہ گھر اور خادم اور گھوڑے میں ہے۔
حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اگریہ کوئی چیز ہے تو وہ عورت اور گھوڑے اور گھر میں ہے۔ آپؐ کی مرادنحوست سے تھی۔
حضرت معاویہ بن حکم سُلَمِیؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! ہم زمانہء جاہلیت میں کچھ کام کیا کرتے تھے۔ ہم کاہنوں کے پاس جاتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا کاہنوں کے پاس مت جاؤ۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا ہم شگون لیتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا یہ محض تمہارے دلی خیالات ہیں۔ یہ تمہارے لئے روک نہ بنیں۔ ایک اور روایت میں الطِّیَرَۃَ کا ذکر ہے اور الْکُہَّان کا ذکر نہیں ہے۔ اورایک اور روایت میں یہ مزید ہے کہ معاویہ بن حکم السُّلَمِیکہتے ہیں میں نے عرض کیا ہم میں سے بعض آدمی لکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا نبیوں میں سے ایک نبی بھی لکھا کرتے تھے۔ پس جس نے اُ ن کی تحریر سے موافقت کی تو ٹھیک۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ!کاہن ہمیں بعض باتیں بتاتے تھے تو ہم ویسا ہی پاتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا یہ وہ سچی بات ہے جسے جِنّ اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ڈال دیتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں بعض لوگوں نے رسول اللہﷺ سے کاہنوں کے بارہ میں پوچھا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا وہ کچھ چیز نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ!بعض اوقات وہ ایسی بات بتاتے ہیں جو صحیح نکلتی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا وہ بات جِنّ کی طرف سے ہوتی ہے جسے جِنّ اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ڈال دیتا ہے مرغی کی آواز کی طرح اور یہ اس میں سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں مجھے رسول اللہﷺ کے انصار صحابہؓ میں سے ایک شخص نے بتایا کہ ایک رات وہ (صحابہؓ )رسول اللہﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو ایک ستارہ ٹوٹا اور بہت ہی روشن ہو گیا تو رسول اللہﷺ نے انہیں کہا جب کوئی ستارہ اس طرح ٹوٹتا تو تم جاہلیت میں کیا کہتے تھے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ ہم کہتے تھے آج رات کوئی عظیم آدمی پیدا ہوا ہے اور کوئی بڑا آدمی فوت ہوا ہے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ کسی شخص کی موت یا اس کی پیدائش پر نہیں ٹوٹتا لیکن ہمارا ربّ اُس کا نام برکت والا اور بلند ہے جب کسی معاملہ کا فیصلہ فرماتا ہے تو اس کا عرش اٹھانے والے اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ پھر ان سے قریبی آسمان والے تسبیح کرتے ہیں یہانتک کہ یہ تسبیح اس ورلے آسمان تک پہنچتی ہے۔ پھر وہ جو عرش اٹھانے والوں کے قریب ہیں عرش اٹھانے والوں سے پوچھتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ وہ انہیں بتاتے ہیں جو اس نے فرمایا ہوتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا پھر آسمان والے ایک دوسرے کو بتاتے ہیں یہانتک کہ وہ بات اس ورلے آسمان تک پہنچتی ہے تو جِنّ اس بات کو اچک لیتے ہیں اور اپنے ساتھیوں تک پہنچاتے ہیں اور یہ ان پر چلایا جاتا ہے اور جو بات تو وہ اسی طرح بیان کرتے ہیں وہ تو صحیح ہوتی ہے لیکن وہ اس میں (جھوٹ)ملا دیتے ہیں اور اس میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ ایک اور روایت میں (وَلَکِنَّہُمْ کی بجائے) وَلَکِنْ کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں (یَقْرِفُونَ کی بجائے) یَرْقَوْنَ (یعنی اضافہ کرتے ہیں ) کے الفاظ ہیں اور اس روایت میں یہ مزید ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حَتَّی إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ۔
عمرو بن شرید اپنے والدسے روایت کرتے ہیں انہوں نے بتایا ثقیف کے وفد میں ایک مجذوم شخص تھا۔ نبیﷺ نے اسے پیغام بھجوایا کہ ہم نے تیری بیعت لے لی، تم واپس جا سکتے ہو۔