بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 146 hadith
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے ایک مُحْرِم کو منٰی میں ایک سانپ کو مارنے کا ارشاد فرمایا۔ ایک اور روایت میں (کُنَّا مَعَ النَّبِیِّﷺ کی بجائے) بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِﷺ فِی غَارٍ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عامر بن سعدؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی
ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابوسائب بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت ابو سعید خدریؓ کی خدمت میں ان کے گھر حاضر ہوئے۔ وہ کہتے ہیں میں نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ میں ان کے نماز سے فارغ ہونے کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ میں نے گھر کے کونے میں رکھی لکڑیوں میں حرکت (کی آواز)سنی۔ میں نے توجہ کی تو ایک سانپ تھا۔ میں اسے مارنے کولپکا۔ انہوں نے مجھے اشارہ کیا کہ بیٹھے رہو۔ میں بیٹھ گیا۔ جب وہ (نماز سے)فارغ ہوئے تو انہوں نے گھرمیں ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا اور کہا کیا تم یہ کمرہ دیکھتے ہو۔ میں نے کہا ہاں۔ انہوں نے کہا اس میں ہم میں سے ایک نوجوان جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی رہتا تھا۔ وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ غزوئہ خندق کے لئے نکلے۔ تو وہ نوجوان رسول اللہﷺ سے نصف النہار کے وقت اجازت لے کر اپنے اہل کے پاس جایا کرتا تھا۔ اس نے ایک دن اجازت طلب کی تو رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا اپنا اسلحہ ساتھ رکھو کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ بنو قریظہ تم پر حملہ نہ کردیں۔ اس آدمی نے اپنا اسلحہ لیا پھر وہ گھر کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی بیوی دروازے کے دونوں کواڑوں کے درمیان کھڑی ہے۔اس(نوجوان)نے غیرت سے اُسے مارنے کے لئے اپنا نیزہ بڑھایا۔ اس نے کہا اپنا نیزہ روکو اور گھر کے اندر جاؤ اور دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر نکالا ہے۔ وہ داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بڑا سانپ بستر پر کنڈلی مارے ہوئے ہے۔ اس نے اس کی طرف اپنا نیزہ بڑھایااور اس کو اس میں پرو دیا۔ پھر وہ باہر نکلا اور اسے گھر میں گاڑ دیا۔ تو وہ سانپ اس پر حملہ آور ہوا۔ یہ پتہ نہیں چلا کہ کون پہلے مرا۔ سانپ یا وہ نوجوان۔ راوی کہتے ہیں ہم رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور آپؐ سے اس واقعہ کاذکر کیا اور عرض کیا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ اسے ہماری خاطر زندہ کردے۔ آپؐ نے فرمایا اپنے دوست کے لئے مغفرت کی دعا کرو۔ پھرآپؐ نے فرمایامدینہ کے جنّ مسلمان ہو گئے ہیں جب تم ان میں سے دیکھو تو انہیں تین دن تک خبردار کرو۔ پھر اگر اس کے بعد وہ تمہیں نظر آئیں تو انہیں مارڈالو کیونکہ وہ ضرررساں ہے۔ ایک اور روایت میں (سَمِعْتُ تَحْرِیکًا فِی عَرَاجِینَ فِی نَاحِیَۃِ الْبَیْتِ کی بجائے) سَمِعْنَا تَحْتَ سَرِیرِہِ حَرَکَۃً کے الفاظ ہیں یعنی ان کی چارپائی کے نیچے حرکت محسوس کی اور اس روایت میں یہ مزید ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ان گھروں میں سانپ رہتے ہیں اگر تم ان میں سے کسی کو دیکھو توتین دن انہیں نکل جانے پرمجبور کرو۔ اگر وہ چلا جائے تو ٹھیک ورنہ اسے مارڈالو کیونکہ وہ کافر ہے اور ان سے آپؐ نے (یہ بھی)فرمایاجاؤ اپنے ساتھی کو دفن کرو۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا مدینہ میں کچھ جنّ رہتے ہیں جو مسلمان ہو گئے ہیں۔ جو کوئی ان گھریلوسانپوں میں سے کسی کو دیکھے تو وہ اسے تین دن تک ڈرائے۔ اس کے بعد بھی وہ نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ ضرر رساں ہے۔
حضرت اُم شریکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے انہیں چھپکلی مارنے کا ارشاد فرمایا تھا۔
حضرت سعید بن مسیبؓ بیان کرتے ہیں کہ انہیں حضرت ام شریکؓ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت نبیﷺ سے چھپکلیوں کے مارنے کی اجازت طلب کی تو آپؐ نے ان کے مارنے کی اجازت عطا فرمائی اور حضرت ام شریکؓ عَامِرِ بْنِ لُؤَیّ کے قبیلہ کی ایک عورت تھیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے چھپکلی کو فُوَیْسِق کہا۔ راوی حرملہ نے مزید کہا کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا میں نے آپؐ کو اُسے ماردینے کا ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے پہلی ہی ضرب میں چھپکلی کو مار دیا تو اس کے لئے فلاں فلاں نیکی(کا ثواب)ہے اور جس نے دوسری ضرب میں مارا تو اس کے لئے فلاں فلاں نیکی(کا ثواب)ہے یعنی پہلے سے کم اور اگر اس نے اسے تیسری ضرب سے مارا تو اس کے لئے لئے فلاں فلاں نیکی(کا ثواب) ہے لیکن دوسری سے کم۔ایک اور روایت میں ہے کہ جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مارا اس کے لئے سو نیکیاں ہیں اور دوسری ضرب میں اس سے کم اور تیسری ضرب میں اس سے کم۔ایک اور روایت میں فِی أَوَّلِ ضَرْبَۃٍ سَبْعِینَ حَسَنَۃٌ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا ایک چیونٹی نے انبیاء میں سے ایک نبی کو کاٹا تو انہوں نے چیونٹیوں کی بستی کے بارہ میں حکم دیا تو وہ جلا دی گئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ تم نے ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے امتوں میں سے ایک ایسی امت کو ہلاک کر دیا جو تسبیح کرتی تھی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا انبیاء میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے تو انہیں چیونٹی نے کاٹ لیا۔ انہوں نے اپنے سامان کے بارے میں ارشاد فرمایا تو وہ (اس درخت کے)نیچے سے نکال لیا گیا اور چیونٹیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا تو وہ جلا دی گئیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کیوں نہ صرف ایک چیونٹی کو۔ ۔ ۔ ۔