بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 146 hadith
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ نے دو دھاری والے سانپ کو مارنے کا حکم دیا ہے کیونکہ وہ آنکھوں کو اندھا کرتا ہے اور حمل گرا دیتا ہے۔ایک اور روایت میں (ذِی الطُّفْیَتَیْنِ کی بجائے) اَلْأَبْتَرُ(دُم کٹا)وَذُوالطُّفْیَتَیْنِ(دو دھاری والا) کے الفاظ ہیں۔
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ ہر قسم کے سانپوں کو مار دیتے تھے یہانتک کہ حضرت ابو لبابہؓ بن عبدالمنذربدری نے ہمارے پاس یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہﷺ
عبیداللہ سے روایت ہے کہ مجھے نافع نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو لبابہؓ کو حضرت ابن عمرؓ کو یہ بتاتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے (گھریلو) سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔
سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا سانپوں اور (خاص کر)دو دھاری والے اور دُم کٹے سانپ کو مار دیاکرو کیونکہ وہ دونوں حمل گرا دیتے ہیں اور بصارت زائل کر دیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابن عمرؓ ہر قسم کے سانپ کو جسے وہ دیکھتے تھے ماردیا کرتے تھے۔ انہیں حضرت ابولبابہؓ بن عبدالمنذر یا حضرت زیدؓ بن خطاب نے دیکھا جبکہ وہ ایک سانپ کا پیچھا کر رہے تھے تو انہوں نے کہا کہ گھر کے (سانپوں )کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو کتّوں کو مارنے کا حکم دیتے سنا۔ آپؐ نے فرمایا سانپوں اور کتوں کو مارو اور دو دھاری سانپ کو اور دم بریدہ سانپ کوبھی(خاص طور پر)مارو۔ یقینا یہ دونوں نظر کو زائل کرتے اور حمل والیوں کا حمل گرا دیتے ہیں۔ زہری کہتے ہیں ہمارا خیال ہے یہ اس کے زہر کی وجہ سے ہے اور اللہ بہتر جانتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں میں جو سانپ بھی دیکھتا اسے مار دیتا۔ ایک دفعہ میں ایک گھریلو سانپ کا پیچھا کر رہا تھا کہ میرے پاس سے حضرت زید بن خطابؓ یا حضرت ابو لبابہؓ گذرے اور میں اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا اے عبداللہ!ٹھہرو۔ میں نے کہا رسول اللہﷺ نے انہیں مارنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے جواب دیارسول اللہﷺ نے گھریلو (سانپوں )کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔ایک اور روایت میں (مَرَّ بِی کی بجائے) حَتَّی رَآنِی کے الفاظ ہیں اور یہ مزید ہے کہ حضرت ابو لبابہؓ بن عبدالمنذر اور حضرت زیدؓ بن خطاب کہتے ہیں کہ آپؐ نے گھریلو سانپوں کے مارنے سے منع فرمایا ہے اور ایک روایت میں ذَا الطُّفْیَتَیْنِ وَالْأَبْتَرَ کے الفاظ نہیں۔
نافع سے روایت ہے کہ ابو لبابہؓ نے حضرت ابن عمرؓ سے ان کے گھر میں اپنے لئے ایک دروازہ کھولنے کی بابت بات کی تاکہ اس طرح وہ مسجد کے قریب ہو جائیں۔ اتنے میں کچھ لڑکوں نے ایک سانپ کی کینچلی دیکھی۔ اس پر حضرت عبداللہؓ نے کہا اسے تلاش کرواور مار ڈالو۔ حضرت ابو لبابہؓ نے کہا اسے نہ مارو کیونکہ رسول اللہﷺ نے گھروں میں پائے جانے والے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابو لبابہؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ نے ان سانپوں کے مارنے سے منع فرمایا ہے جو گھروں میں رہتے ہوں۔
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو لبابہؓ بن عبدالمنذر انصاریؓ جو قباء میں رہتے تھے وہ مدینہ منتقل ہو گئے۔ ایک دفعہ جب حضرت عبداللہ بن عمرؓ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک چھوٹا سا دروازہ ان کے لئے بنا رہے تھے تو انہوں نے گھریلو سانپوں میں سے ایک سانپ دیکھا۔ انہوں نے اسے مارنے کا قصد کیا۔ اس پر حضرت ابو لبابہؓ نے کہاانہیں (مارنے سے) منع کیا گیا ہے ان کا اشارہ گھریلوسانپوں کی طرف تھا اور دم کٹے اور دھاری دار سانپ کے مارنے کا حکم دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ دونوں نظر خراب کر دیتے تھے اور عورتوں کے حمل گرادیتے تھے۔
عمر بن نافع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ایک دن حضرت عبداللہ بن عمرؓ اپنے مکان کے ایک گرے ہوئے حصہ کے پاس تھے۔ انہوں نے سانپ کی کینچلی دیکھی۔ اس پر فرمایا اس سانپ کا پیچھا کرو اور اسے مار ڈالو۔ حضرت ابو لبابہؓ انصاری نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے۔ آپؐ نے ان سانپوں کو جو گھروں میں رہتے ہیں مارنے سے منع فرمایا ہے سوائے دم بریدہ اور دو دھاری والے سانپ کے کیونکہ وہ نظر کو زائل کرتے ہیں اور عورتوں کے حمل گرا دیتے ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو لبابہؓ حضرت ابن عمرؓ کے پاس سے گذرے اور وہ ان قلعوں کے پاس تھے جو حضرت عمرؓ بن خطاب کے گھر کے پاس تھے اور وہ (حضرت ابن عمرؓ )ایک سانپ کی گھات میں تھے۔ ۔ ۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نبیﷺ کے ساتھ ایک غار میں تھے اور آپؐ پر سورۃ مرسلات نازل ہوئی۔ ہم آپؐ کے منہ مبارک سے تازہ تازہ اسے سن رہے تھے کہ ایک سانپ ہماری طرف آ نکلا۔ آپؐ نے فرمایا اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف اسے مارنے کو لپکے لیکن وہ ہم سے (بچ کر)نکل گیا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے شر سے بچایا ہے جیسا کہ تمہیں اس کے شر سے بچایا ہے۔