بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں نکلے یہانتک کہ ہم جب بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر پہنچے تو میرا ہارٹوٹ کر گر گیا چنانچہ رسول اللہﷺ اس کی تلاش کے لئے ٹھہر گئے اور لوگ آپؐ کے ساتھ ٹھہر گئے، نہ ان کا قیام پانی پر تھااورنہ ہی لوگوں کے پاس پانی تھا۔ تو لوگ حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے کیا آپ دیکھتے نہیں کہ حضرت عائشہؓ نے کیا کیا؟ رسول اللہﷺ اور آپؐ کے ساتھ لوگوں کو بھی ٹھہرا دیا ہے نہ تو اس مقام پرپانی ہے اور نہ ہی ان کے پاس پانی ہے۔ حضرت ابو بکرؓ آئے اور رسول اللہﷺ اپنا سر مبارک میری ران پر رکھے سوئے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تم نے رسول اللہﷺ کو اور لوگوں کو روک رکھا ہے۔ اس جگہ پر جہاں پر پانی نہیں ہے اور نہ ہی ان (لوگوں ) کے پاس پانی ہے۔ آپؓ (حضرت عائشہؓ ) نے فرمایا کہ حضرت ابوبکرؓ نے مجھے ڈانٹا اور جو اللہ نے چاہا کہ وہ کہیں سو کہا اور میرے پہلو میں اپنے ہاتھ چبھونے لگے۔ رسول اللہﷺ کے سر مبارک کے میری ران پر ہونے نے مجھے حرکت سے روکے رکھا۔ پھر آپؐ سوگئے یہانتک کہ آپؐ نے صبح اس حال میں کی کہ پانی نہیں تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم’’فَتَیَمَّمُوْا‘‘ نازل فرمائی۔ حضرت اسید بن حضیرؓ جو نقیبوں میں سے ایک تھے کہنے لگے کہ اے آلِ ابو بکرؓ یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ پھرجب ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اُٹھایا تو ہار ہم نے اس کے نیچے پایا۔
صحیح مسلم, كتاب الحيض, باب نمبر ۶۲, حدیث نمبر ۵۴۲, جلد نمبر صفحہ نمبر ۱۱۹حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ جب رسول اللہﷺ پیشاب کر رہے تھے ایک آدمی کا پاس سے گزر ہوا۔ اس نے سلام عرض کیالیکن حضورؐ نے اسے جواب نہ دیا۔
صحیح مسلم, كتاب الحيض, باب نمبر ۶۲, حدیث نمبر ۵۴۷, جلد نمبر صفحہ نمبر ۱۲۴حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ جنبی ہونے کی حالت میں ان کی رسول اللہﷺ سے ملاقات ہوئی تووہ ایک طرف ہو گئے اور غسل کیا اور آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میں جنبی تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ نبیﷺ اپنے تمام اوقات میں ذکر الٰہی کیاکرتے تھے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک ہار انہوں نے حضرت اسماءؓ سے مستعار لیا تھا وہ کھو گیا۔ رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہؓ میں سے کچھ لوگ اس کی تلاش میں بھیجے اور نماز کا وقت ہو گیا۔ انہوں نے وضوء کے بغیر نماز ادا کی۔ جب وہ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس بارہ میں آپؐ سے شکایت کی۔ آیت تیمم نازل ہوئی۔ حضرت اسید بن حضیرؓ نے (حضرت عائشہؓ ) سے کہا اللہ آپؓ کو اس کی بہترین جزاء عطاء فرمائے۔ خدا کی قسم! کبھی کوئی مشکل آپؓ کے آڑے نہیں آئی مگر اللہ نے اس میں سے آپ کے لئے کوئی راہ نکال دی اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت رکھ دی۔
شقیق ؓ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہؓ اور حضرت ابو موسیٰؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ نے کہا کہ اے ابوعبد الرحمان! آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی آدمی جنبی ہو اور ایک ماہ تک پانی نہ پائے تو وہ نماز کا کیا کرے؟ حضرت عبد اللہؓ نے کہاوہ تیمم نہ کرے اگرچہ ایک مہینہ پانی نہ ملے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے کہا کہ سورۃالمائدۃ کی اس آیت کا کیا کرو گے؟ فَلَمْ َتجِدُوْا مآء ً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمّم کرلو۔ (النساء: 44) حضرت عبد اللہؓ نے کہا کہ اگر اس آیت کی بناء پر انہیں رخصت دی جائے تو کوئی بعیدنہیں کہ ٹھنڈے پانی کی وجہ سے وہ تیممّ کرنے لگیں حضرت ابوموسیٰ ؓ نے حضرت عبد اللہؓ سے کہا کہ کیا تم نے عمارؓ کی وہ بات نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہﷺ نے کسی ضروری کام سے بھیجا۔ اس دوران میں جنبی ہوگیا مجھے پانی نہ ملا تو میں مٹی میں جانور کے لوٹنے کی طرح لوٹنے لگا پھر میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کا آپؐ سے ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا تمہارے لئے اتنا کافی تھا کہ تم اپنے دونوں ہاتھوں سے یوں کرتے پھر آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دفعہ زمین پر مارا پھر آپؐ نے اپنا بایا ں ہاتھ دائیں ہاتھ پر پھیرا اور ہتھیلیوں کی پشت اور اپنے چہرہ کا مسح کیا پھر حضرت عبد اللہؓ نے کہا کیا تم نے حضرت عمرؓ کو نہیں دیکھا کہ انہیں عمارؓ کی بات پر اطمینان نہیں تھا۔ شقیق ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے حضرت عبد اللہ ؓ سے کہا اور (شقیق ؓ )نے ابو معاویہ جیسی روایت بیان کی سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تمہارے لئے یہ کافی تھا کہ تم اس طرح کرتے پھر آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دفعہ زمین پر مارا اور اپنے دونوں ہاتھ جھاڑے اور اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کا مسح کیا۔
سعید بن عبدالرحمان بن ابزیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ایک آدمی حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور کہامیں جنبی ہو گیا ہوں اور پانی نہیں پاتا تو آپؓ نے فرمایا کہ نماز نہ پڑھو۔ حضرت عمارؓ کہنے لگے یا امیر المؤمنین! کیا آپ کو یادنہیں کہ جب میں اور آپ ایک سریّہ میں تھے اور ہم جنبی ہو گئے تھے اور پانی نہ ملا۔ آپ نے تونماز نہ پڑھی اور میں زمین میں لوٹتا تھا اور نماز پڑھ لی۔ تب نبیﷺ نے فرمایا کہ تیرے لئے یہ کافی تھا کہ تو اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارتا پھر جھاڑ کر دونوں (ہاتھوں ) سے اپنے چہرے اور ہتھیلوں کا مسح کر لیتا۔ تب حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اے عمار! اللہ کا تقوٰی اختیار کر۔ وہ(عمارؓ ) کہنے لگے اگر آپ چاہیں تو میں آگے بیان نہ کروں۔ ذَرّ نے اسی اسناد سے یہ حدیث بیان کی ہے جو حکم نے کی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ہم تمہیں اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جس کی ذمہ داری تم اٹھا رہے ہو۔ حکم کہتے ہیں کہ میں نے ابن عبدالرحمان بن ابزیٰ سے سنا۔ انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور کہا میں جنبی ہو گیا ہوں اور پانی میسر نہیں اور باقی حدیث بیان کی اور اس میں یہ مزید کہا کہ حضرت عمارؓ نے کہا اے امیرؓ المؤمنین! اگر آپ چاہیں چونکہ اللہ نے آپ کا حق مجھ پر قائم کیا ہے اس کی بناء پر میں یہ روایت کسی کو نہ سناؤں گا
حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام عمیر سے روایت ہے کہ انہوں نے آپؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں اور نبیﷺ کی زوجہ مطہّرہ حضرت میمونہؓ کے غلام عبدالرحمان بن یسار ابو جہمؓ بن حارث بن صمّہ انصاری کے پاس گئے تو ابو جہم نے کہا کہ رسول اللہﷺ بئر جمل (کے مقام) سے واپس آرہے تھے کہ آپؐ کو ایک آدمی مِلا اور اس نے سلام عرض کیا لیکن رسول اللہﷺ نے اس کو جواب نہ دیا یہانتک کہ آپؐ ایک دیوار کی طرف تشریف لائے۔ اپنے چہرہ اور ہاتھوں کا مسح کیا پھر اسے سلام کا جواب دیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ مدینہ کے کسی رستہ میں نبیﷺ اُن کو ملے جبکہ وہ(ابوہریرہؓ ) جنبی تھے۔ حضرت ابو ہریرہؓ چپکے سے چلے گئے اور جاکر غسل کیا۔ نبیﷺ کو وہ نظر نہ آئے۔ پھرجب وہ حاضرخدمت ہوئے تو آپؐ نے پوچھا اے ابوہریرہؓ ! تم کہاں تھے؟ حضرت ابو ہریرہؓ کہنے لگے یا رسول اللہ! آپؐ مجھے اس حال میں ملے کہ میں جنبی تھا۔ میں نے پسندنہ کیا کہ آپؐ کے ساتھ بیٹھوں جب تک کہ غسل نہ کرلوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا سبحان اللہ! مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ ایک مرتبہ بیت الخلاء سے باہر تشریف لائے تو آپؐ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔ جب آپؐ سے وضوء کا ذکر ہوا تو آپؐ نے فرمایا میں نماز کاارادہ کرتاہوں تو وضوء کرتاہوں۔