بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
سعید اور عباد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ کی خدمت میں ایک آدمی کی شکایت کی گئی جسے یہ خیال ہوجاتا کہ وہ نماز میں کچھ محسوس کرتاہے۔ آپؐ نے فرمایاکہ وہ (نماز)نہ چھوڑے جب تک کہ آواز سُنے یا بو محسوس کرے۔
صحیح مسلم, كتاب الحيض, باب نمبر ۶۰, حدیث نمبر ۵۳۲, جلد نمبر صفحہ نمبر ۱۱۵حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ میں کچھ محسوس کرے اور اسے اس بارہ میں اشتباہ ہو کہ اس (پیٹ) میں سے کچھ نکلا یا نہیں تو وہ ہر گز مسجد سے نہ نکلے یہانتک کہ وہ کوئی آواز سُنے یا بو محسوس کرے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک بکری کے پاس سے گزرے جوپھینک دی گئی تھی وہ حضرت میمونہؓ کی لونڈی کو صدقہ دی گئی تھی۔ نبیﷺ نے فرمایا انہوں نے اس کی کھال کیوں نہ لے لی کہ اس کورنگتے اور اس سے فائدہ اُٹھاتے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ حضرت میمونہؓ کی آزاد کردہ لونڈی کی (مردہ) بکری کے پاس سے گزرے تو آپؐ نے فرمایا کہ تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اُٹھایا؟
صحیح مسلم, كتاب الحيض, باب نمبر ۶۱, حدیث نمبر ۵۳۸, جلد نمبر صفحہ نمبر ۱۱۷حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت میمونہؓ کی خادمہ کو ایک بکری صدقہ دی گئی۔ وہ(بکری) مَر گئی تورسول اللہﷺ کا گزر اس کے پاس سے ہوا۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم نے اس کی کھال کیوں نہ لے لی کہ تم اسے رنگ کرتے اور اس کے ذریعہ فائدہ اُٹھاتے؟ انہوں نے کہا کہ وہ تو مُردارہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اس کاصرف کھانا حرام ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک مردہ بکری دیکھی جو حضرت میمونہؓ کی لونڈی کو صدقہ میں دی گئی تھی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم نے اس کی کھال سے کیوں فائدہ نہ اُٹھایا؟ انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو مُردار تھی۔ آپؐ نے فرمایا کہ اس کاصرف کھانا حرام ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت میمونہؓ نے ان کو بتایا کہ رسول اللہﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ کی ایک پالتو بکری تھی جو مَر گئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم نے اس کی کھال کیوں نہ لے لی کہ تم اس سے فائدہ اُٹھاتے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب کھال کو رنگ لیا جائے تو وہ پاک ہو جاتی ہے۔
ابو الخیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن وَعْلَہ السَّبَاِی پر ’’پوستین‘‘(fur) دیکھی تو میں نے اس کو چھؤا۔ انہوں نے کہا کہ آپ اس کو کیوں چھوتے ہیں؟ میں اس بارہ میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے پُوچھ چکا ہوں۔ میں نے کہا کہ ہم مغرب٭ میں ہوتے ہیں تو ہمارے ساتھ بربری اور مجوسی ہوتے ہیں ہمارے پاس مینڈھے لائے جاتے ہیں جو انہوں نے ذبح کئے ہوتے ہیں لیکن ہم ان کے ذبیحے نہیں کھاتے۔ وہ ہمارے پاس مشکیزے لاتے ہیں اُن میں وہ چربی ڈالتے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ہم نے اس بارہ میں رسول اللہﷺ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ اس کا رنگنا اس کاپاک ہونا ہے۔
ابن وَعْلَہ السَّبَاِی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے پوچھا۔ میں نے کہا ہم مغرب میں ہوتے ہیں تو ہمارے پاس مجوسی مشکیں لاتے ہیں اُن میں پانی اور چربی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے پی لیاکرو۔ میں نے پوچھا کہ آپ یہ رائے رکھتے ہیں؟ حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس کا رنگنا اس کا پاک ہونا ہے۔