بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
298a
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے مسجد سے (مصلّٰی) چٹائی پکڑا دو۔ مَیں نے عرض کیا میں حائضہ ہوں۔ آپؐ نے فرمایا تمہاراحیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
صحیح مسلم, كتاب الحيض, باب نمبر ۳۷, حدیث نمبر ۴۴۲, جلد نمبر صفحہ نمبر ۶۶301
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ میری گود میں (سر رکھ کر) سہارا لیتے جبکہ میں حائضہ ہوتی اور آپؐ قرآن مجید کی تلاوت فرماتے۔
صحیح مسلم, كتاب الحيض, باب نمبر ۳۷, حدیث نمبر ۴۴۶, جلد نمبر صفحہ نمبر ۶۷304
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ رات کو بیدارہوئے اور قضائے حاجت سے فارغ ہوئے پھر اپنا چہرہ مبارک اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے پھر سو گئے۔
298b
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا کہ میں آپؐ کو مسجد سے (مصلّٰی) چٹائی پکڑا دوں۔ میں نے عرض کیا میں حائضہ ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ لے لو۔ حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
299
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے تو آپؐ نے فرمایا کہ اے عائشہ! مجھے کپڑا تھَما دو۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں حائضہ ہوں آپؐ نے فر مایا کہ تمہاراحیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے چنانچہ انہوں نے آپؐ کووہ (کپڑا) پکڑا دیا۔
300
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں حائضہ ہونے کی حالت میں پانی پی کر نبیﷺ کو دے دیتی۔ پھر آپؐ اسی جگہ سے منہ لگاکر پانی پیتے جہاں میں نے منہ لگایا ہوتااور میں حائضہ ہونے کی حالت میں ہڈی سے گوشت کاٹتی اور نبیﷺ کو دے دیتی۔ اور آپؐ اپنا منہ اسی جگہ لگاتے جہاں میں نے منہ لگایا ہوتا۔ زُہیرنے ’’فَیَشْرَبُ‘‘ یعنی آپؐ کے پانی پینے کا ذکر نہیں کیا۔
302
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ یہود میں جَب کوئی عورت حائضہ ہوتی، نہ تو وہ اس کے ساتھ کھانا کھاتے اور نہ گھروں میں ان کے ساتھ اکٹھے رہتے تونبیﷺ کے صحابہؓ نے نبیﷺ سے پوچھااس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ھُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ۔ ۔ ۔ آخر تک۔ ترجمہ: اور وہ تجھ سے حیض کی حالت کے بارہ میں سوال کرتے ہیں۔ تُو کہہ دے کہ یہ ایک تکلیف (کی حالت) ہے۔ پس حیض کے دوران عورتوں سے الگ رہو۔ (سورۃ البقرہ: 223) اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ازدواجی تعلقات کے سوا سب کچھ کر سکتے ہو۔ جب یہ بات یہود تک پہنچی تو انہوں نے کہا یہ شخص ہماری کسی بات کو نہیں چھوڑتا مگر اس میں ہماری مخالفت کرتا ہے۔ پھر حضرت اُسَیْد بن حُضَیر اور حضرت عبّادؓ بن بشر آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہود اس اس طرح کہتے ہیں اس لئے ہم(بھی) ان (عورتوں )کے ساتھ اکٹھے نہ رہاکریں۔ اس پر رسول اللہﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا اور ہم نے خیال کیا کہ آپؐ ان دونوں سے خفا ہیں۔ وہ باہر نکلے تو اُن دونوں کے سامنے دودھ کا تحفہ جو نبیﷺ کی خدمت میں بھیجاجا رہا تھا آیا۔ آپؐ نے ان دونوں کے پیچھے وہ (دودھ) بھیجا اور ان دونوں کو پلایا تو وہ جان گئے کہ آپؐ ان سے ناراض نہیں ہیں۔
303a
حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کچھ مذی کی تکلیف تھی لیکن میں شرماتا تھا کہ اس بارہ میں نبیﷺ سے سوال کروں بوجہ اس کے کہ آپؐ کی صاحبزادی میرے ہاں تھیں۔ مَیں نے مقدادؓ بن اسودسے کہا۔ چنانچہ انہوں نے آپؐ سے سوال کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور وضوء کرے۔
303b
حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ میں حضرت فاطمہؓ کی وجہ سے شرماتا تھا کہ نبیﷺ سے مذی کے بارہ میں سوال کروں۔ پس میں نے مقدادؓ سے کہا۔ انہوں نے نبیﷺ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ اس کی وجہ سے وضوء ہے۔
303c
حضرت علیؓ بن ابی طالب کہتے ہیں کہ ہم نے مقداد بن اسودؓ کو رسول اللہﷺ کی خدمت میں بھیجا تو انہوں نے مذی کے بارہ میں آپؐ سے پوچھاجو انسان سے خارج ہوتی ہے کہ اس کے بارہ میں کیا کرے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ وضوء کرو اور اپنی شرمگاہ دھو ڈالو۔