بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
312
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک عورت نے رسول اللہﷺ سے اس عورت کے بارہ میں جونیند میں وہ دیکھے جو مردنیند میں دیکھتا ہے سوال کیاتو آپؐ نے فرمایا کہ اگر ایسا عورت سے ہو جو مرد سے ہوتا ہے تو چاہیے کہ وہ غُسل کرے۔
صحیح مسلم, كتاب الحيض, باب نمبر ۴۱, حدیث نمبر ۴۶۲, جلد نمبر صفحہ نمبر ۷۵316d
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب غُسلِ جنابت فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے دھونے سے شروع فرماتے قبل اس کے کہ آپؐ برتن میں اپنا ہاتھ داخل کرتے۔ پھر آپؐ نماز کے وضوء کی طرح وضوء فرماتے۔
317c
حضرت ابن عباسؓ حضرت میمونہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ کی خدمت میں ایک رومال پیش کیا گیا لیکن آپؐ نے اُسے نہ چھؤا اور پانی کے ساتھ ایسا کرنے لگے یعنی آپؐ اسے جھاڑنے لگے۔
318
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب غُسلِ جنابت فرماتے تو حلاب جیسی چیز منگواتے پھر اپنے ہاتھ میں لے کر پہلے سر کے دائیں اور پھر بائیں حصہ پر ڈالتے۔ پھر اسے دونوں ہاتھوں میں لے لیتے۔ پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر پر(پانی) ڈالتے۔
319a
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک برتن جسے ’’فرق‘‘ کہتے ہیں سے غُسلِ جنابت فرماتے تھے۔
صحیح مسلم, كتاب الحيض, باب نمبر ۴۴, حدیث نمبر ۴۷۱, جلد نمبر صفحہ نمبر ۸۲313a, 313b, 314a
حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ حضرت ام سلیمؓ نبیﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ یقینا حق سے نہیں شرماتا۔ کیا جب عورت کو احتلام ہو تو وہ غسل کرے؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا ہاں، جب پانی دیکھے۔ حضرت ام سلمہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا عورت کوبھی احتلام ہوتا ہے؟آپؐ نے فرمایا اللہ تیرا بھلا کرے (اگر ایسا نہ ہو) اس کا بچہ اس سے کیوں مشابہ ہوتا ہے؟ ہشام بن عروہ نے مزید کہا قَالَتْ قُلْتُ فَضَحْتِ النِّسَائَ کہ حضرت ام سلمہؓ نے کہا تھا تم نے عورتوں کو شرمندہ کر دیا۔ ابن شہاب سے روایت ہے انہوں نے کہا مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ نے آپ کو بتایا کہ حضرت ابو طلحہؓ کے بیٹوں کی والدہ حضرت ام سلیمؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ پھر ہشام والی روایت بیان کی سوائے اس کے کہ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ میں نے کہا افوہ! کیا عورت بھی ایسا دیکھتی ہے؟
314b
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کیا جب عورت کو احتلام ہو اور وہ پانی دیکھے تو غسل کرے؟ تو آپؐ نے فرمایاہاں۔ حضرت عائشہؓ نے اس سے کہا تیرا بھلا ہو۔ وہ کہتی ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اسے چھوڑدو۔ اور مشابہت کس وجہ سے ہوتی ہے۔ جب اس کا پانی مرد کے نطفہ پر غالب ہو تو بچہ اپنے مامؤوں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ اپنے چچوں سے مشابہ ہوتا ہے۔
315a, 315b
رسول اللہﷺ کے آزادکردہ غلام حضرت ثوبانؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس کھڑا تھا کہ یہودی علماء میں سے ایک عالم آیا اور کہنے لگا اے محمدؐ ! تجھ پر سلام ہو۔ میں نے اس کو ایک دھکا دیا قریب تھا کہ وہ اس سے گر جاتا۔ اس نے کہا کہ تم مجھے دھکا کیوں دیتے ہو؟ میں نے کہا کہ تم یا رسول اللہ کیوں نہیں کہتے؟ یہودی نے کہا کہ ہم اسے اُسی نام سے پکارتے ہیں جو اس کے گھر والوں نے اسے دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا میرا نام محمدؐ ہے جو میرے گھر والوں نے مجھے دیا۔ یہودی نے کہا کہ میں آپؐ کے پاس (کچھ)پوچھنے کے لئے آیا ہوں۔ رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا کہ اگر میں تمہیں کچھ بتاؤں توکیا وہ بات تمہیں فائدہ دے گی؟ اس نے کہا کہ میں اپنے دونوں کانوں سے سنوں گا۔ پھر رسول اللہﷺ نے چھڑی سے جو آپؐ کے پاس تھی اس سے زمین پر نشان لگایاپھر فرمایا کہ پوچھو، یہودی نے کہا جب یہ زمین دوسری زمین سے اور آسمان بدل دئیے جائیں گے تو لوگ کہاں ہوں گے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ وہ اندھیرے میں پل کے ورے ہوں گے۔ اس نے پوچھا کہ لوگوں میں سے سب سے پہلے عبور کرنے والے کون ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا مہاجر فقراء۔ یہودی نے پوچھا کہ جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کاتحفہ کیا ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا کہ مچھلی کے جگر کا (بڑھاہوا) ٹکڑا۔ اس نے کہا کہ اس کے بعد ان کی غذا کیا ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا کہ ان کے لئے جنت کا بیل قربان کیا جائے گاجو اس کے کناروں سے چرا کرتا تھا۔ پھر اس نے پوچھا کہ اس کے بعدان کا مشروب کیا ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا اس میں ایک چشمہ ہے جو سلسبیل کہلاتا ہے۔ اس یہودی نے کہا کہ آپؐ نے سچ فرمایا۔ اس نے کہا کہ میں آپؐ سے ایسی بات پوچھنے آیا ہوں جسے زمین والوں میں سے سوائے نبی کے یا ایک دو آدمیوں کے کوئی نہیں جانتا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر میں تمہیں بتاؤں توتمہیں کوئی فائدہ ہوگا؟ اس نے کہا کہ میں اپنے دونوں کانوں سے سنوں گا۔ اس نے کہا کہ میں بچہ کے بارہ میں پوچھنے آیا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا مرد کا پانی سفید اور عورت کا زردی مائل ہوتا ہے جب وہ دونو ں ملتے ہیں اور مرد کی منی عورت کی منی پر غالب آجاتی ہے تو اللہ کے اذن سے ان کے ہاں لڑکاپیدا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آجائے تو اذنِ الٰہی سے ان کے ہاں لڑکی ہوگی۔ یہودی نے کہا کہ آپؐ نے سچ فرمایا آپؐ ضرور نبی ہیں۔ پھر وہ مُڑا اور چلا گیااوررسول اللہﷺ نے فرمایا اس نے مجھ سے پوچھا اور جن باتوں کے متعلق اس نے مجھ سے پوچھا مجھے ان کا کچھ علم نہیں تھا یہاں تک کہ اللہ نے مجھے اس بارہ میں علم دیا۔ عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی کی روایت میں (کُنْتُ قَائِمًا کے بجائے کُنْتُ قَاعِدًا کے الفاظ ہیں۔ نیز(زِیَادَۃُ کَبِدِ النُّوْنِ کے بجائے) زَائِدَۃُ کَبِدِ النُّوْنِ کے الفاظ ہیں اور (اَذْکَرَا وَآنَثًا کے بجائے) اَذْکَرَ وَ آنَثَ کے الفاظ ہیں۔
316a, 316b, 316c
حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب غُسلِ جنابت فرماتے تو سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرمگاہ دھوتے۔ پھر نماز کے وضوء کی طرح وضوء فرماتے۔ پھر پانی لیتے اور اپنی انگلیوں کو بالوں کی جڑوں میں داخل کرتے یہانتک کہ جب آپؐ دیکھتے کہ اچھی طرح صفائی ہوگئی ہے تو اپنے سر پردونوں ہاتھوں سے تین دفعہ پانی ڈالتے۔ پھر اپنے سارے جسم پر پانی ڈالتے۔ پھر اپنے دونوں پاؤں دھوتے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے غسلِ جنابت فرمایاتو سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا۔ پھر راوی نے ابو معاویہ کی حدیث کی طرح ہی ذکر کیا۔ ہاں دونوں پاؤں کے دھونے کا ذکر نہیں کیا۔
317a, 317b
حضرت ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ مجھے میری خالہ حضرت میمونہؓ نے بتایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کے غُُسلِ جنابت کے لئے پانی آپؐ کے قریب رکھا۔ آپؐ نے دو یا تین مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ دھوئے۔ اور آپؐ نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل فرمایا۔ اور آپؐ نے اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی بہایا اور بائیں ہاتھ سے دھویا۔ اور آپؐ نے بایاں ہاتھ زمین پر مارا اور اسے اچھی طرح رگڑا۔ پھر آپؐ نے نماز کے وضوء کی طرح وضوء فرمایا۔ پھر آپؐ نے اپنے سر مبارک پر تین مرتبہ اوک بھر کر پانی ڈالا۔ پھر آپؐ نے سارا جسم دھویا۔ پھر آپؐ اپنی اس جگہ سے ہٹ گئے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ پھر میں نے آپؐ کوایک رومال دیا جسے آپؐ نے واپس کر دیا۔ یحیٰ بن یحیٰ اور ابو کریب دونوں کی روایتوں میں تین مرتبہ اوک بھر کرپانی ڈالنے کا ذکر نہیں ہے اور وکیع کی روایت میں مکمل وضوء کا بیان ہے۔ وہ کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کا اس میں ذکر کرتے ہیں اور معاویہ کی روایت میں رومال کا ذکر نہیں ہے۔