بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 240 hadith
حضرت عمر بن خطابؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب مؤذِّن اللہ اکبر، اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے) کہے اور تم میں سے بھی کوئی اپنے دل سے اللہ اکبر، اللہ اکبر کہے، پھر جب وہ اَشْہَدُ اَنْ لََا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ (یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ) کہے تواَشْہَدُ اَنْ لََا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہے۔ پھر وہ (مؤذِّن) اَشْہَدُ اَ نَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہے تو وہ (بھی) اَشْہَدُ اَ نَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہے۔ پھر جب (مؤذن)حَیَّ عَلَی ا لصَّلََاۃِ کہے تووہ کہے لََا حَوْلَ وَلََا قُوَّۃَ اِلََّا بِاللّٰہِ یعنی اللہ کے سوا نہ(برائی) ہٹانے کی طاقت اور نہ(بھلائی)دینے کی قوّت ہے۔ پھر جب (مؤذّن) لََا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہے تووہ بھی لََا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہے تو وہ جنت میں جائے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر تیزی سے بھاگ جاتا ہے۔
(تشریح)حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے مؤذن (کی اذان) سن کر یہ کہا کہ اَشْہَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَ نَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا وَبِالْاِسْلََامِ دِیْنًا (یعنی) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ ایک ہے اُس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمدؐ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں اللہ کے رب ہونے اور محمدؐ کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اس کے گناہ بخش دئیے گئے۔ ۱بن رُمح نے اپنی روایت میں کہاکہ جب مؤذّن کو سنے تو کہے وَاَ نَا اَشْہَدُ مگر قتیبہ کی روایت میں اَنَا کا لفظ نہیں ہے۔
طلحہ بن یحیٰ اپنے چچا سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابو سفیانؓ کے پاس تھا کہ ان کے پاس مؤذن انہیں نماز کے لئے بلانے آیا معاویہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن اذان دینے والے لوگوں میں سب سے لمبی گردن والے ہوں گے۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سناکہ شیطان جب اذان کی آواز سنتا ہے تو بھاگ جاتا ہے یہاں تک کہ روحاء مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے ان سے روحاء کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ مدینہ سے چھتیس میل کے فاصلہ پر ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ جب شیطان نماز کے لئے اذان کی آواز سنتا ہے تو دُم دبا کر بھاگ جاتا ہے تا اذان کی آواز نہ سنے۔ پھر جب وہ (مؤذن) خاموش ہوجاتا ہے تو (شیطان) لوٹ آتا ہے اور وسوسے ڈالتا ہے، پھر جب اقامت سنتا ہے تو چلا جاتا ہے تا کہ اس کی آواز نہ سن سکے۔ پھر جب (وہ) خاموش ہوجاتا ہے تو (شیطان) لوٹ آتا ہے اور وسوسے ڈالنے لگتا ہے۔
سہیل کہتے ہیں کہ مجھے میرے والدنے بنی حارثہ کی طرف بھیجا انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ ہمارا غلام یا ہمارا ساتھی تھا۔ باغ میں سے کسی نے اس کا نام لے کر پکارا۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھی نے دیوار سے جھانک کر دیکھا تو اس کوکچھ نظر نہ آیا۔ میں نے اس بات کا ذکر اپنے والد سے کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر مجھے اس کا علم ہوتا کہ تمہیں یہ پیش آئے گا تو میں تمہیں نہ بھیجتا لیکن آئندہ اگر تم کوئی آواز سنو تو اذان دیا کروکیونکہ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے سنا ہے وہ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایاجب نماز کی اذان کہی جائے تو شیطان منہ پھیر کرتیزی سے بھاگ جاتاہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان دم دبا کر بھاگ جاتا ہے یہانتک کہ وہ اذان نہیں سُنتا۔ پھر جب اذان ہو جائے تو آجاتا ہے۔ یہانتک کہ جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے توپھر پیٹھ پھیر لیتا ہے یہانتک کہ جب اقامت ختم ہو تو واپس آجاتا ہے اور آدمی اور اس کے دل میں وسوسے ڈالنے لگتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کرو اور فلاں بات یاد کرو جو اس سے پہلے اس کو یادنہیں ہوتی یہانتک کہ (وہ) آدمی ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی (رکعت) نماز پڑھی۔
سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہامیں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ جب آپؐ نماز شروع فرماتے تو دونوں ہاتھ اوپر اُٹھاتے یہانتک کہ آپؐ کے ہاتھ کندھوں کے برابر ہو جاتے۔ اسی طرح رکوع میں جانے سے پہلے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی لیکن دونوں سجدوں کے درمیان آپؐ دونوں (ہاتھ) نہیں اٹھاتے تھے۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے یہانتک کہ دونوں کندھوں کے برابرہو جاتے، پھر آپؐ تکبیر کہتے، پھر جب آپؐ رکوع کا ارادہ فرماتے تو اسی طرح کرتے۔ جب رکوع سے کھڑے ہوتے تو ایسا ہی کرتے ہاں سجدہ سے سر اٹھاتے وقت آپؐ ایسا نہ کرتے۔ زہری نے ابن جریج سے اسی سند سے یہ روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ اُٹھاتے یہانتک کہ آپؐ کے دونوں (ہاتھ) آپؐ کے دونوں کندھوں کے برابر ہو جاتے، پھر آپؐ تکبیر کہتے۔