بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 240 hadith
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نماز کو تکبیرسے اور قراءت کو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے شروع فرماتے۔ جب آپؐ رکوع فرماتے تو سر کو نہ تو اوپر اٹھارکھتے اور نہ ہی بالکل جھکا دیتے بلکہ اس کے درمیان رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ آپؐ سیدھے کھڑے ہو جاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو (دوسرا) سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ پوری طرح بیٹھ جاتے۔ آپؐ ہر دورکعتوں کے بعد اَلتَّحِیَّاتُ پڑھتے تھے اور آپؐ اپنا بایاں پاؤں بچھاتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور عُقْبَۃُ الشَّیْطَان ٭سے منع فرماتے اور اس سے بھی منع فرماتے کہ کوئی آدمی اپنے بازوؤں کو درندے کی طرح زمین پر بچھائے اور آپؐ نماز سلام کے ساتھ ختم فرماتے ابو خالد سے روایت میں عَقِبِ الشَّیْطَان٭ کے لفظ ہیں اور آپؐ ان سے منع فرماتے تھے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ سے نمازی کے سُترہ کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ کجاوہ کے پچھلے حصے جیسی کوئی چیز۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ اپنی اونٹنی اپنے سامنے (سترہ کے طور پر)کر لیتے اور اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھ لیتے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ اپنی سواری کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیتے، ابنِ نمیر کی روایت ہے کہ نبی کریم
موسیٰ بن طلحہ اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے کجاوہ کے پچھلے حصہ جیسی کوئی چیز رکھ لے تو وہ نماز پڑھے اور جو اس کے پرے سے گذرے اس کی پرواہ نہ کرے۔
موسیٰ بن طلحہ اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز پڑھا کرتے تھے توجانور ہمارے آگے گزر رہے ہوتے تھے۔ ہم نے اس بات کا ذکر رسول اللہﷺ سے کیا تو آپؐ نے فرمایاکجاوہ کے پچھلا حصہ جیسی کوئی چیز اگر تم میں سے کسی کے سامنے ہو پھر اس کے سامنے سے کوئی چیز گزر ے تو وہ اسے کوئی نقصان نہیں دے گی۔ ابن نمیر کی روایت میں مَعَ کی جگہ مَنْ کا لفظ ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب عید کے روز باہر تشریف لاتے تو برچھی کا حکم فرماتے تو وہ آپؐ کے سامنے گاڑی جاتی پھر آپؐ اس کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھاتے اور لوگ آپؐ کے پیچھے ہوتے اور آپؐ کا سفر میں یہی دستور تھا، پھر یہیں سے حکام نے اس کو اختیار کر لیا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نیزہ گاڑتے اور پھر اس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے۔ راوی ابو بکر نے اپنی روایت میں یَرْکُزُ کی جگہ یَغْرِزُ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ عُبَیداللہ نے کہا ’’وہ (اَلْعَنْزۃُ ہی) اَلْحَرْبَۃُ یعنی برچھی ہے۔
عون بن ابی جحیفہؓ اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہاکہ میں نبیﷺ کی خدمت میں مکہ میں حاضر ہوا۔ آپؐ ابطح میں اپنے ایک سرخ رنگ کے خیمہ میں تھے جو چمڑے کا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت بلالؓ آپؐ کے وضوء کا پانی لے کر باہر نکلے تو کوئی لینے والا تھا کوئی چھڑکنے والا تھا۔ وہ کہتے ہیں پھر نبیﷺ باہر تشریف لائے۔ آپؐ سرخ رنگ کا جوڑا پہنے ہوئے تھے گویا کہ میں آپؐ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر آپؐ نے وضوء کیا اور بلالؓ نے اذان دی، وہ کہتے ہیں کہ بلالؓ جب حَیَّ عَلَی الصَّلََاۃِ اور حَیَّ عَلَی الفَلََاحِ کہتے وقت اپنے منہ کو دائیں بائیں حرکت دیتے تو میں ان کے منہ کوادھر ادھرہوتے ہوئے دیکھنے لگا۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر آپؐ کے لئے برچھی گاڑی گئی پھر آپؐ آگے آئے اور ظہر کی دو رکعتیں ادا فرمائیں درِیں اثناء آپؐ کے سامنے گدھے اور کتے وغیرہ گذرتے لیکن انہیں روکا نہ گیا پھر آپؐ نے عصر کی دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر آپؐ دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے یہانتک کہ مدینہ واپس تشریف لے آئے۔