بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 240 hadith
عون بن ابی جحیفہ نے ہمیں بتایا کہ ان کے والدؓ نے رسول اللہﷺ کو چمڑے کے ایک سرخ خیمہ میں دیکھا اور میں نے حضرت بلالؓ کو دیکھا کہ وہ (رسول اللہﷺ کے) وضوء کا پانی لائے اور میں نے لوگوں کو دیکھا کہ اس وضوء کے پانی کے لئے لپک رہے ہیں۔ جس شخص کو اس میں سے کچھ مل جاتا تو وہ اسے اپنے بدن پر ملتا جسے کچھ نہ ملتا تو وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری سے ہی کچھ لے لیتا، پھر میں نے حضرت بلالؓ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک برچھی لی اور اسے گاڑ دیا اور پھر رسول اللہﷺ سرخ جوڑے میں کمر کسے ہوئے باہر تشریف لائے اور اس برچھی کی طرف رخ کرکے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور میں نے لوگوں اور چوپایوں کو دیکھا کہ وہ اس برچھی کے سامنے سے گذر رہے تھے۔ مالک بن مغول کی روایت میں ہے کہ دو پہر کے وقت بلالؓ باہر نکلے اور انہوں نے اذان دی۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک گدھی پرسوار ہو کر آیا۔ ان دنوں میں مَیں بلوغت کے قریب تھا اور رسول اللہ
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو کسی کو اپنے سامنے سے نہ گذرنے دے اور جہاں تک ہو سکے اسے ہٹائے پھر اگر وہ انکار کرے تو اس کا مقابلہ کرے کیونکہ وہ شیطان ہے۔
حضرت سہل بن سعدؓ الساعدی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی نماز پڑھنے کی جگہ اور دیوار کے درمیان ایک بکری کے گذرنے کے برابر فاصلہ تھا۔
حضرت ابو جحیفہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ دوپہر کے وقت بطحاء کی طرف نکلے وضوء کیا پھر ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں جبکہ آپؐ کے سامنے برچھی تھی۔ شعبہ کہتے ہیں کہ عون نے اپنے والد ابو جحیفہ سے مزید بیان کیا کہ اس کے پرے سے عورتیں اور گدھے (وغیرہ) گزرتے تھے۔ حکم کی روایت میں مزید یہ بیان کیا گیا ہے کہ لوگ آپؐ کے وضوء سے بچے ہوئے پانی سے بھی لینے لگے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بتایا کہ وہ گدھے پر سوار ہوکر آئے تھے جبکہ رسول اللہﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر منٰی میں کھڑے ہوئے‘ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ گدھا ایک صف کے کچھ حصہ کے سامنے سے گزرا۔ پھر وہ اس سے اترے اور لوگوں کے ساتھ صف بنائی۔ زہری اسی سند سے روایت بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ عرفہ کے مقام پر نماز پڑھا رہے تھے۔ معمر زہری سے اسی سند سے روایت کرتے ہیں مگر انہوں نے اس روایت میں انہوں نے نہ تو منٰی کا ذکر کیا ہے نہ ہی عرفہ کا صرف اتنا کہا ہے کہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر یا فتح (مکّہ) کے دن۔
ابن ہلال یعنی حمید کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک دوست ہم آپس میں ایک حدیث کا ذکر رہے تھے۔ ابوصالح ا لسمان نے کہا کہ میں تمہیں بتاتا ہوں جو میں نے حضرت ابو سعیدؓ سے سنا اور دیکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوسعیدؓ کے ساتھ تھااور وہ جمعہ کے دن کسی چیز کی طرف نماز پڑھ رہے تھے جو لوگوں سے ان کے لئے سترہ تھی۔ بنی ابو معیط کا ایک نوجوان آیا اور اس نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا تو انہوں نے اس کو سینہ (پر ہاتھ رکھ کر)پیچھے ہٹایا اس نے دیکھا مگر اور کوئی رستہ نہ پایا سوائے حضرت ابو سعیدؓ کے سامنے سے۔ تو وہ پھر دوبارہ آیا تو انہوں (حضرت ابو سعیدؓ ) نے اسے سینہ (پر ہاتھ رکھ کر) پہلے سے زیادہ زور سے پیچھے ہٹایا تو اس پر وہ کھڑا ہو گیا اور حضرت ابو سعیدؓ کو بُرا بھلا کہنے لگا اور لوگوں سے بھی مزاحمت کرنے لگااور وہاں سے نکلا اور مروان کے پاس جاکر جو اسے پیش آیاشکایت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو سعیدؓ مروان کے پاس گئے تو مروان نے ان سے کہا تمہارے اور تمہارے بھتیجا کا کیا معاملہ ہے وہ آپ کی شکایت لے کر آیا ہے۔ حضرت ابو سعیدؓ نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی لوگوں سے کسی چیز کو سُترہ بناکر نماز پڑھے اور کوئی اس کے سامنے سے گذرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اس کے(سینہ پر ہاتھ رکھ کر)اسے روکے اور اگر وہ انکار کرے تو وہ اس سے مقابلہ کرے کیونکہ وہ شیطان ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے سے کسی کو گذرنے نہ دے اور اگر وہ انکار کرے تو اس کا مقابلہ کرے کیونکہ اس کے ساتھ (بِئْسَ الْقَرِیْنَ) برا ساتھی ہے۔
بُسر بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت زید بن خالدؓ جہنی نے ان کو حضرت ابو جہیمؓ کی طرف یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ انہوں نے نمازی کے سامنے سے گذرنے والے کے بارہ میں رسول اللہﷺ سے کیا سُنا ہے؟ حضرت ابو جہیمؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر نماز ی کے سامنے سے گذرنے والے کو پتہ ہو کہ اس پر کیا وبال پڑے گا تو چالیس تک کھڑے رہنا اس کے لئے بہتر ہوتا بہ نسبت اس کے کہ وہ (نمازی) کے سامنے سے گذرے۔ راوی ابو النضرکہتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے چالیس دن کہا یا مہینے یاسال۔
ابن ابی عبیدحضرت سلمہؓ بن اکوع کے بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ وہ نفل نماز کے لئے مصحف رکھنے کی جگہ کا اہتمام کرتے تھے۔ انہوں (حضرت سلمہؓ بن اکوع) نے ذکر کیا کہ رسول اللہﷺ اس جگہ کا اہتمام فرماتے تھے اور منبر اور قبلہ کے درمیان ایک بکری کے گذرنے کے برابر جگہ تھی۔