بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 116 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قافلے والوں کو سودا کرنے کی خاطر آگے بڑھ کر نہ مِلا جائے اور تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور محض دام بڑھانے کی خاطر بولی نہ دو اور کوئی شہری دیہاتی کی طرف سے سودا نہ بیچے اور اونٹنیوں اور بھیڑ بکریوں کے دودھ روک کر نہ رکھو۔ اگر ایسی صورت کے بعد کوئی ان کو خریدے تو اس کو دودھ دوہنے کے بعد دو صورتوں میں سے بہتر کا اختیار ہے۔ اگر وہ اس جانور پر راضی ہے تو اسے رکھ لے اور اگر وہ اسے ناپسند ہے تو وہ اس (جانور) کو واپس لوٹا دے اور ساتھ کھجور کا ایک صاع (قریبًا تین سیر) دے دے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے قافلے والوں سے آگے جاکر ملنے سے منع فرمایا اور اس بات سے بھی کہ شہری بادیہ نشین کی طرف سے فروخت کرے اور اس بات سے کہ کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق طلب کرے اور قیمت بڑھانے کی خاطر بولی دینے سے اور جانوروں کا دودھ روک لینے اور اس بات سے کہ آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے محض قیمت بڑھانے کی خاطر بولی دینے سے منع فرمایا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ سودا آگے جا کر حاصل کیا جائے یہا نتک کہ وہ منڈیوں میں پہنچے۔ یہ الفاظ ابن نمیر کے ہیں اور دوسرے دو راویوں نے (اَنْ تُتَلَقَّیْ کی بجائے) عَنِ التَّلَقَّی کے الفاظ کہے ہیں۔
حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آگے جاکر اموال تجارت لینے سے منع فرمایا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے منع فرمایا کہ آگے جا کر درآمدی مال تجارت لیا جائے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا درآمد ہونے والے مال تجارت کو آگے جاکر نہ لو اور جو اسے پائے اور اس میں سے خریدے پھر جب اس کا مالک منڈی میں آئے تو وہ صاحب اختیار ہوگا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے جو وہ نبیﷺ تک پہنچاتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا شہری بادیہ نشین کا مال نہ بیچے اور راوی زہیر نبیﷺ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپؐ نے منع فرمایا کہ شہری بادیہ نشین کی طرف سے سودا بیچے۔
حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے رسول اللہﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ باہر جا کر قافلوں کو ملا جائے اور یہ کہ شہری بادیہ نشین کی طرف سے سودا بیچے۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا کہ شہری بادیہ نشین کے لئے فروخت نہ کرے سے کیا مراد ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس کے لئے دلاّل نہ بنے۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا شہری بادیہ نشین کی طرف سے سودا نہ بیچے۔ لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ بعض کو بعض کے ذریعہ رزق دیتا ہے۔ ایک اور روایت میں (یَرْزُقُ اللّٰہُ کی بجائے) یُرْزَقُ کے الفاظ ہیں۔