بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 171 hadith
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدوی نے رسول اللہﷺ سے ہجرت کے بارے میں پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا تیرا بھلا ہو، ہجرت ایک مشکل کام ہے۔ کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا تم تو سمندروں کے پار (بھی) عمل کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ کم نہیں دے گا۔ اوزاعی کی روایت میں ہے آپؐ نے فرمایا کیا تم ان کو پانی کے گھاٹ پر جانے والے دن دوہتے ہو؟
عروہ بن زبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں مومن عورتیں جب رسول اللہﷺ کے پاس ہجرت کرکے آتیں تو اللہ عزّ وجل کے اس قول کے مطابق ان کا امتحان لیا جاتا ’’اے نبیؐ ! جب مومن عورتیں تیرے پاس آئیں (اور) اس (امر) پر تیری بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور نہ ہی چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی۔ الآیۃ۔۔۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مومن عورتوں میں سے جو اس کا اقرار کرتی گویا اس نے آزمائش کا اقرار کیا۔ اور جب وہ اس بات کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہﷺ ان سے فرماتے اب جا سکتی ہو۔ میں نے تمہاری بیعت لے لی ہے اور اللہ کی قسم رسول اللہﷺ کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا۔ آپؐ ان سے الفاظ میں بیعت لیتے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں بخدا رسول اللہﷺ نے عورتوں سے کبھی کوئی اقرار نہیں لیا مگر وہی جس کا اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو حکم دیا تھا اور رسول اللہﷺ کی ہتھیلی کبھی کسی عورت کی ہتھیلی سے مس نہیں ہوئی۔ جب آپؐ ان سے بیعت لیتے تو ان کو زبانِ مبارک سے فرماتے کہ میں تم سے بیعت لے چکا ہوں۔
عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے انہیں عورتوں کی بیعت کے متعلق بتایا وہ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ سے کبھی کسی عورت کو نہیں چھوا۔ مگر جب آپؐ بیعت لیتے تو وہ آپؐ کے سامنے اقرار کر لیتیں تو آپؐ فرماتے تم جا سکتی ہو، میں نے تمہاری بیعت لے لی ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کی بیعت سننے اور اطاعت کرنے پر کرتے تھے۔ آپؐ ہم سے فرماتے جتنی تم میں طاقت ہو۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں اُحد کے دن جنگ میں رسول اللہﷺ نے جب کہ میں چودہ سال کا تھا میرا جائزہ لیا مگر آپؐ نے مجھے اجازت نہ دی اور پھر مجھے آپؐ نے (جنگ) خندق کے دن جب کہ میں پندرہ سال کا تھا میرا جائزہ لیا اور مجھے اجازت عطا فرمائی۔ نافع کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس آیا وہ ان دنوں خلیفہ تھے اور میں نے ان سے یہ بات بیان کی تو انہوں نے کہا یہی بڑے اور چھوٹے کے درمیان حدّ فاصل ہے۔ پھر انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ جو کوئی پندرہ برس کا ہو تو اس کا حصہ مقرر کرو اور جو اس سے کم ہو۔ اسے بچوں میں شامل کرو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ میں چودہ سال کا تھا (آپؐ) نے مجھے چھوٹا شمار کیا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے منع فرمایا کہ قرآن لے کر دشمن کے علاقہ میں سفر کیا جائے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ منع فرمایا کرتے تھے کہ دشمن کے علاقہ میں قرآن لے کر سفر کیا جائے اس ڈر سے کہ کہیں دشمن (بے حرمتی کے لئے) اس کو لے لے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قرآن کے ساتھ سفر نہ کرو کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ ایوب کہتے ہیں کہ وہ دشمن کے ہاتھ لگ گیا ہے اور وہ تم سے اس بارہ میں جھگڑا کرتے ہیں۔ ایک روایت میں (فَاِنِّیْ لَا آمَنُ کی بجائے) فَاِنِّیْ اَخَافُ اور ایک روایت میں مَخَافَۃَ اَنْ یَنَالَہُ الْعَدُوُّ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے تیار کئے گئے گھوڑوں کی حفیاء سے ثنیہ الوداع تک دوڑ کروائی اور جو تیار نہیں کئے گئے تو ان کی ثنیہ سے مسجد بنی زُریق تک دوڑ کروائی اور حضرت ابن عمرؓ ان میں سے تھے جنہوں نے دوڑ میں حصہ لیا۔ ایک اور روایت ہے، حضرت عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ میں اول آیا اور میرا گھوڑا مجھے لے کر مسجد (کی دیوار) پھلانگ گیا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک بھلائی ہے۔