بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 171 hadith
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن ہم چودہ سو تھے۔ ہم نے آپﷺ کی بیعت کی اور حضرت عمرؓ درخت کے نیچے جو کیکر کا تھا آپؐ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں ہم نے آپؐ کی بیعت اس بات پر کی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے اور ہم نے آپؐ کی بیعت موت پر نہیں کی۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت موت پر نہیں کی صرف اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے۔
ابو الزبیر نے بتایا انہوں نے حضرت جابرؓ سے سنا جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ حدیبیہ کے دن کتنے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہم چودہ سو تھے ہم نے آپؐ کی بیعت کی اور حضرت عمرؓ ایک درخت کے نیچے جو کیکر کا تھا آپؐ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ جدّ بن قیس انصاری کے سوا سب نے آپؐ کی بیعت کی۔ وہ اپنے اُونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا۔
ابو زبیر نے حضرت جابرؓ سے سنا جب اُن سے پوچھا گیا کیا نبیﷺ نے ذوالحلیفہ میں بیعت لی تھی؟ انہوں نے کہا نہیں لیکن آپؐ نے وہاں نماز پڑھی تھی اور آپؐ نے کسی درخت کے پاس بیعت نہیں لی سوائے اس درخت کے جو حدیبیہ میں ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کو کہتے سنا کہ نبیﷺ نے حدیبیہ کے کنوئیں پر دعا کی۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن ہم چودہ سو تھے۔ نبیﷺ نے ہم سے فرمایا تم آج زمین پر رہنے والوں میں سب سے بہتر ہو۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ اگر میری بینائی ہوتی تو میں تمہیں درخت کی جگہ دکھا دیتا۔
سالم بن ابی الجعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے اصحاب الشجرۃ کے متعلق پوچھا انہوں نے کہا اگر ہم ایک لاکھ ہوتے تو بھی ہمارے لئے کافی تھا ہم پندرہ سو تھے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے اگر ہم ایک لاکھ ہوتے تو بھی ہمارے لئے کافی ہو جاتا ہم پندرہ سو تھے۔
سالم بن ابی الجعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے کہا تم اس دن کتنے تھے انہوں نے کہا چودہ سو۔
حضرت عبد اللہؓ بن ابی اوفیٰ کہتے ہیں کہ اصحاب الشجرۃ تیرہ سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجروں کا آٹھواں حصہ تھے۔
حضرت معقلؓ بن یسار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو شجرہ کے دن دیکھا جب نبی ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے اور میں نے اس (درخت) کی شاخوں میں سے ایک شاخ کو آپؐ کے سر سے ہٹا رکھا تھا اور ہم چودہ سو تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے موت پر بیعت نہیں کی تھی بلکہ اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے۔