بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 209 hadith
حضرت ابو سَلَمہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے سنا میرے ذمہ رمضان کے روزے ہوتے تھے اور میں رسول اللہﷺ (کی خدمت میں) مصروفیت کی وجہ سے انہیں سوائے شعبان کے مہینہ کے پورا کرنے کا موقعہ نہ پاتی تھی۔ راوی کہتے ہیں یا یہ کہا ’’اَلْشُغْلُ بِرَسُولِ اللّٰہِﷺ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ یہ (حضرت عائشہؓ کے) رسول اللہﷺ کی ذمہ واریوں کی ادائیگی کی وجہ سے تھا۔ ایک اور روایت میں ’’لِمَکَانِھَا مِنَ النَّبِیِّﷺ‘‘ کے الفاظ ہیں۔ احادیث اور تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات اور خاندانِ نبویؐ کے دیگر افراد عبادت، خدمت دین اور خدمت مخلوق میں حد درجہ مصروف رہتے تھے۔ ایک دوسری روایت میں اَلْشُغْلُ بِرَسُولِ اللّٰہِﷺ کے الفاظ نہیں۔ ایک اور روایت میں ہے راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ حضرت عائشہؓ کے رسول اللہﷺ کی ذمہ واریوں کی ادائیگی کی وجہ سے تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں ہم (ازواج مطہرات) میں سے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کسی ایک کو جو روزے چھوڑنے پڑتے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ان کو پورا کرنے کا موقعہ نہیں پاتی تھیں یہاں تک کہ شعبان کا مہینہ آ جاتا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھ لے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور اس نے کہا میری ماں فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے ہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر اس کے ذمہ کوئی قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتیں؟ اس نے کہا ہاں آپؐ نے فرمایا پھر اللہ کا قرض زیادہ حق رکھتا ہے کہ (اسے) ادا کیا جائے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! میری ماں فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے ہیں۔ کیا میں وہ اس کی طرف سے رکھوں؟ آپؐ نے فرمایا اگر تمہاری والدہ پر قرضہ ہوتا تو کیا تم اس کی طرف سے وہ ادا کرتے؟ اس نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا تو اللہ کا قرض زیادہ حق رکھتا ہے کہ ادا کیا جائے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسولؐ اللہ! میری ماں فوت ہوگئی ہے اور اس کے ذمہ نذر کے روزے تھے کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپؐ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہاری ماں کے ذمہ کوئی قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتیں تو کیا وہ اس کی طرف سے ادا ہو جاتا؟ اس نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا پھر اپنی ماں کی طرف سے روزے رکھو۔
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اس اثناء میں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ آپؐ کے پاس ایک عورت آئی اس نے کہا کہ میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقہ دی تھی اور وہ (ماں) فوت ہو گئی ہے۔ آپؐ نے فرمایا تمہارا اجر واجب ہو گیا اور ورثہ نے اسے (لونڈی کو) تمہارے پاس لوٹا دیا۔ وہ کہنے لگی یا رسولؐ اللہ! اس (ماں) کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپؐ نے فرمایا اس کی طرف سے روزے رکھو۔ اس نے کہا اس نے کبھی حج نہیں کیا تھا کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں؟ آپؐ نے فرمایا اس کی طرف سے حج کر لو۔ ایک اور روایت میں (بَیْنَ اَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ کی بجائے) کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِِّّ ﷺ کے الفاظ ہیں اسی طرح (صَوْمُ شَہْرٍ کی بجائے) صَوْمُ شَہْرَیْنِ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں (اَتَتْہُ امْرَأَ ۃٌ کی بجائے) جَائَ تِ اِمْرَأَ ۃٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں (جَائَ تِ امْرَئَ ۃٌ کی بجائے) اَتَتِ امْرَأَ ۃٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو وہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی کسی دن روزہ دار ہو تو وہ جسمانی خواہشات کی باتیں نہ کرے اور نہ ہی لڑائی جھگڑا کرے اور اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑے تو وہ کہے میں روزہ دار ہوں میں روزہ دار ہوں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے ابن آدم کا ہر عمل اس کے اپنے لئے ہے سوائے روزہ کے۔ وہ میرے لئے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔