بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
محمد بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن زکریا نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بُرید بن عبداللہ بن ابی بُردہ سے، بُرَید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا کہ وہ ایک دوسرے شخص کی تعریف کر رہا ہے اور تعریف میں اس کے متعلق مبالغہ کررہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تم نے ہلاک کر دیا یا (فرمایا:) آدمی کی پیٹھ تم نے توڑ ڈالی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں بغض نہ رکھو اور نہ حسد کرو اور نہ ایک دوسرے کی ملاقات کو چھوڑو اور بھائی بھائی ہو کر اللہ کے بندے بن جاؤ اور کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ رکھے۔
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے یہی حدیث ہمیں بتائی (اور اس میں ہے) کہ حضرت عائشہؓ بیان کرتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے اور فرمایا: عائشہ! میں نہیں خیال کرتا کہ فلاں اور فلاں شخص ہمارے اس دین کو سمجھتے ہوں جس پر ہم ہیں۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد سے، خالد نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کا ذکر کیا گیا تو ایک شخص نے اس کی اچھی تعریف کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر افسوس! تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔ آپؐ بار بار یہی فرماتے رہے۔ اگر تم میں سے کسی نے ضرور ہی تعریف کرنی ہے تو یوں کہے: میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ایسا ہے، اگر اس کو یہ معلوم ہو کہ وہ ایسا ہے۔ اللہ اس کا حساب جاننے والا ہے اور اللہ کے نزدیک کسی کو پاک و صاف نہ ٹھہرائے ۔ وُہَیب نے خالد سے روایت کرتے ہوئے (وَیْحَکَ کی بجائے) وَیْلَکَ نقل کیا ہے۔
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ بیان کرتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے اتنے دنوں تک اس حال میں رہے کہ آپؐ کو خیال ہوتا کہ آپؐ اپنے گھر والوں کے پاس آتے ہیں حالانکہ آتے نہ تھے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی تھیں: تو ایک دن آپؐ نے مجھ سے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بات کے متعلق بتا دیا ہے جس کے متعلق میں نے اس سے دریافت کیا تھا۔ میرے پاس دو شخص آئے۔ ان میں سے ایک میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے سرہانے۔ اور جو میرے پاؤں کے پاس تھا اس نے اس شخص سے جو میرے سرہانے تھا پوچھا: اس شخص کو کیا ہوا ہے؟ تو اس نے کہا: اسے جادو کیا گیا ہے۔ تو اس نے پوچھا: کس نے جادو کیا؟ اس نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے۔ پوچھا: کس میں؟ اس نے کہا: نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں، اس میں کنگھی اور کتان کے ریشے ہیں اور ذروان کنوئیں کے ایک پتھر کے تلے رکھا ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں گئے اور فرمایا: یہ وہ کنواں ہے جو مجھے دکھایا گیا ہے۔ جیسے اس کے کھجوروں کے درختوں کی چوٹیاں سانپوں کے پھن کی طرح ہیں اور جیسے اس کا پانی مہندی کے پانی کی طرح ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور وہ نکالا گیا۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی تھیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے یہ کیوں نہ کیا؟ یعنی آپؐ نے جادو کو کھلوایا کیوں نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تو مجھے شفا دے دی ہے اور میں بھی اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ لوگوں کے برخلاف شر کو بھڑکاؤں۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی تھیں کہ لبید بن اعصم بنو زُرَیق میں سے ایک شخص تھا جو یہودیوں کا حلیف تھا۔
(تشریح)بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ہمام بن منبہ سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھنا اپنے آپ کو بدگمانی سے بچاتے رہنا کیونکہ بدگمانی نہایت ہی جھوٹی بات ہے اور ٹوہ نہ لگاتے رہو اور نہ تجسس کرو اور نہ آپس میں حسد رکھو اور نہ آپس میں بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے کی ملاقات کو چھوڑو اور بھائی بھائی ہو کر اللہ کے بندے بن جاؤ۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھنا اپنے آپ کو بدگمانی سے بچانا کیونکہ بدگمانی بہت ہی بڑا جھوٹ ہے۔ اور ٹوہ میں نہ لگے رہو اور نہ ہی عیبوں کو ڈھونڈو اور دکھ دینے کے لئے قیمتیں نہ بڑھاؤ اور نہ آپس میں حسد کرو اور نہ بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے کی ملاقات چھوڑو اور بھائی بھائی ہو کر اللہ کے بندے بن جاؤ۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب کے بھتیجے سے، ان کے بھتیجے نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: میری اُمت میں سے ہر ایک کو معاف کر دیا جائے گا مگر ان کو نہیں جو کھلم کھلا گناہ کریں اور یہ بھی بے حیائی ہے کہ آدمی رات کو کوئی کام کرے اور پھر صبح کو ایسی حالت میں اٹھے کہ اللہ نے اس پر پردہ پوشی کی ہوئی ہے۔ تو پھر وہ یہ کہے کہ میں نے گزشتہ رات یہ یہ کیا۔ حالانکہ رات اس نے ایسی حالت میں گزاری کہ اس کا ربّ اس کی پردہ پوشی کئے رہا اور وہ صبح کو اُٹھتا ہے اپنے سے اللہ کے پردے کو کھول دیتا ہے۔