بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
محمد بن عثمان بن کرامہ نے مجھ سے بیان کیا ۔ خالد بن مخلد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سلیمان بن بلال سے، (سلیمان نے کہا:) شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے مجھ سے بیان کیا، شریک نے عطاء (بن یسار) سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے: جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو پھر میں بھی اسے آگاہ کئے دیتا ہوں کہ میں اس سے لڑوں گا اورمیرابندہ جن جن عملوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں کوئی عمل مجھ کو اُن عملوں سے زیادہ پسند نہیں جو میں نے ان پر فرض کئے ہیں اور میرا بندہ نفلوں کے ذریعہ مجھ سے قریب ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں پھر اس کا کان ہوجاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اس کو ضرور دوں اور اگر وہ میری پناہ لے تو میں اس کو ضرور پناہ دیتا ہوں اور میں کسی کام میں بھی جس کو میں کرنے لگتا ہوں کبھی تردد نہیں کرتا جتنا تردد کہ میں مؤمن کی جان کے متعلق کرتا ہوں وہ موت کو برا سمجھتا ہے اور میں اس کو تکلیف دینا ناپسند کرتا ہوں۔
(تشریح)سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ ابوغسان نے ہمیں بتایا کہ ابوحازم نے ہمیں حضرت سہلؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ اُنہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری بعثت اور وہ گھڑی یوں ہے اور آپؐ اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ فرماتے تھے اور دونوں کو لمباکرتے تھے۔
محمد بن علاء نے مجھ سے بیان کیا کہ اُبواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید (بن عبداللہ) سے، برید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے، حضرت ابوموسیٰؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپؐ نے فرمایا: جس نے اللہ کی ملاقات کی چاہت کی اللہ اس کی ملاقات کی چاہت کرے گا اور جس نے اللہ کی ملاقات کو ناپسند کیا اللہ اس کی ملاقات کو ناپسند کرے گا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ ابو زناد نے ہمیں بتایا، ابو زناد نے عبدالرحمٰن سے، عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ گھڑی قائم نہ ہوگی جب تک کہ سورج مغرب کی طرف سے نہ نکلے۔ جب وہ نکلے گا اور لوگ اس کو دیکھیں گے تو سب کے سب ایمان لے آئیں گے تو یہ وہ وقت ہوگا جب اس نفس کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوگا یا اس نے ایمان کی حالت میں بھلائی نہ کی ہوگی۔ دو آدمیوں نے اپنا کپڑا اپنے درمیان بچھایا ہی ہوگا اور ابھی آپس میں خریدوفروخت نہیں کی ہوگی اور ابھی اس کپڑے کو نہیں لپیٹا ہوگا کہ وہ گھڑی برپا ہوجائے گی۔ اور آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر واپس ہی ہوگا اور ابھی اس کو پیئے گا نہیں تو وہ گھڑی برپا ہوجائے گی۔ اور وہ اپنے حوض کو لیپ رہا ہوگا اور ابھی اس میں پانی نہیں پلایا ہوگا تو وہ گھڑی برپا ہو جائے گی۔ اور تم میں سے ایک نے اپنے نوالے کو اپنے منہ کی طرف اُٹھایا ہی ہو گا اور ابھی اس کو کھایا نہ ہوگا کہ وہ گھڑی آجائے گی۔
(تشریح)حجاج (بن منہال) نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سےبیان کیا، قتادہ نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت عبادہ بن صامتؓ سے، حضرت عبادہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جس نے اللہ کی ملاقات کی چاہت کی اللہ اس کی ملاقات کی چاہت کرے گا اور جس نے اللہ کی ملاقات کو برا جانا اللہ اس کی ملاقات کو برا جانے گا۔ حضرت عائشہؓ نے یا آپؐ کی ازواج میں سے کسی نے کہا: ہم تو مرنا پسند نہیں کرتے۔ آپؐ نے فرمایا: یہ مراد نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ جب مؤمن مرنے لگتا ہے تو اس کو اللہ کی رضا مندی اور اس کی سرفرازی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو پھر کوئی بات بھی اس کو اس سے زیادہ پیاری نہیں ہوتی جو اس کے آگے ہوتی ہے اور وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور کافر جو ہے تو جب وہ مرنے لگتا ہے تو اُسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی خبر دی جاتی ہے تو کوئی چیز بھی اس کو اس سے زیادہ ناپسند نہیں ہوتی جو اُس کے لیے پیش آمدہ ہے اس لئے وہ اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ ابوداؤد اور عمرو (بن مرزوق) نے اس حدیث کو شعبہ سے اختصار کے ساتھ روایت کیا اورسعید( ابن ابی عروبہ) نے بھی اس کو قتادہ سے نقل کیا ۔ قتادہ نے زرارہ سے، زرارہ نے سعد (بن ہشام) سے، سعد نے حضرت عائشہؓ سے، حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل (بن خالد) سے، عقیل نے ابن شہاب سےروایت کی کہ مجھے سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے منجملہ کئی آدمیوں کے جو اہل علم میں سے تھے خبر دی کہ حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ فرماتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ آپؐ تندرست تھے فرمایا کرتے تھے کہ کسی نبی کی بھی وفات نہیں ہوئی جب تک کہ وہ جنت میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ نہ لے ۔ پھر اُس کو اختیار دیا جاتا ہے ۔ جب آپؐ کو بیماری کی شدت ہوئی اور آپؐ کا سر میری ران پر تھا آپؐ پر کچھ دیر غشی طاری رہی پھر آپؐ ہوش میں آئے اور چھت کی طرف ٹکٹکی لگائی پھر فرمایا: اے اللہ رفیق اعلیٰ کے پاس۔ میں نے کہا: اب آپؐ ہمیں پسند نہیں کرتے اور میں سمجھ گئی کہ یہ وہی بات ہے جو آپؐ ہمیں بتایا کرتے تھے۔ کہتی تھیں: وہی آخری بات تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کی یعنی آپؐ کا یہ کہنا: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى۔
(تشریح)محمد بن عبید بن میمون نے مجھ سے بیان کیا کہ عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمر بن سعید سے، عمر نے کہا: ابن ابی ملیکہ نے مجھے خبر دی کہ ابوعمرو ذکوان جو حضرت عائشہؓ کے غلام تھے، نے انہیں بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چمڑے کا یا لکڑی کا بڑاپیالہ رکھا تھا جس میں کچھ پانی تھا۔ عمر اس کے متعلق شک کرتے ہیں۔ ( کہ رَكْوَةٌ کہا یا عُلْبَةٌ) تو آپ اپنے ہاتھ پانی میں ڈالتے اور پھر اُن کو اپنے چہرے پر پھیرتے اور فرماتے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ موت کی بھی بے ہوشیاں ہوتی ہیں۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہ دعا کرنے لگے: رفیقِ اعلیٰ کے پاس ۔ آخر اسی حالت میں آپؐ کی وفات ہو گئی اور آپؐ کا ہاتھ جھک گیا۔ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا عُلْبَةٌ ایسا پیالہ ہے جو لکڑی کا ہو،اور رَكْوَةٌ چمڑے کا پیالہ ہے۔
صدقہ (بن فضل) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدہ (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔وہ بیان کرتی تھیں: اعراب میں سے کچھ لوگ اُجڈ تھے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور آپؐ سے پوچھتے، وہ گھڑی کب ہوگی؟ تو آپؐ اس کی طرف دیکھتے جو اُن میں سب سے چھوٹا ہوتا اور فرماتے: اگر یہ زندہ رہا تو ابھی بڑھاپا اس پر نہیں آئے گا کہ تمہاری گھڑی تم پر آجائے گی۔ ہشام نے کہا: اس سے مراد اُن کی موت ہے۔