بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 73 hadith
حضرت امام مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لئے مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔ یعنی میں اچھے اور اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ
حضرت عرباض بن ساریہ سلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں لوح محفوظ میں اللہ کا بندہ اور خاتم النبیین قرار پایا ہوں جبکہ آدم ابھی تخلیق کے مراحل میں تھے۔
حضرت عبداللہ بن حارثؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مسکراتے ہوئے کسی اور شخص کو نہیں دیکھا۔ (یعنی ہر وقت آپؐ کے چہرہ مبارک پر تبسم کھلا رہتا)۔
حضرت عبداللہ ؓ بن سلام بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ استقبال کے لئے نکلے۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا۔ جب میں نے حضور ﷺ کا چہرۂ مبارک دیکھا تو میں جان گیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔ حضور ﷺ نے اس موقع پر فرمایا اے لوگو! سلام کو عام کرو، ضرورت مندوں کو کھانا کھلاؤ، رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو اور جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم امن اور سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
حضرت عبداللہ ؓ بن سلام بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ جوق در جوق آپ کی خدمت میں پہنچے۔ اور کہا گیا رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل ہو کر آیا کہ آپؐ کو دیکھوں۔ جب میں نے رسول اللہ ﷺ کا چہرۂ مبارک دیکھا تو میں جان گیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔ پہلی بات جو رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر فرمائی اے لوگو! سلام کو عام کرو، ضرورت مندوں کو کھانا کھلاؤ، رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو اور جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم امن اور سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے محمد بن جبیر بن مطعمؓ سے سنا۔ انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبیﷺ نے فرمایا میں محمدﷺ ہوں اور میں احمدﷺ ہوں، میں الماحیﷺ ہوں (یعنی مٹانے والا) میرے ذریعہ کفر مٹایا جائے گا اور میں حَاشِر ہوں جس کے قدموں پر لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا اور میں العاقب ہوں اور العاقب سے مراد وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے انبیاء پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے مجھے جوامع الکلم دیئے گئے ہیں اور رعب سے مجھے مدد دی گئی ہے اور غنیمتیں میرے لئے جائز کی گئی ہیں اور زمین میرے لئے پاکیزگی کا ذریعہ اور مسجد بنائی گئی ہے اور مجھے سب مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہے اور میرے ذریعہ نبیوں پر مہر لگائی گئی ہے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ باتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ ایک مہینے کی مسافت کے رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔ ساری زمین میرے لئے مسجد اور طہارۃ کا ذریعہ بنائی گئی ہے۔ جہاں بھی میری امت کے کسی آدمی پر نماز کا وقت آئے وہ وہاں نماز پڑھ سکتا ہے (دوسرے مذاہب کی طرح انہیں عبادت خانے میں نہیں جانا پڑتا)۔ مجھے شفاعت کا شرف حاصل ہوا جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو حاصل نہیں ہوا۔ مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے حالانکہ مجھ سے پہلے خاص قوم کے لئے نبی مبعوث ہوتا تھا۔