بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں، چنانچہ نبی گزرنے لگے کسی کے ساتھ ایک امت تھی، کسی کے ساتھ ایک گروہ تھا اور کسی کے ساتھ دس اور کسی کے ساتھ پانچ آدمی اور کوئی تنہا جا رہے تھے پھر میں نے نظر اٹھائی، تو ایک بڑی جماعت پر نظر پڑی تو میں نے کہا، اے جبرائیل یہ میری امت ہے! جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا نہیں، افق کی طرف دیکھئے میں نے دیکھا، ایک بڑی جماعت نظر آئی، جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا یہ آپ کی امت ہے اور یہ ان کے آگے جو ستر ہزار ہیں ان کا نہ حساب ہوگا اور نہ ان پر عذاب ہوگا۔ میں نے پوچھا کیوں! جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا، کہ وہ لوگ داغ نہیں لگواتے تھے اور نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور نہ شگون لیتے تھے اور صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے تھے، عکاشہ بن محصنؓ آپ کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کیا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے ان لوگوں میں بنادے آپ نے فرمایا اے اللہ اس کو ان لوگوں میں بنادے، پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھ کو بھی ان لوگوں میں بنادے، آپ نے فرمایا کہ عکاشہ، تم سے بازی لے گیا۔
حضرت رافع بن خدیجؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اور لوگ کھجور کی pollination کر رہے تھے ـــ جس کے لئے یُلَقِّحُونَ النَّخْلَ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ـــ حضورﷺ نے فرمایا یہ تم کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا شاید اگر تم ایسا نہ کرو تو بہتر ہو۔ چنانچہ انہوں نے اسے ترک کر دیا۔ پھر پھل جھڑ گیا یا کم ہوا۔ راوی کہتے ہیں پھر لوگوں نے حضورﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا میں صرف ایک بشر ہوں۔ جب میں تمہارے دین کے متعلق کوئی حکم دوں تو اسے لے لو اور جب میں تمہیں اپنی رائے سے کچھ کہوں تو میں محض ایک بشر ہوں۔
حضرت موسیٰ بن طلحہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ بعض لوگوں کے پاس سے گزرا جو کھجور کے درختوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ وہ اس کی (pollination) زرپاشی کر رہے ہیں اس کے نر کے زرِ گل کو مادہ میں ڈالتے ہیں تو وہ بار آور ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرا خیال نہیں کہ یہ کچھ فائدہ دیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر اس بارہ میں لوگوں کو بتایا گیا تو انہوں نے اُسے چھوڑ دیا۔ رسول اللہ ﷺ کو اس بارہ میں جب بتایا گیا تو آپؐ نے فرمایا اگر یہ عمل انہیں فائدہ دیتا تھا تو انہیں چاہئے تھا کہ وہ اسے کرتے رہتے۔ میں نے تو ایک گمان کیا تھا پس اس گمان پر مجھے پکڑ نہ بیٹھو، ہاں اگر میں تمہیں اللہ کی طرف سے کچھ بتاؤں تو اسے قبول کرو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی طرف سے کوئی غلط بات تو نہیں کہہ سکتا۔