بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 73 hadith
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو کبھی بھی زور کا قہقہہ لگا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپؐ کا ہنسنا تبسم کے انداز کا ہوتا تھا۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور جب رمضان میں جبرائیل آپؐ کے پاس قرآن کریم کا دور کرنے آتے تو آپﷺ پہلے سے بھی زیادہ سخاوت کا اظہار فرماتے اور جبریل رمضان کی ہر رات آپؓ سے ملتے اور قرآن کریم پڑھاتے، پس جب جبریل رسول اللہﷺ سے ملتے تو آپؐ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔
موسیٰ بن انس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ ﷺ سے اسلام پر کوئی چیز مانگی گئی آپؐ نے وہ عطا فرمائی۔ وہ کہتے ہیں ایک شخص آپؐ کے پاس آیا۔ آپؐ نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان (کی تمام) بکریاں عطا فرمائیں۔ وہ اپنی قوم کی طرف لوٹا اور کہا اے میری قوم! اسلام لے آؤ۔ محمد ﷺ تو اتنا دیتے ہیں کہ فاقہ کا ڈر نہیں رہتا۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے دو پہاڑوں کے درمیان جتنی (بھی) بکریاں تھیں مانگ لیں۔ آپؐ نے اسے وہ عطا فرما دیں۔ پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا اے میری قوم! اسلام لے آؤ۔ خدا کی قسم! محمد ﷺ تو اتنا دیتے ہیں کہ غُربت کا ڈر نہیں رہتا۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ بعض اوقات کوئی آدمی صرف دنیا کے لئے اسلام قبول کرتا تھا مگر جو نہی اسلام قبول کرتا تو اسلام اسے دنیا و مافیہا سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے جب بھی اسلام کے نام پر کوئی چیز مانگی گئی تو آپ ﷺ (حسب استطاعت) ضرور دیتے، راوی کہتے ہیں ایک دفعہ آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور سوال کیا۔ آپ ﷺ نے اس کے متعلق ارشاد فرمایا کہ اسے صدقہ کی بکریوں میں سے کثیر تعداد دی جائے جن سے ایک وادی بھر جائے۔ راوی کہتے ہیں جب وہ بکریاں لے کر اپنی قوم میں واپس آیا تو آ کر کہا اے میری قوم ! اسلام قبول کر لو محمد ﷺ اس طرح دیتے ہیں جیسے غربت و احتیاج کا انہیں کوئی ڈر ہی نہیں۔
حضرت عبداللہ بن ابوبکرؓ بیان کرتے ہیں ایک عرب نے ان سے ذکر کیا کہ جنگ حنین میں بھیٹر کی وجہ سے اس کا پاؤں رسول اللہ ﷺ کے پاؤں پر جا پڑا۔ سخت قسم کی چپلی جو میں نے پہن رکھی تھی اس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کا پاؤں بری طرح زخمی ہو گیا۔ حضور ﷺ نے تکلیف کی وجہ سے ہلکا سا کوڑا مارتے ہوئے فرمایا بسم اللہ! تم نے میرا پاؤں زخمی کر دیا ہے اس سے مجھے بڑی ندامت ہوئی۔ ساری رات میں سخت بے چین رہا کہ ہائے مجھ سے یہ غلطی کیوں ہوئی۔ صبح ہوئی تو کسی نے مجھے آواز دی کہ حضور ﷺ تمہیں بلاتے ہیں۔ مجھے اور گھبراہٹ ہوئی کہ کل کی غلطی کی وجہ سے شاید میری شامت آئی ہے۔ بہرحال میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے بڑی شفقت سے فرمایا کل تم نے میرا پاؤں کچل دیا تھا اور اس پر میں نے تمہیں ایک کوڑا ہلکا سا مارا تھا اس کا مجھے افسوس ہے۔ یہ اسی بکریاں تمہیں دے رہا ہوں یہ لو (اور جو تکلیف تمہیں مجھ سے پہنچی ہے، اسے دل سے نکال دو۔)
حضرت جبیر بن مطعمؓ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین سے واپسی کے دوران ایک موقع پر کچھ اجڈ دیہاتی آپﷺ کے پیچھے پڑ گئے وہ بڑے اصرار سے سوال کر رہے تھے۔ جب آپﷺ انہیں دینے لگے تو انہوں نے اتنا رش کیا کہ آپﷺ کو مجبوراً ایک درخت کا سہارا لینا پڑا۔ حتیٰ کہ آپﷺ کی چادر چھین لی گئی۔ آپﷺ نے فرمایا میری چادر مجھے واپس دے دو۔ پھر کیکروں کے بہت بڑے جنگل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپﷺ نے فرمایا اگر اس وسیع جنگل کے برابر بھی میرے پاس اونٹ ہوں تو میں ان کو تقسیم کرنے میں خوشی محسوس کروں گا اور تم مجھے کبھی بھی بخل سے کام لینے والا، بڑہانکنے والا یا بزدلی دکھانے والا نہیں پاؤ گے۔
حضرت جبیر بن مطعمؓ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین سے واپسی کے دوران ایک موقع پر کچھ اجڈ دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پیچھے پڑ گئے وہ بڑے اصرار سے سوال کر رہے تھے۔ جب آپ ﷺ انہیں دینے لگے تو انہوں نے اتنا رش کیا کہ آپ ﷺ کو مجبوراً ایک درخت کا سہارا لینا پڑا۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ کی چادر چھین لی گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا میری چادر مجھے واپس دے دو۔ پھر کیکروں کے بہت بڑے جنگل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر اس وسیع جنگل کے برابر بھی میرے پاس اونٹ ہوں تو میں ان کو تقسیم کرنے میں خوشی محسوس کروں گا اور تم مجھے کبھی بھی بخل سے کام لینے والا، بڑہانکنے والا یا بزدلی دکھانے والا نہیں پاؤ گے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مثال اور تمہاری مثال اس شخص کی مثال کی طرح ہے جس نے آگ جلائی اور ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگے اور وہ انہیں اس سے ہٹاتا ہے اور میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ کر آگ سے بچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکل نکل جاتے ہو۔
حضرت ابو موسٰیؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری مثال اور اس ہدایت کی مثال جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی مثال ہے جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا اے میری قوم! یقیناً میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے اور میں کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں۔ پس بچ جاؤ۔ پس اس کی قوم کے ایک گروہ نے اس کی اطاعت کر لی۔ وہ رات کو نکل گئے اور وقت کے اندر اندر چلے گئے اور ان میں سے ایک گروہ نے تکذیب کی اور وہ اپنی جگہوں پر ہی رہے اور اُس لشکر نے اُنہیں صبح آ لیا اور ہلاک کر دیا اور انہیں جڑ سے اکھیڑ دیا۔ یہ مثال اس شخص کی ہے جس نے میری اطاعت کی اور اس کی پیروی کی جو میں لے کر آیا ہوں اور اس کی مثال ہے جس نے میری نافرمانی کی اور تکذیب کی اس حق کی جسے میں لے کر آیا ہوں۔