بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 73 hadith
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے ہمیں آنحضرتﷺ کی موٹی کھدر کی چادر اور تہبند نکال کر دکھائی اور کہا کہ نبیﷺ نے وفات کے وقت یہ کپڑے پہن رکھے تھے۔
ابو بردہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے ہمارے لئے ایک ازار اور مُلَبَّدَ چادر نکالی اور فرمایا کہ اس میں رسول اللہﷺ کی وفات ہوئی تھی۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ میں تکبر نام کو بھی نہ تھا۔ نہ آپ ﷺ ناک چڑھاتے اور نہ اس بات سے برا مناتے اور بچتے کہ آپ بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ چلیں اور ان کے کام آئیں اور ان کی مدد کریں۔ یعنی بے سہارا عورتوں اور مسکینوں اور غریبوں کی مدد کے لئے ہر وقت کمر بستہ رہتے اور اس میں خوشی محسوس کرتے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بادیہ نشین شخص جس کا نام زاہر تھا۔ وہ نبیﷺ کے لئے صحراء سے تحفے لایا کرتا تھا جب وہ واپس جانے کا ارادہ کرتا تو نبیﷺ اس کے لئے (کچھ) سامان تیار کرواتے۔ نبیﷺ نے فرمایا زاہر ہمارا بدوی دوست ہے اور ہم اس کے شہری دوست ہیں اور رسول اللہ ﷺ اُس سے محبت کرتے تھے اور وہ معمولی شکل و صورت آدمی تھے۔ ایک دن نبیﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے جبکہ وہ اپنا سامان بیچ رہا تھا اور آپؐ نے پیچھے سے آکر اس کی کمر میں اپنے بازو ڈال دئیے اور وہ آپؐ کو دیکھ نہ سکتا تھا۔ اُس نے کہا یہ کون ہے؟ مجھے چھوڑ دو۔ پھر جب اس نے توجہ کی تو نبی کریم ﷺ کو پہچان لیا۔ جب وہ آپؐ کو پہچان گیا تو اپنی پشت کو نبی ﷺ کے سینہ مبارک پر خوب خوب چمٹانے لگا پھر نبی ﷺ فرمانے لگے اس غلام کو کون خریدے گا؟ اُس نے کہا یا رسولؐ اللہ! اللہ کی قسم اس طرح تو آپؐ مجھے بہت کم قیمت پائیں گے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا لیکن اللہ کے ہاں تو کم قیمت نہیں ہے یا یہ فرمایا اللہ کے نزدیک تُو بیش قیمت ہے۔
زہری سے مروی ہے کہ حضرت علی بن حسین (امام زین العابدین) رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا کہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت صفیہؓ نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ملاقات کی غرض سے آپؐ کے پاس آئیں۔ آپؐ اُس وقت مسجد میں اعتکاف فرما تھے، جو رمضان کے آخری عشرہ میں تھا۔ بی بی صفیہؓ نے کچھ وقت آپؐ کے پاس بیٹھ کر کچھ باتیں کیں۔ پھر جب اُٹھ کر واپس جانے لگیں تو نبی ﷺ بھی اُن کو گھر تک پہنچانے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ جب حضرت صفیہؓ مسجد کے دروزے پر اُس جگہ پہنچیں جہاں حضرت امّ سلمہؓ کا دروازہ ہے تو انصار میں سے دو شخص گزرے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو السلام علیکم کہا نبی ﷺ نے اُن دونوں سے فرمایا ذرا ٹھہر جائیں۔ یہ صفیہؓ بنت حيّ ہیں تو اُن دونوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اور اُن دونوں پر شاق گزرا۔ نبی ﷺ نے فرمایا شیطان انسان میں وہاں تک پہنچتا ہے جہاں خون پہنچتا ہے اور مجھے اندیشہ ہوا کہ مبادا تمہارے دِلوں میں کوئی بات ڈال دے۔
آنحضرت ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہؓ بنت حیی فرماتی ہیں نبی ﷺ اعتکاف میں تھے۔ میں رات کے وقت آپؐ سے ملنے آئی۔ آپؐ سے باتیں کیں۔ پھر واپس جانے کے لئے اٹھی۔ آپؐ بھی میرے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے تا مجھے واپس چھوڑ آئیں اور ان کا گھر اسامہؓ بن زید کے محلہ میں تھا۔ دو انصاری شخص گذرے اور جب انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا تو جلدی جلدی چلنے لگے۔ نبی ﷺ نے فرمایا رُکو! یہ صفیہؓ بنتِ حیی ہیں۔ ان دونوں نے کہا سبحان اللہ، یا رسول ﷺ اللہ! آپؐ نے فرمایا شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور میں ڈرا کہ وہ تم دونوں کے دل میں کچھ شر نہ ڈال دے۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ نہ کسی عورت کو، نہ کسی خادم کو سوائے اس کے کہ آپ ؐ اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے ہوں۔ نہ ہی کوئی تکلیف پہنچنے پر آپ ؐ نے کبھی اس کے پہنچانے والے سے کوئی انتقام لیا۔ ہاں مگر اللہ کی محرمات کی بے حرمتی کی جاتی تو آپ ؐ اللہ عزوجل کی خاطر انتقام لیتے۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب بھی رسول اللہ ﷺ کو دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا تو آپ ؐ نے ان دونوں میں سے آسان کو اختیار فرمایا جب تک وہ گناہ نہ ہوتا اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ ؐ سب لوگوں سے زیادہ اس سے دور تھے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے لئے کبھی انتقام نہیں نہ لیا۔ ہاں مگر جب اللہ عزوجل کی حرمت کی ہتک کی جاتی۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی ﷺ اپنی کمر کس لیتے اور رات بھر جاگتے رہتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب (آخری) عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ راتوں کو زندہ کرتے اور اپنے گھر والوں کو بیدار کرتے اور خوب مجاہدہ فرماتے اور کمر کس لیتے۔