بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 73 hadith
ابن شہاب سے روایت ہے کہ مجھے عروہ بن زبیر ؓ نے بتایا کہ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! آپ ؐ پر احد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آیا ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا میں نے تیری قوم سے بہت دکھ اُٹھایا ہے اور جو دکھ میں نے اُن سے عقبہ کے دن اٹھایا وہ سب سے زیادہ سخت تھا۔ جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل بن عبد کلال پر پیش کیا تو جو میں چاہتا تھا۔ اس نے وہ جواب نہ دیا۔ پس میں چلا اور میں فکر مند اپنے دھیان میں جا رہا تھا۔ جب میں قرن الثعالب پہنچا تو یہ کیفیت دور ہوئی اور میں نے اپنا سر اُٹھایا تو دیکھا کہ ایک بادل نے مجھ پر سایہ کیا ہے میں نے دیکھا اس میں جبرائیل ہیں۔ انہوں نے مجھے پکار کر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارہ میں تمہاری قوم کی بات سن لی ہے اور جو انہوں نے تمہیں جواب دیا ہے اور تمہاری طرف پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے کہ تم جو چاہو اسے ان کے بارہ میں حکم کرو۔ آپ ؐ فرماتے ہیں پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتہ نے پکارا اور مجھے سلام کہا پھر کہا اے محمد ﷺ! اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کی قوم کی بات جو انہوں نے آپ ؐ سے کہی سن لی ہے اور میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں اور میرے رب نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تا کہ آپ ؐ مجھے اپنے معاملہ میں جو چاہیں حکم دیں۔ اگر آپ ؐ چاہیں تو میں ان دو پہاڑوں کو ان پر ملا دوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا نہیں میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ آپؐ اپنے کپڑے کو پیوند لگا لیتے اور گھر کی صفائی کر لیتے اور جوتے کو ٹانکا لگا لیتے، جب خادم تھک جاتا تو اس کا آٹا پیسنے کا کام خود کر لیتے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ
حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (کی زندگی بڑی سادہ تھی۔ آپ ﷺ کسی کام کو عار نہیں سمجھتے تھے) اپنے اونٹ کو خود چارہ ڈالتے۔ گھر کے کام کاج کرتے۔ اپنی جوتیوں کی مرمت کر لیتے۔ کپڑے کو پیوند لگا لیتے۔ بکری دوہ لیتے۔ خادم کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے۔ آٹا پیستے پیستے اگر وہ تھک جاتا تو اس میں اس کی مدد کرتے۔ بازار سے گھر کا سامان اٹھا کر لانے میں شرم محسوس نہ کرتے امیر غریب ہر ایک سے مصافحہ کرتے۔ سلام میں پہل کرتے اگر کوئی معمولی کھجوروں کی بھی دعوت دیتا تو آپ ﷺ اسے حقیر نہ سمجھتے اور قبول کرتے۔ آپ ﷺ نہایت ہمدرد، نرم مزاج اور حلیم الطبع تھے۔ آپ کا رہن سہن بڑا صاف ستھرا تھا۔ بشاشت سے پیش آتے۔ تبسم آپ ﷺ کے چہرے پر جھلکتا رہتا۔ آپ ﷺ زور کا قہقہہ لگا کر نہیں ہنستے تھے۔ خدا کے خوف سے فکر مند رہتے لیکن ترش روئی اور خشکی نام کو نہ تھی۔ منکسر المزاج تھے لیکن اس میں کسی کمزوری، پست ہمتی کا شائبہ تک نہ تھا۔ بڑے سخی (کھلے ہاتھ کے) لیکن بیجا خرچ سے ہمیشہ بچتے۔ نرم دل، رحیم و کریم تھے۔ ہر مسلمان سے مہربانی سے پیش آتے۔ اتنا پیٹ بھر کر نہ کھاتے کہ ڈکار لیتے رہیں۔ کبھی حرص و طمع کے جذبہ سے ہاتھ نہ بڑھاتے بلکہ صابر و شاکر اور کم پر قانع رہتے۔
حضرت عائشہ ؓ، حضرت حسنؓ اور حضرت ابو سعید ؓ اور بعض اور صحابہ سے نبی ﷺ کی صفات کے متعلق روایت ہے اور بعض دوسروں سے زائد بات بیان کرتے ہیں کہ آپ ؐ اپنے گھر والوں کے ساتھ کام میں مصروف رہتے اپنے کپڑوں کو پیوند لگاتے، اپنی بکری کا دودھ دوہتے، اپنے کپڑوں کو سی لیتے اپنی جوتی کو ٹانکا لگا لیتے اپنے کام خود کرتے، گھر کی صفائی کر لیتے اونٹ باندھتے پانی نکالنے والی اونٹنی کا چارہ ڈالتے خادم کے ساتھ کھانا کھا لیتے اور اس کے ساتھ آٹا گوندھ لینے میں مدد کرتے اور بازار سے اپنا سامان اٹھا کر لاتے۔
ہشام بن عروہ اپنے والد حضرت عروہؓ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ سے کسی شخص نے پوچھا نبی ﷺ گھر میں کیا کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا جس طرح تم میں سے کوئی (اپنے گھر میں کام ) کرتا ہے۔ اپنی جوتی خود مرمت کر لیتے تھے اور اپنے کپڑے سی لیتے تھے۔
ہشام بن عروہ اپنے والد حضرت عروہؓ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ سے کسی شخص نے پوچھا کہ رسول اللہﷺ گھر میں کوئی کام کاج کیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ نے کہا ہاں حضورﷺ اپنی جوتی خود مرمت کر لیتے تھے، اپنا کپڑا سی لیا کرتے تھے اور اپنے گھر میں اسی طرح کام کیا کرتے تھے جس طرح تم سب اپنے اپنے گھروں میں کام کرتے ہو۔
حضرت اسود بن یزیدؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی ﷺ گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟ حضرت عائشہؓ نے کہا آپ ﷺ کام کاج میں گھر والوں کا ہاتھ بٹاتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو باہر نماز کے لئے چلے جاتے۔
حضرت اسودؓ بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطابؓ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور ﷺ بیمار تھے اور ایک قطوانی چادر پر لیٹے ہوئے تھے اور تکیہ ایسا تھا جس کے اندر اذخر گھاس بھری ہوئی تھی۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ کہنے لگے حضور! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں قیصر و کسریٰ تو ریشمی گدے پر آرام کریں اور آپ اس حالت میں ہوں۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا اے عمر! کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ یہ آرام دہ سامان تمہیں آخرت میں میسر آئیں اور ان دنیا داروں کے لئے صرف یہ دنیا ہو یعنی عیش و عشرت اور مسرفانہ زندگی ہمارا شیوہ نہیں۔ پھر عمرؓ نے حضور ﷺ کے جسم مبارک کو چھؤا تو دیکھا کہ آپ ﷺ شدید بخار میں مبتلا ہیں۔ اس پر عمرؓ کہنے لگے حضور ﷺ! آپ تو اللہ کے رسول ہیں تعجب ہے کہ آپ کو بھی اس قدر تیز بخار ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اس امت میں سب سے زیادہ آزمائش اس کے نبی کی ہے کہ وہ نمونہ ہے، پھر درجہ بدرجہ نیک اور بڑے لوگوں کی اور یہی طریق گذشتہ نبیوں اور امتوں کے ساتھ بھی ہوتا رہا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ چٹائی پر لیٹنے کی وجہ سے نبی ﷺ کے جسم پر نشانات تھے میں نے یہ دیکھ کر عرض کیا۔ ہماری جان آپﷺ پر فدا ہو اگر آپﷺ اجازت دیں تو ہم اس چٹائی پر کوئی گدیلا وغیرہ بچھا دیں۔ جو آپﷺ کو اس کھردرے پن سے بچائے یہ سن کر رسول اللہﷺ نے فرمایا مَا أَنَا وَالدُّنْيَا مجھے دنیاوی لذتوں سے کیا غرض؟ میں تو صرف ایک مسافر کی طرح ہوں جو کچھ دیر سستانے کی غرض سے سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ جاتا ہے اور پھر اسے چھوڑ کر اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔