بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 73 hadith
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں حضرت ھندؓ بن ابی ھالہ سے نبی ﷺ کا حلیہ مبارک پوچھا اور وہ نبی ﷺ کا حلیہ خوب بیان کرتے تھے اور میں چاہتا تھا کہ وہ میرے سامنے بھی اُن (خدّوخال) کا کچھ ذکر کریں جس سے میں چمٹ جاؤں تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ بارعب اور وجیہ شکل و صورت کے تھے۔ آپؐ کا چہرہ مبارک یوں چمکتا جیسے چودھویں کا چاند۔ آپؐ میانہ قد سے کسی قدر دراز اور طویل القامت سے کسی قدر چھوٹے تھے۔ سر بڑا تھا، بال خمدار (یا کسی قدر لہر دار) اگر مانگ سہولت سے نکل آتی تو نکال لیتے ورنہ نہ نکالتے۔ جب بال زیادہ ہوتے تو کانوں کی لو سے بڑھ جاتے۔ پھول سا رنگ، کشادہ پیشانی، ابرو لمبے باریک اور بھرے ہوئے، باہم ملے ہوئے نہ تھے ان کے درمیان ایک رگ تھی جو جلال میں نمایاں ہو جاتی، ناک ستواں جس پر نور جھلکتا تھا، سرسری دیکھنے والے کو اُٹھی ہوئی نظر آتی تھی، ریش مبارک گھنی رخسار نرم، دہن کشادہ، دانت ریخدار آنکھوں کے کوئے باریک، آپؐ کی گردن خوبصورت اور لمبی صراحی دار جس پر سرخی جھلکتی تھی۔ صفائی میں چاندی کی مانند۔ اعضاء متوازن تھے۔ بدن کچھ بھاری مگر نہایت موزوں اور مضبوط۔ شکم و سینہ ہموار۔ چوڑے سینے والے۔ دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا۔ جوڑ مضبوط اور بھرے ہوئے۔ جسم چمکتا ہوا اور بالوں سے خالی، سینہ اور پیٹ بالوں سے صاف سوائے ایک باریک دھاری کے جو سینے سے ناف تک ایک خط کی طرح جاتی تھی۔ دونوں بازوؤں اور کندھوں اور سینے کے بالائی حصّہ پر بال تھے۔ کلائیاں دراز، ہتھیلی چوڑی، ہاتھ اور پاؤں گوشت سے پر اور نرم، انگلیاں دراز، تلوے قدرے گہرے، قدم نرم اور چکنے کہ پانی ان پر نہ ٹھہرے۔ جب چلتے تو قوت سے قدم اُٹھاتے۔ قدرے آگے جھکتے ہوئے قدم اُٹھاتے آپؐ فروتنی کے ساتھ چلتے، تیز رفتار تھے جب چلتے تو یوں لگتا جیسے بلندی سے اتر رہے ہوں جب کسی طرف رخ فرماتے تو پوری طرح فرماتے۔ نظر جھکائے رکھتے، اوپر آسمان کی طرف نظر کے بجائے آپؐ کی نظر زمین پر زیادہ پڑتی۔ اکثر آپؐ کی نظریں نیم وا ہوتیں۔ اکثر آپؐ کی نظر (ایک لمحہ میں) ملاحظہ کر لیتی تھی۔ اپنے صحابہؓ (کا خیال رکھنے کے لئے ان) کے پیچھے چلتے۔ ہر ملنے والے کو سلام کرنے میں پہل کرتے۔
نبی ﷺ کے اخلاق قرآن کریم کے عین مطابق تھے.
حضرت حسن بن علیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ھالہؓ سے کہا کہ مجھے رسول اللہﷺ کے انداز گفتگو کے متعلق بتائیں اور وہ حضورؐ کے اوصاف بیان کرنے میں بڑے ماہر تھے۔ انہوں نے بتایا رسول اللہﷺ پر مسلسل غم آتے اور آپؐ کسی مسلسل اور گہری سوچ میں رہتے۔ آپؐ کو آرام کا موقع کم ہی ملتا تھا۔ اکثر خاموش رہتے۔ بغیر ضرورت کے بات نہ کرتے۔ آپؐ اللہ کے نام سے کلام شروع کرتے اور (اللہ کے نام پر ہی) اختتام فرماتے۔ آپؐ ایسا کلام فرماتے جو وسیع مطالب و معانی پر مشتمل ہوتا۔ آپؐ کے کلام کے الفاظ علیحدہ علیحدہ اور واضح ہوتے۔ اس میں کوئی زائد بات نہ ہوتی اور نہ ہی اس میں کوئی کمی ہوتی تھی۔ نہ تو آپؐ سخت مزاج تھے نہ ہی کمزور اور بے حیثیت۔ آپؐ ہر نعمت کی تعظیم فرماتے خواہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔ کسی نعمت کی ذرا بھی مذمت نہ کرتے۔ ہاں کھانے پینے کی چیزوں کی نہ مذمت کرتے نہ تعریفیں کرتے۔ نہ دنیا آپؐ کو غصہ دلاتی نہ ہی جو اس سے متعلق ہے۔ لیکن اگر حق سے تجاوز کیا جاتا یا حق غصب کر لیا جاتا تو پھر آپؐ کے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہرسکتی تھی جب تک آپؐ اس کی دادرسی نہ کروا دیتے۔ اپنی ذات کے لئے کبھی غصے نہ ہوتے اور نہ اُس کے لئے بدلہ لیتے۔ جب آپؐ اشارہ کرتے تو پورے ہاتھ سے کرتے۔ جب آپؐ تعجب کا اظہار کرتے تو ہاتھ اُلٹا دیتے اور جب آپؐ بات کرتے تو ہاتھ کو اس کے مطابق حرکت دیتے اور دائیں ہتھیلی کو بائیں انگوٹھے کے اندرونی حصہ پر لگاتے۔ جب آپؐ ناراض ہوتے تو اعراض کرتے اور ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے۔ جب خوش ہوتے تو آنکھیں نیچی کر لیتے۔ آپؐ کی زیادہ سے زیادہ ہنسی تبسم کی حد تک ہوتی (یعنی زورکا قہقہہ نہ لگاتے) آپؐ کے دندان مبارک ایسے لگتے جیسے بادل سے گرنے والے اولے ہوتے ہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ درمیانہ قد کے تھے نہ تو بہت زیادہ لمبے اور نہ چھوٹے قد والے، آپ ﷺ کا رنگ نکھرتا سفید تھا نہ بہت زیادہ سفید اور نہ گہرے گندم گوں رنگ والے تھے آپ ﷺ کے بال ایک حد تک سیدھے تھے نہ بہت زیادہ گھنگریالے اور نہ بالکل سیدھے۔ آپ ﷺ جب مبعوث ہوئے اس وقت آپ کی عمر چالیس سال تھی بعثت کے بعد دس سال مکہ رہے اور مدینہ میں دس سال قیام رہا اور جب آپ کی وفات ہوئی اس وقت آپ کی عمر ساٹھ سال تھی آپ کے سر اور داڑھی میں بیس سے زیادہ سفید بال نہ تھے۔
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نہ نمایاں طور پر بہت زیادہ لمبے تھے نہ ہی پستہ قامت، نہ تو بالکل سفید تھے اور نہ گندم گوں، اور (آپؐ کے بال) نہ زیادہ گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو چالیس سال کے سر پر مبعوث فرمایا آپؐ نے مکہ میں دس سال قیام فرمایا اور مدینہ میں دس سال۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو ساٹھ سال کے سر پر وفات دی۔ اس وقت آپؐ کے سر اور ریشِ مبارک میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔
حضرت سعد بن ہشام بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُن سے عرض کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق عالیہ کے بارہ میں ہمیں کچھ بتائیں۔ حضرت عائشہؓ نے بتایا کہ آپؐ کے اخلاق و اطوار قرآن کے عین مطابق تھے۔ پھر پوچھا کہ کیا تم نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ کہ اے رسول تو یقیناً اخلاق کے اعلیٰ ترین مقام پر ہے۔
حضرت سعد بن ہشامؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پھر میں نے عرض کیا اے امؓ المؤمنین! مجھے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارہ میں بتائیے! حضرت عائشہؓ فرمانے لگیں کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے نبی ﷺ کے اخلاق قرآن تھے۔
حضرت سعد بن ہشام ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے عرض کیا کہ اے ام المومنین ! مجھے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارہ میں کچھ بتائیں۔ اس پر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کیا آپ قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا۔ کیوں نہیں، ضرور پڑھتا ہوں۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ کے اخلاق قرآن کریم کے عین مطابق تھے۔
یزید بن بابنوس کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا اے ام المومنین! رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کیسے تھے؟ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کے اخلاق قرآن کریم کے عین مطابق تھے۔ پھر انہوں نے پوچھا کیا تم سورۃ المومنون پڑھتے ہو؟ پڑھو قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (المؤمنون 2) یقیناً مومن کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے دس تک آیات پڑھیں۔ تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا اس طرح کے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق تھے۔
یزید بن بابنوس کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا اے ام المومنین رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کیسے تھے؟ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کے اخلاق اور اَطوارِ زندگی قرآن کریم کے عین مطابق تھے۔ پھر انہوں نے پوچھا کیا تم سورۃ المومنون پڑھتے ہو؟ پڑھو قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ)المؤمنون (2 یقیناً مومن کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے دس تک آیات پڑھیں۔ تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا اس طرح کے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق تھے۔