ابن شہاب کہتے تھے کہ عبدالرحمٰن بن مالک مدلجی نے جو کہ سراقہ بن مالک بن جعشمؓ کے بھتیجے تھے، بتایا کہ ان کے باپ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے سراقہ بن جعشمؓ سے سنا۔ کہتے تھے کہ ہمارے پاس کفار قریش کے ایلچی آئے جو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ ان دونوں میں سے ہر ایک کی دیت مقرر کرنے لگے، اس شخص کیلئے جو اُن کو قتل کرے یا قید کرے۔ اسی اثنا میں کہ میں اپنی قوم بنو مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک شخص سامنے سے آیا اور آکر ہمارے پاس کھڑا ہو گیا اور ہم بیٹھے تھے، کہنے لگا اے سراقہ! میں نے ابھی سمندر کے کنارے کی طرف کچھ آدمی دیکھے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں وہی محمدؐ اور اس کے ساتھی ہیں۔ سراقہؓ کہتے تھے کہ میں نے شناخت کر لیا کہ وہی ہیں مگر میں نے اسے کہا وہ ہرگز نہیں ہیں، بلکہ تم نے فلاں فلاں کو دیکھا ہے جو ہمارے سامنے گئے تھے۔ پھر میں اس مجلس میں کچھ دیر ٹھہرا رہا۔ اس کے بعد اُٹھا اور گھر گیا اور اپنی لونڈی سے کہا میری گھوڑی نکالو، وہ ٹیلہ کے پرے ہی رہے، وہاں اس کو میرے لئے تھامے رکھو۔ چنانچہ میں نے اپنا نیزہ لیا اور اس کو لے کر گھر کے پیچھے کی طرف سے نکلا۔ میں نے نیزے کے بھال کو زمین پر رکھا اور اس کے اوپر کے حصہ کو نیچے جھکایا اور اسی طرح اپنی گھوڑی کے پاس پہنچا اور اس پر سوار ہو گیا۔ میں نے اس کو چمکایا۔ وہ سرپٹ دوڑتی ہوئی مجھے لے گئی۔ یہاں تک کہ جب ان کے قریب پہنچا تو میری گھوڑی نے ایسی ٹھوکر کھائی کہ میں اس سے گر پڑا۔ میں اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے ترکش کی طرف ہاتھ جھکا کر میں نے اس سے تیر نکالے اور ان سے فال لی کہ آیا ان کو نقصان پہنچا سکوں گا یا نہیں۔ پس وہی نکلا جسے میں ناپسند کرتا تھا۔ (یعنی فال میرے خلاف نکلی) میں پھر اپنی گھوڑی پر سوار ہو گیا اور پانسے کے خلاف عمل کیا۔ گھوڑی سرپٹ دوڑتے ہوئے مجھے لئے جا رہی تھی اور اتنا نزدیک ہو گیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو قرآن پڑھتے سن لیا۔ آپؐ اِدھر اُدھر نہیں دیکھتے تھے اور حضرت ابوبکرؓ کثرت سے مُڑ مُڑ کر دیکھتے تھے۔ میری گھوڑی کی اگلی ٹانگیں زمین میں گھٹنوں تک دھنس گئیں اور میں اس سے گر پڑا۔ پھر میں نے گھوڑی کو ڈانٹا اور اٹھ کھڑا ہوا اور وہ اپنی ٹانگیں زمین سے نکال نہ سکتی تھی۔ آخر جب وہ سیدھی کھڑی ہوئی تو اس کی دونوں ٹانگوں سے گرد اٹھ کر فضا میں دھوئیں کی طرح پھیل گئی۔ اب میں نے دوبارہ تیروں سے فال لی تو وہی نکلا جسے میں ناپسند کرتا تھا۔ تب میں نے انہیں آواز دی کہ تم امن میں ہو۔ وہ ٹھہر گئے۔ میں اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا۔ ان تک پہنچنے میں جو روکیں مجھے پیش آئیں ان کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ضرور رسول اللہ ﷺ کا ہی بول بالا ہوگا۔ میں نے آنحضرتﷺ سے کہا کہ آپؐ کی قوم نے آپؐ کے متعلق دیت مقرر کی ہے اور میں نے ان کو وہ سب چیزیں بتائیں جو کچھ کہ لوگ ان سے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور میں نے ان کے سامنے زاد اور سامان پیش کیا مگر انہوں نے مجھ سے نہ لیا اور نہ مجھ سے کوئی فرمائش کی سوائے اس کے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ کہا کہ ہمارے سفر کے متعلق حال پوشیدہ رکھنا۔ میں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ آپؐ میرے لئے امن کی ایک تحریر لکھ دیں۔ آپؐ نے عامر بن فہیرہؓ سے فرمایا اور اس نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر لکھ دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ
(بخاری کتاب مناقب الانصار باب ھجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینۃ3906)
ﷺ
روانہ ہو گئے۔ ابن شہاب کہتے تھے عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ
ﷺ
(راستہ میں) حضرت زبیرؓ سے ملے جو مسلمانوں کے ایک قافلہ کے ساتھ شام سے تجارت کر کے واپس آ رہے تھے۔ حضرت زبیرؓ نے رسول اللہ
ﷺ
اور حضرت ابوبکرؓ کو سفید کپڑے پہنائے اور مدینہ میں مسلمانوں نے سن لیا کہ رسول اللہ
ﷺ
مکہ سے نکل پڑے ہیں اس لئے وہ ہر صبح حرہ میدان تک جایا کرتے اور وہاں آپؐ کا انتظار کرتے رہتے۔ یہاں تک کہ دوپہر کی گرمی انہیں لوٹا دیتی۔ ایک دن ان کا بہت دیر جو انتظار کرنے کے بعد لوٹے اور اپنے گھروں پر جب پہنچے تو ایک یہودی شخص اپنے ایک محل پر کچھ دیکھنے کے لئے چڑھا تو اس نے رسول اللہ
ﷺ
اور آپؐ کے ساتھیوں کو دیکھ لیا جو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ سراب ان سے آہستہ آہستہ ہٹ رہا تھا۔ یہودی سے رہا نہ گیا اور بےاختیار بلند آواز سے بول اُٹھا اے عرب کے لوگو! یہ تمہارا وہ سردار ہے جس کا تم انتظار کر رہے ہو۔ یہ سنتے ہی مسلمان اٹھ کر اپنے ہتھیاروں کی طرف لپکے اور حرہ کے میدان میں رسول اللہ
ﷺ
کا استقبال کیا۔ آپؐ انہیں ساتھ لئے ہوئے داہنی طرف مڑے اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں ان کے ساتھ اترے اور یہ دو شنبہ (سوموار) کا دن تھا اور ربیع الاوّل کا مہینہ۔ حضرت ابوبکرؓ لوگوں سے ملنے کے لئے کھڑے ہوئے اور رسول اللہ
ﷺ
خاموش بیٹھے رہے اور انصار میں سے وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ
ﷺ
کو نہیں دیکھا تھا آئے اور حضرت ابوبکرؓ کو سلام کرنے لگے۔ یہاں تک کہ دھوپ رسول اللہ
ﷺ
پر پڑنے لگی۔ حضرت ابوبکرؓ آئے اور انہوں نے آنحضرت
ﷺ
پر اپنی چادر سے سایہ کیا۔ اس وقت لوگوں نے رسول اللہ
ﷺ
کو پہچانا اور رسول اللہ
ﷺ
بنو عمرو بن عوف کے محلہ میں دس سے کچھ اوپر راتیں ٹھہرے اور وہ مسجد بنائی گئی جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی اور اس میں رسول اللہ
ﷺ
نے نماز پڑھی۔ پھر آپؐ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور لوگ آپؐ کے ساتھ پیدل چلنے لگے اور وہ اونٹنی مدینہ میں وہاں جا کر بیٹھی جہاں اب مسجد نبوی ہے۔ ان دنوں وہاں چند مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے اور وہ سہیلؓ اور سہلؓ کے کھجوریں سکھانے کی جگہ تھی جو دو یتیم بچے حضرت سعد بن زرارہؓ کی پرورش میں تھے۔ جب آپؐ کی اونٹنی نے آپؐ کو وہاں بٹھا دیا تو رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو یہیں ہماری قیام گاہ ہو گی۔ پھر رسول اللہ
ﷺ
نے ان دو لڑکوں کو بلا یا اور ان سے اس جگہ کی قیمت دریافت کی تا اسے مسجد بنائیں تو ان دونوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ! ہم آپؐ کو یہ زمین مفت دیتے ہیں۔ رسول اللہ
ﷺ
نے ان سے یہ زمین مفت لینے سے انکار کیا اور اسے ان سے خریدا اور پھر وہاں مسجد بنائی اور رسول اللہ
ﷺ
اس مسجد کے بنانے کے لئے لوگوں کے ساتھ اینٹیں ڈھونے لگے اور جب اینٹیں ڈھو رہے تھے تو ساتھ ساتھ کہتے جاتے ’’یہ بوجھ خیبر کے بوجھ جیسا نہیں بلکہ اے ہمارے ربّ! یہ بہت بھلا اور پاکیزہ ہے‘‘ نیز فرماتے تھے ’’اے اللہ! اصل ثواب تو آخرت کا ثواب ہے اس لئے تو ان انصار اور مہاجرین پر رحم فرما‘‘ آنحضرت
ﷺ
نے مسلمانوں میں سے ایک شخص کے شعر پڑھے۔ اس کا نام مجھے نہیں بتلایا گیا۔ ابن شہاب نے کہا اور نہ ہی ہمیں دوسری احادیث سے یہ معلوم ہوا ہے کہ رسول اللہ
ﷺ
نے سوائے ان اشعار کے کبھی کوئی مکمل شعر کسی کا پڑھا ہو۔
(بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام3615)
حضرت براء بن عازبؓ کہتے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ رضی اللہ عنہ میرے باپ کے پاس ان کے مکان میں آئے اور اس سے ایک پالان خریدی۔ انہوں نے حضرت عازبؓ سے کہا اپنے بیٹے کو میرے ساتھ بھیجو کہ وہ میرے ساتھ یہ اُٹھا کر لے جائے۔ حضرت براءؓ کہتے تھے چنانچہ میں ان کے ساتھ پالان اُٹھا کر لے گیا اور میرے باپ اس کی قیمت پر کھوانے کے لئے نکلے تو میرے باپ نے ان سے کہا ابوبکرؓ! وہ واقعہ تو مجھے بتائیں کہ جب آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا تھا تو آپ دونوں نے کیا کِیا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں ہم رات بھر چلتے رہے اور دوسرے دن بھی اس وقت تک کہ جب ٹھیک دوپہر کا وقت ہوگیا اور راستہ بالکل خالی ہوگیا۔ کوئی بھی اس پر نہیں گذرتا تھا اور ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی جس کا سایہ تھا۔ وہاں دھوپ نہیں آئی تھی۔ ہم اس کے پہلو میں اُترے اور میں نے نبی ﷺ کے لئے جگہ اپنے ہاتھ سے درست کی تا آپؐ وہاں سوئیں اور میں نے اس جگہ پر پوستین بچھا دی اور کہا یا رسول اللہ! سو جائیں اور میں آپؐ کے اردگرد سب طرف نگاہ رکھوں گا (یعنی پہرہ دوں گا۔) آپؐ سوگئے اور میں آپؐ کے اردگرد نگاہ ڈالنے کی نیت سے نکلا۔ میں نے اچانک کیا دیکھا کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں لئے اسی چٹان کی طرف سامنے سے آرہا ہے۔ وہ بھی اس چٹان کے سایہ میں اسی طرح ٹھہرنا چاہتا تھا جس طرح ہم نے چاہا۔ میں نے پوچھا لڑکے تم کس کے ہو؟ اس نے کہا مدینہ والوں میں سے ایک شخص کا، یا (کہا) مکہ کے ایک شخص کا۔ میں نے پوچھا کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ میں نے کہا پھر کیا تم دودھ دوہو گے؟ اس نے کہا ہاں۔ اس نے ایک بکری لی۔ میں نے کہا تھن کو مٹی، بال، کیچڑ وغیرہ سے صاف کر دو۔ ابواسحاق کہتے تھے میں نے حضرت براءؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر جھاڑتے تھے۔ اس نے لکڑی کے ایک پیالے میں تھوڑا سا دودھ دوہا۔ میرے پاس چھاگل تھی (سفر میں) مَیں نبی ﷺ کے لئے اُٹھا لایا تھا تا آپؐ اس سے سیر ہو کر پانی پئیں اور وضو کریں۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے پسند نہ کیا کہ آپؐ کو جگاؤں۔ میں آپؐ کے پاس اس وقت آیا جب آپؐ خود جاگے۔ میں نے کچھ پانی دودھ پر ڈالا۔ یہاں تک کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہوگیا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! پیجئے۔ (حضرت ابوبکرؓ کہتے تھے) آپؐ نے اتنا پیا کہ میں خوش ہوگیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کیا ابھی کوچ کا وقت نہیں آیا؟ میں نے کہا ہاں آگیا ہے۔ کہتے تھے جب سورج ڈھل چکا تو ہم وہاں سے روانہ ہوگئے اور سراقہ بن مالک ہمارا تعاقب کر رہا تھا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! ہمیں دشمن نے پالیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا غم نہ کریں۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ نبی ﷺ نے اس کے خلاف دعا کی تو اس کا گھوڑا اس کے سمیت اپنے پیٹ تک سخت زمین میں دھنس گیا۔ زُہَیر نے شک کیا کہ آیا سخت کا لفظ کہا تھا یا نہیں۔ سراقہ کہنے لگا میں سمجھتا ہوں کہ آپ دونوں نے مجھ پر بددعا کی ہے۔ اس لئے میرے لئے اب دعا کریں۔ اللہ کے نام کا یہ وعدہ آپ سے کرتا ہوں کہ میں تعاقب کرنے والوں کو تم سے واپس کردوں گا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے اس کے لئے دعا کی اور اس نے چھٹکارا پایا تو وہ جس کسی سے بھی ملتا یہی کہتا میں تمہاری جگہ دیکھ آیا ہوں۔ چنانچہ وہ جس کسی کو بھی ملتا، اسے واپس کر دیتا۔ کہتے تھے اور اس نے ہم سے وفاداری کی۔
(مسلم کتاب الفضائل باب اثبات حوض نبینا ﷺ و صفاتہ4234 )
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن باہر تشریف لے گئے اور اُحد (میں شہید ہونے) والوں کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ پھر آپؐ منبر کی طرف واپس تشریف لائے اور فرمایا میں تمہارے لئے پیش رو ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں خدا کی قسم میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا (فرمایا) زمین کی کنجیاں۔ اور اللہ کی قسم مجھے تمہارے بارہ میں یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد شرک کرو گے لیکن مجھے تمہارے بارے میں یہ ڈر ضرور ہے کہ تم ان کے لئے آپس میں مقابلہ کرنے لگو گے۔
حضرت عقبہؓ (بن عامر) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک دن باہر آئے اور اُحد والوں کی نماز جنازہ اسی طرح پڑھی جس طرح کہ میت کی پڑھا کرتے تھے، پھر آپؐ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارا پیش رَو ہوں اور میں تمہارے لئے گواہی دوں گا اور میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں یا (فرمایا) زمین کی چابیاں اور (فرمایا) اللہ کی قسم! تمہارے متعلق مجھے یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے بلکہ تمہارے متعلق اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں تم دنیا میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حرص نہ کرنے لگو۔
(صحیح بخاری کتاب الجنائز باب الصلٰوۃ علی الشھید 1344)
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک دن نکلے اور آپؐ نے اُحد والوں کے لئے اسی طرح دعا کی جس طرح میت کے لئے کیا کرتے تھے۔ پھر آپؐ منبر کی طرف مڑ گئے اور فرمایا دیکھو میں تمہارا پیش خیمہ ہوں اور میں تمہارے لئے گواہ ہوں اور میں اللہ کی قسم! اپنے حوض کو اِس وقت دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں یا فرمایا زمین کی چابیاں دی گئی ہیں اور مجھے بخدا تمہارے متعلق خوف نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے، بلکہ مجھے تمہارے متعلق یہ خوف ہے کہ تم دنیا میں لگ جاؤ گے۔
(سنن ترمذی کتاب المناقب باب فی ما جاء فضل النبی ﷺ 3618)
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس دن مدینہ تشریف لائے تھے۔ آپ ﷺ کی آمد کی وجہ سے اس دن مدینہ کا گوشہ گوشہ روشن ہو گیا تھا اور جس دن رسول اللہ ﷺ فوت ہوئے مدینہ کی ہر جگہ تاریک ہو گئی۔ اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کو دفن کیا اور ابھی ہمارے ہاتھوں سے مٹی بھی صاف نہیں ہوئی تھی اور ہم ابھی آپؐ کی تدفین میں ہی مشغول تھے کہ ہمارے دل بدلنے لگے۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس دن مدینہ تشریف لائے اُس دن مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی اور جس دن آپؐ فوت ہوئے۔ مدینہ کی ہر چیز تاریک ہو گئی اور ہم نے اپنے ہاتھوں سے مٹی جھاڑی نہیں تھی، ہم ابھی آپﷺ کی تدفین میں مصروف تھے کہ ہم نے اپنے دلوں کو مختلف حال میں پایا۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " قیامت کے دن میں سارے انسانوں کا سردار ہوں گا، اور اس پر مجھے کوئی فخر نہیں ہے، میرے ہاتھ میں حمد (و شکر) کا پرچم ہوگا اور مجھے (اس اعزاز پر) کوئی فخر نہیں ہے۔ اس دن آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہیں سب کے سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے، میں پہلا شخص ہوں گا جس کے لیے زمین پھٹے گی اور مجھے اس پر بھی کوئی فخر نہیں ہے "، آپ نے فرمایا " (قیامت میں) لوگوں پر تین مرتبہ سخت گھبراہٹ طاری ہوگی، لوگ آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے آپ ہمارے باپ ہیں، آپ اپنے رب سے ہماری شفاعت کیجئے، وہ کہیں گے مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو چکا ہے جس کی وجہ سے میں زمین پر بھیج دیا گیا تھا، تم نوح کے پاس جاؤ، وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے، مگر نوح (علیہ السلام) کہیں گے میں زمین والوں کے خلاف بد دعا کر چکا ہوں جس کے نتیجہ میں وہ ہلاک کیے جا چکے ہیں، لیکن تم ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے، ابراہیم (علیہ السلام) کہیں گے میں تین جھوٹ بول چکا ہوں "، آپ نے فرمایا " ان میں سے کوئی جھوٹ جھوٹ نہیں تھا، بلکہ اس سے اللہ کے دین کی حمایت و تائید مقصود تھی، البتہ تم موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ، تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے، موسیٰ (علیہ السلام) کہیں گے میں ایک قتل کر چکا ہوں، لیکن تم عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ۔ تو وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے اللہ کے سوا مجھے معبود بنا لیا گیا تھا، تم محمد (ﷺ) کے پاس جاؤ"، آپ نے فرمایا " لوگ میرے پاس آئیں گے، میں ان کے ساتھ جاؤں گا "، ابن جدعان (راوی) کہتے ہیں انس نے کہا مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں رسول اللہ (ﷺ) کو دیکھ رہا ہوں، آپ نے فرمایا " میں جنت کے دروازے کا حلقہ (زنجیر) پکڑ کر اسے ہلاؤں گا، پوچھا جائے گا کون ہے ؟ کہا جائے گا محمد ہیں، وہ لوگ میرے لیے دروازہ کھول دیں گے، اور مجھے خوش آمدید کہیں گے، میں سجدے میں گر جاؤں گا اور حمد و ثنا کے جو الفاظ اور کلمے اللہ میرے دل میں ڈالے گا وہ میں سجدے میں ادا کروں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا اپنا سر اٹھائیے، مانگیئے (جو کچھ مانگنا ہو) آپ کو دیا جائے گا۔ سفارش کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، کہئے آپ کی بات سنی جائے گی۔ اور وہ جگہ مقام محمود ہوگا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا۔
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا اور اس میں سے دستی کا گوشت اٹھا کر آپ کے سامنے پیش کیا گیا اور آپ کو یہ بہت پسند تھا آپؐ نے اس میں سے دانتوں سے تھوڑا سا لیا پھر فرمایا میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا ، کیا تم جانتے ہو کس لیے ؟ پہلے اور پچھلے لوگ ایک ہی میدان میں اکٹھے کئے جائیں گے۔ پکارنے والا ان سب کو سنائے گا اور آنکھ ان کو دیکھے گی اور سورج نزدیک آجائے گا اور لوگوں کو اس قدر ہم و غم ہو گا جس کی وہ طاقت نہیں رکھیں گے اور نہ اسے برداشت کر سکیں گے۔ لوگ آپس میں کہیں گے کہ کیا دیکھتے نہیں کہ تمہارا کیا حال ہو چکا ہے کیا اب بھی تم ایسے شخص کو نہیں ڈھونڈو گے جو تمہارے رب کے پاس تمہارے لیے سفارش کرے ، تب بعض لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ چلو آدم سے مدد لیں۔ فرمایا چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ آدم ہیں ابو البشر ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا اور انہوں نے آپ کی خاطر سجدہ کیا۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حالت میں ہیں ، ہماری نوبت کہاں تک پہنچ گئی ہے۔ آدم کہیں گے میرا رب آج بہت بڑے جلال میں ہے کہ اس سے قبل اتنے جلال میں نہیں ہوا اور اس کے بعد ایسے جلال کا اظہار کرے گا۔ اور اس نے مجھے درخت سے روکا تھا اور میں نے اس کی نافرمانی کی ، مجھے تو اپنی جان کی پڑی ہے ، اپنی ہی فکر ہے اپنی ہی فکر ہے ، میرے سوا تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ نوحؑ کی طرف جاؤ۔ پھر لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے۔ وہ کہیں گے اے نوح آپ پہلے رسول ہیں جو زمین والوں کی طرف بھیجے گئے اور اللہ نے آپ کو شکر گزار بندہ قرار دیا ہے۔ اپنے رب سے ہمارے لیے سفارش کریں، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں؟ وہ کہیں گے کہ میرا رب عزوجل آج بہت بڑے غضب میں ہے ، ایسا غضب ناک نہ وہ پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ ایسا غضب ناک ہو گا۔ اور مجھ سے ایک دعا ہو گئی تھی جو میں نے اپنی قوم کے ہی خلاف کی تھی ، مجھے تو اپنی جان کی پڑی ہے۔ مجھے اپنی ہی فکر ہے اپنی ہی فکر ہے۔۔ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ تم ابراہیم کے پاس جاؤ۔ وہ حضرت ابراہیمؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے ابراہیم آپ اللہ کے نبی ہیں اور ساری زمین والوں میں سے اس کے دوست ہیں آپ اپنے رب سے ہمارے لیے سفارش کریں کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں؟ وہ کہیں گے کہ میرا رب عزو جل آج بہت بڑے غضب میں ہے ، ایسا غضب ناک نہ وہ پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ ایسا غضب ناک ہو گا۔ میں نے تو تین باتیں خلاف واقعہ کہی تھیں۔ ابو حیان نے حدیث میں ان (خلاف واقعہ باتوں ) کا ذکر کیا ہے۔ مجھے اپنی ہی فکر ہے ، اپنی ہی فکر ہے۔ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ تم موسیٰ کے پاس جاؤ وہ حضرت موسیٰ علیہ سلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے موسیٰ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنی رسالت اور اپنے کلام سے لوگوں پر فضیلت دی ہے اپنے رب سے ہمارے لیے سفارش کریں ، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں ؟ وہ کہیں گے کہ میرا رب عزو جل آج بہت بڑے غضب میں ہے ، ایسا غضب ناک نہ وہ پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ ایسا غضب ناک ہو گا۔ اور میں نے ایک جان کو مار ڈالا تھا جس کے مارنے کا حکم مجھے نہیں تھا مجھے تو اپنی فکر ہے اپنی ہی فکر ہے۔ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ۔ تم عیسیٰ بن مریم کے پاس جاؤ۔ وہ حضرت عیسیٰؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جو مریم کو اللہ نے القا کیا اور اس کی روح ہیں۔ آپ نے گہوارے میں لوگوں سے باتیں کیں ، ہماری سفارش کریں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں ؟ حضرت عیسیٰ کہیں گے میرا رب عزو جل آج بہت بڑے غضب میں ہے ، ایسا غضب ناک نہ وہ پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ ایسا غضب ناک ہو گا۔ انہوں نے اپنے کسی گناہ کا ذکر تو نہیں کیا (مگر کہیں گے ) مجھے تو اپنی فکر ہے، اپنی ہی فکر ہے، اپنی ہی فکر ہے۔ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ تم محمد
(مسلم کتاب الایمان باب الدلیل علی دخول طوائف من المسلمین الجنۃ بغیر حساب 315)
حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں۔ پس میں نے کسی نبی کے ساتھ کوئی ایک چھوٹی سی جماعت دیکھی۔ کسی نبی کے ساتھ ایک یا دو آدمیوں کو دیکھا اور کسی نبی کے ساتھ کوئی شخص بھی نہیں تھا۔ پھر میرے سامنے ایک بہت بڑی جماعت لائی گئی تو میں نے سمجھا کہ وہ میری امت ہے۔ مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ ؑ اور ان کی قوم ہے لیکن اُفق کی طرف دیکھو، تو میں نے دیکھا تو میں کیا دیکھتا ہوں ایک بہت بڑی جماعت ہے۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ دوسرے افق کی طرف دیکھو، تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بہت ہی بڑی جماعت ہے۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ یہ تیری امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار افراد ایسے ہیں جو جنت میں بغیر حساب و عذاب کے داخل ہوں گے۔ پھر آپ ؐ اٹھے اور اپنے گھر تشریف لے گئے۔ لوگ ان لوگوں کے بارہ میں قیاس آرائیاں کرنے لگے جو جنت میں بغیر حساب و عذاب داخل ہوں گے۔ ان میں سے بعض (لوگوں) نے کہا شاید یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت پائی اور ان میں سے بعض نے کہا شاید یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اللہ کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا۔ انہوں نے کچھ اور باتوں کا بھی تذکرہ کیا۔ تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تم کن باتوں میں لگے ہوئے ہو؟ انہوں نے آپ ؐ کو بتایا۔ آپ ؐ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں نہ کرواتے ہیں نہ برا شگون لیتے ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ اس پر عکاشہؓ بن محصن کھڑے ہوئے اور عرض کیا اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ اس پر آپ ؐ نے فرمایا تم ان میں سے ہو۔ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ اللہ کے حضور دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ اس پر آپ ؐ نے فرمایا اس میں عکاشہؓ تم پر سبقت لے گیا ہے۔
(سنن ترمذی کتاب التفسیر باب و من سورۃ بنی اسرائیل 3148)
(بخاری کتاب التفسیر سورۃ نبی اسرائیل ، ذریۃ من حملنا مع نوح انہ کان عبد شکورا 4712)
ﷺ
کے پاس جاؤ۔ اور وہ حضرت محمد
ﷺ
کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے محمدؐ! آپ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کی مہر ہیں اور اللہ نے آپ کو پہلے بھی گناہوں سے محفوظ رکھا اور بعد میں بھی ، اپنے رب سے ہماری سفارش کریں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں َ تو میں (یہ سن کر ) جاؤں گا اور عرش کے نیچے آ کر اپنے رب کے حضور سجدہ میں گر جاؤں گا اور اللہ مجھے اپنی خوبیاں بیان کرنے کی توفیق دے گا کہ مجھ سے پہلے کسی کو ویسی توفیق نہ دی ہو گی۔ پھر کہا جائے گا اے محمد
ﷺ
! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری سنی جائے گی ، مانگو تمہیں دیا جائے گا ، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور کہوں گا اے میرے رب میری امت، اے میرے رب میری امت، اے میرے رب میری امت۔ کہا جائے گا محمد! اپنی امت ہی سے جن لوگوں کے ذمہ کوئی حساب نہیں جنت کے دروازوں میں سے دائیں جانب کے دروازے سے جنت میں لے جاؤ اور اس کے سوا جو دوسرے دروازے ہیں ان میں بھی وہ لوگوں میں شریک ہو سکتے ہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (جنت کا دروازہ اتنا فراخ ہو گا کہ) اس کے دو کواڑوں میں فاصلہ اتنا ہے جتنا مکہ اور
حِمْیَرْ
کے درمیان ہے یا فرمایا جتنا فاصلہ مکہ اور بصرہ کے درمیان ہے۔