( مسلم کتاب الفضائل باب فی شجاعۃ النبی علیہ سلام و تقدمہ للحرب 4252 )
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ حسین تھے اور سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔ سب لوگوں سے زیادہ بہادر تھے اور ایک رات اہلِ مدینہ نے خطرہ محسوس کیا کچھ لوگ اس آواز کی طرف گئے تو رسول اللہ ﷺ انہیں واپس آتے ہوئے ملے۔ آپؐ آواز کی طرف ان سے پہلے چلے گئے تھے اور آپؐ ابو طلحہؓ کے گھوڑے پر بغیر زین کے سوار تھے اور آپؐ کے گلے میں تلوار تھی اور آپؐ فرما رہے تھے گھبرا نے کی کوئی بات نہیں، گھبرا نے کی کوئی بات نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہم نے اس (گھوڑے) کو سمندر پایا ہے یا فرمایا یہ سمندر ہے۔ راوی کہتے ہیں حالانکہ وہ گھوڑا بہت سُست ہوا کرتا تھا۔
(بخاری کتاب الجھاد باب الشجاعۃ فی الحرب و الجبن 2820)
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت اور سب سے بہادر اور سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ اہل مدینہ گھبرا اٹھے تو نبی ﷺ گھوڑے پر سوار ہو کر ان سب سے آگے گئے اور آپؐ نے فرمایا ہم نے اس گھوڑے کو ٹھاٹیں مارتا ہوا دریا پایا۔
(بخاری کتاب الجھاد باب الحمائل و تعلیق السیف بالعنق 2908)
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے اور لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر تھے۔ مدینہ والے ایک رات یکایک گھبرا گئے اور آواز کی طرف چل پڑے تو نبی ﷺ ان کو سامنے سے آتے ہوئے ملے۔ آپؐ بات کی تحقیق کر چکے تھے۔ آپؐ حضرت ابو طلحہؓ کے ایک گھوڑے پر سوار تھے۔ جس کی پیٹھ ننگی تھی۔ تلوار آپ کے گلے میں حمائل تھی۔ اور آپؐ کہہ رہے تھے ڈرو نہیں ڈرو نہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا ہم نے اس گھوڑے کو دریا پایا یا فرمایا وہ تو ایک دریا ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت سب لوگوں سے زیادہ سخی اور سب لوگوں سے زیادہ بہادر تھے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے ایک رات مدینہ والے یکایک گھبرا گئے۔ انہوں نے کوئی آواز سنی تھی۔ کہتے تھے وہ باہر گئے تو نبی ﷺ ان سامنے سے آتے ہوئے ملے۔ آپؐ حضرت ابو طلحہؓ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے اور تلوار لٹکائی ہوئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا ڈرو نہیں ڈرو نہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اس گھوڑے کو دریا پایا ہے۔
( ابو داؤد کتاب الادب باب فی الرجل یقول للرجل حفظک اللہ 5228)
حضرت ابو قتادہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں وہ نبیﷺ کے ہمراہ تھے۔ لوگ پیاس کی شدت کی وجہ سے حضورﷺ سے آگے نکل گئے (تاکہ پانی والی جگہ پر جلد پہنچ جائیں) اور میں رسول اللہﷺ (کی حفاظت کی غرض سے اس رات حضورﷺ) کے ساتھ ساتھ رہا۔ اس پر حضورﷺ نے مجھے دعا دی اور فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے جس طرح تم نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے۔
(ترمذی کتاب ابواب تفسیر القرآن باب و من سورۃ المائدۃ 3046)
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رات کے وقت نبی ﷺ کی حفاظت کی غرض سے پہرہ لگا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ یہ آیت وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے (برے ارادوں سے) تمہیں محفوظ رکھے گا تو رسول اللہ ﷺ نے اس رات خیمہ سے باہر جھانکا اور فرمایا اب تم لوگ جا سکتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود میری حفاظت کی ذمہ داری لے لی ہے۔
(صحیح مسلم کتاب الجھاد والسیر باب فی غزوۃ حنین3310 )
حضرت عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں حنین کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔ میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتھ رہے اور آپ ؐ سے علیحدہ نہ ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی سفید خچر پر جو آپ ؐ کو فروہ بن نفاثہ جذامی نے تحفہ دیا تھا سوار تھے جب مسلمانوں اور کفار کی مٹھ بھیڑ ہوئی تو مسلمانوں نے پیٹھ پھیر لی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی خچر کو کفار کی طرف تیزی سے برابر بڑھاتے رہے۔ حضرت عباسؓ کہتے ہیں۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خچر کی لگام پکڑے ہوئے اسے تیز چلنے سے روک رہا تھا اور ابو سفیانؓ رسول اللہ ﷺ کی رکاب پکڑے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عباس اصحابِ سمرہ کو بلاؤ۔ عباسؓ کہتے ہیں ـــ اور وہ بلند آواز آدمی تھے ـــ میں نے بلند آواز سے کہا اصحابِ سمرہ کہاں ہیں ؟ وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم ! جب انہوں نے میری آواز سنی تو گویا ان کا لوٹنا ایسے تھا جیسے گائے اپنے بچوں کی طرف (شفقت کی وجہ سے) جاتی ہے۔ انہوں نے کہا لبیک لبیک پھر وہ کفار سے لڑے اور انصار کو یہ کہتے ہوئے بلایا! اے گروہِ انصار! وہ کہتے ہیں پھر یہ پکار، بنی حارث بن خزرج پر جا ٹھہری اور انہوں نے کہا اے بنی حارث بن خزرج! اے بنی حارث بن خزرج! رسول اللہ ﷺ نے گردن اُٹھا کر ان کی جنگ کا نظارہ کیا اور آپ ؐ اپنی خچر پر سوار تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ تنور کے جوش زن ہونے کا وقت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کنکر پکڑے اور انہیں کفار کے چہروں کی طرف پھینکا۔ پھر فرمایا محمد ﷺ کے رب کی قسم! انہوں نے شکست کھائی۔ (حضرت عباسؓ) کہتے ہیں میں دیکھنے لگا تو لڑائی ویسے ہی ہو رہی تھی جیسے مَیں دیکھتا تھا۔ وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم! جونہی آپ ؐ نے کنکریاں پھینکیں تو مَیں نے دیکھا کہ ان کی تیزی ماند پڑنے لگی اور ان کا معاملہ الٹنے لگا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ضماد مکہ آیا وہ شنوء ہ (قبیلہ کی شاخ) ازد سے تھا وہ اس ریح (وغیرہ) کا دم کیا کرتا تھا اس نے مکہ کے بے وقوفوں کو یہ کہتے سن لیا تھا کہ محمد ﷺ مجنون ہے۔ اس نے کہا اگر میں اس شخص کو دیکھوں تو شاید اللہ اسے میرے ہاتھ پر شفاء دے دے۔ راوی کہتے ہیں وہ آپؐ سے ملا اور کہا اے محمدﷺ! میں اس قسم کی بیماری کا علاج کرتا ہوں اور اللہ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھ پر شفاء دیتا ہے۔ کیا میں آپ کا علاج کروں؟ اس پہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ قرار دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں محمدﷺ اس کے بندہ اور رسول ہیں۔ راوی کہتے ہیں اس نے کہا کہ آپ اپنے یہ کلمات میرے لئے دوبارہ پڑھیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے سامنے تین دفعہ یہ کلمات دہرائے۔ راوی کہتے ہیں اس نے کہا کہ میں نے کاہنوں کی باتیں، جادوگروں کا کلام اور شعراء کا کلام بھی سنا ہے لیکن میں نے آپؐ کے ان کلمات جیسے کبھی نہیں سنے۔ یہ (کلمات) سمندر کی گہرائی تک پہنچتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر اس نے کہا آپؐ اپنا ہاتھ لائیے میں اسلام پر آپ کی بیعت کروں گا۔ راوی کہتے ہیں پھر اس نے آپؐ کی بیعت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور اپنی قوم پر بھی (اسلام کو مقدم کرو گے؟) اُس نے کہا اپنی قوم پر بھی۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہم بھیجی۔ وہ اس کی قوم کے پاس سے گذرے۔ مہم کے نگران نے اپنے لشکر سے کہا کیا تم نے ان سے کوئی چیز لی ہے؟ لوگوں میں سے ایک نے کہا کہ میں نے ان سے ایک وضو کرنے کا برتن لیا ہے انہوں نے کہا اسے واپس کر دو کیونکہ یہ لوگ ضماد کی قوم ہیں۔
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ مجھ سے بیان کرتے ہیں۔ ابوسفیان نے میرے روبرو بات کرتے ہوئے کہا میں اس میعادی صلح کے دوران میں جو میرے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان تھی چلا گیا کہا اس اثناء میں کہ میں شام میں تھا کہ نبی ﷺ کا ایک خط ہرقل کے پاس لایا گیا کہا اور دحیہ کلبی وہ خط لایا اور اس نے بصرہ کے سردار کے سپرد کیا اور بصریٰ کے سردار نے ہرقل کو پہنچا دیا۔ ہرقل نے پوچھا کہ کیا اس شخص کی قوم میں سے کوئی یہاں ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں۔ ابوسفیان نے کہا چنانچہ قریش کے چند لوگوں سمیت مجھے بلایا گیا اور ہم ہرقل کے سامنے پیش ہوئے اور اس کے سامنے بٹھائے گئے۔ ہرقل نے پوچھا تم میں سے کون رشتہ دار ہیں اس شخص سے زیادہ قریب جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابوسفیان نے کہا میں ہوں۔ تب انہوں نے مجھے اس کے سامنے بٹھایا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھایا پھر اس نے اپنے ترجمان کو بلایا اور اس سے کہا ان لوگوں سے کہو کہ میں اس سے اس شخص کے متعلق جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے پوچھنے لگا ہوں اگر اس نے مجھ سے جھوٹ کہا تو تم اس کو جھٹلا دینا۔ ابوسفیان کہتے تھے اور اللہ کی قسم کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میرے ساتھی میرے برخلاف کہہ دیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا اس سے پوچھ تم میں اس کا خاندان کیسا ہے؟ کہتے تھے۔ میں نے کہا وہ ہم میں خاندانی ہے۔ ہرقل نے پوچھا کیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے؟ کہتے تھے۔ میں نے کہا نہیں۔ پوچھا۔ تو کیا پیشتر اس کے کہ وہ دعویٰ کرتا جو اس نے کیا تم اس پر جھوٹ کا الزام لگاتے تھے؟ میں نے کہا نہیں۔ کہنے لگا کیا لوگوں میں سے بڑے بڑے اس کی پیروی کرتے ہیں یا ان میں سے کمزور؟ میں نے کہا بلکہ ان میں سے کمزور۔ پوچھا کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں؟ میں نے کہا نہیں بلکہ بڑھ رہے ہیں۔ اس نے پوچھا کیا ان میں سے کوئی اپنے دین سے اس میں داخل ہونے کے بعد دین سے نفرت کرنے کی وجہ سے مرتد بھی ہوتا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ اس نے پوچھا کیا تم نے اس سے جنگ بھی کی؟ میں نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا۔ پھر اس سے تمہاری لڑائی کیسی رہی؟ میں نے کہا لڑائی ہمارے اور اس کے درمیان ڈول کی طرح۔ کبھی وہ ہم کو نقصان پہنچاتا ہے کبھی ہم اس کو پہنچاتے ہیں۔ اس نے پوچھا۔ کیا وہ عہد شکنی بھی کرتا ہے؟ میں نے کہا نہیں اور اب ہم اس کی طرف سے ایک میعادی صلح میں ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ اس میں وہ کیا کچھ کرنے والا ہے اور ابوسفیان کہتے تھے۔ اللہ کی قسم کسی بات نے موقعہ نہیں دیا کہ اس میں اپنی طرف سے کچھ کہوں سوائے اس بات کے۔ اس نے پوچھا۔ کیا کسی نے اس سے پہلے یہ دعویٰ کیا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ پھر اس کے بعد اس نے اپنے ترجمان سے کہا اس سے کہو کہ میں نے تم سے اس کے خاندان سے متعلق پوچھا تھا کہ وہ تم میں کیسا ہے؟ تو تم نے کہا ہے کہ وہ ہم میں خاندانی ہے اور رسول بھی اس طرح اپنی قوم کے شریف خاندانوں ہی میں سے ہوتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا۔ کیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے؟ تو تم نے کہا نہیں۔ میں نے خیال کیا اگر اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ ہوا ہو تو میں سمجھتا کہ ایک ایسا شخص ہے جو اپنے باپ دادوں کی بادشاہت کا خواہاں ہے اور میں نے تم سے اس کے پیروؤں کی بابت پوچھا تھا کیا وہ لوگوں میں سے کمزور ہیں یا ان میں سے بڑے بڑے لوگ؟ تو تم نے کہا نہیں ان میں کمزور اور یہی لوگ رسول کے پیرو ہوتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا۔ کیا جو اس نے دعویٰ کیا ہے اس دعویٰ کرنے سے پہلے تم اس کو جھوٹ سے متہم کرتے تھے؟ تم نے کہا نہیں۔ میں اس سے سمجھ گیا کہ وہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگوں پر تو جھوٹ ترک کرے اور اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے اور میں نے تم سے پوچھا۔ کیا ان میں سے کوئی اپنے دین سے اس میں داخل ہونے کے بعد اس دین سے نفرت کرنے کی وجہ سے مرتد بھی ہوتا ہے؟ تم نے کہا نہیں اور ایمان کی یہی حالت ہوتی ہے جب وہ دلوں میں بشاشت سے سما جاتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا۔ کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں؟ تو تم نے کہا بڑھ رہے ہیں اور ایمان کا یہی حال ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ کمال کو پہنچ جائے اور میں نے تم سے پوچھا تھا۔ کیا تم نے کبھی اس سے لڑائی بھی کی؟ تم نے کہا کہ ہم نے اس سے جنگ کی اور جنگ تمہارے اور اس کے درمیان ڈول کی طرح ہے۔ کبھی وہ تم کو نقصان پہنچاتا ہے اور کبھی تم اس کو نقصان پہنچاتے ہو اور رسولوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے مگر آخر انجام انہی کا ہوتا ہے اور پھر میں نے تم سے پوچھا۔ کیا وہ عہد شکنی کرتا ہے؟ تم نے کہا نہیں۔ اس طرح رسولوں کا حال ہوتا ہے کہ وہ عہد شکنی نہیں کرتے اور میں نے تم سے پوچھا۔ کیا اس سے پہلے کسی نے یہ دعویٰ کیا؟ تم نے کہا نہیں۔ میں نے خیال کیا کہ اگر اس سے پہلے کوئی یہ دعویٰ کرتا تو میں سمجھتا ایک شخص ہے کہ جس نے ایسی بات کی تقلید کی ہے جو اس سے پہلے بھی کہی گئی۔ ابوسفیان کہتے تھے۔ اس کے بعد اس نے پوچھا۔ کس بات کا تمہیں حکم دیتا ہے؟ میں نے کہا نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے اور صلہ رحمی کرنے اور بدیوں سے بچنے کا حکم کرتا ہے۔ ہرقل کہنے لگا۔ جو کچھ تم نے اس کے بارے میں کہا ہے اگر یہ سچ ہے تو یقیناً وہ نبی ہے اور میں جانتا تھا کہ وہ آنے والا ہے، مگر میں یہ خیال نہیں کرتا تھا کہ وہ تم میں سے ہوگا اور اگر میں جانتا کہ میں اس تک اس کے پاس صحیح سالم پہنچ جاؤں گا تو میں ضرور اس کی ملاقات پسند کرتا اور اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے پاؤں کی میل دھوتا اور ضرور ضرور اس کی بادشاہت اس زمین تک پہنچ جائے گی جو میرے پاؤں کے نیچے ہے۔ ابوسفیان کہتے تھے۔ پھر اس نے رسول اللہ
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے اپنے ماں باپ کے متعلق ہوش سنبھالی ہے وہ اس دین کے پابند تھے اور ہم پر کوئی بھی دن نہ گزرتا تھا کہ جس میں ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ دونوں وقت صبح اور شام نہ آتے ہوں۔ جب مسلمانوں کو تکالیف کا سامنا ہوا۔ حضرت ابوبکرؓ حبشہ کے ملک کی طرف ہجرت کی نیت سے نکلے۔ جب برک الغماد میں پہنچے تو انہیں ابن الدغنہ ملا اور وہ قارہ قبیلہ کا سردار تھا۔ اس نے پوچھا ابوبکرؓ کہاں کا ارادہ ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ زمین میں سیر کروں اور اپنے رب کی عبادت کروں۔ ابن الدغنہ نے کہا اے ابوبکرؓ! تمہارے جیسے بہترین شخص کو ملک سے نہیں جانا چاہیے اور نہ اسے نکالا جانا چاہیے۔ تم تو نادار کو کما کر دیتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، عاجز کو سہارا دیتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو اور پیش آمدہ ضرورتوں میں مدد دیتے ہو۔ میں تمہاری پناہ ہوں گا۔ واپس جاؤ اور اپنے شہر میں ہی اپنے ربّ کی عبادت کرو۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ لوٹ آئے اور ابن الدغنہ نے بھی ان کے ساتھ ہی کوچ کیا۔ پھر ابن الدغنہ نے شام کے وقت قریش کے بڑے بڑے لوگوں میں چکر لگایا اور ان سے کہا ابوبکرؓ جیسے بہترین شخص کو ملک سے نہیں جانا چاہیے اور نہ اس کو نکالا جانا چاہیے۔ کیا تم اس شخص کو نکالتے ہو جو نادار کو کما کر دیتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، عاجز کو سہارا دیتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے اور پیش آمدہ ضرورتوں میں مدد دیتا ہے۔ چنانچہ قریش نے ابن الدغنہ کی پناہ ردّ نہیں کی اور انہوں نے ابن الدغنہ سے کہا ابوبکرؓ سے کہو کہ اپنی چاردیواری میں ہی اپنے ربّ کی عبادت کرے۔ اسی میں نماز ادا کرے اور اسی میں جو چاہے پڑھے اور ہمیں اس سے تکلیف نہ دے اور نہ اس کا اعلان کرے۔ کیونکہ ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ ہماری عورتوں اور لڑکوں کو بہکا نہ دے۔ چنانچہ ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکرؓ سے یہ کہہ دیا اور حضرت ابوبکرؓ بھی اس پر قائم رہے۔ وہ اپنی چاردیواری کے اندر ہی اپنے ربّ کی عبادت کرتے تھے اور اپنی نماز اعلانیہ طور پر ادا نہ کرتے تھے اور نہ ہی اپنی چاردیواری کے سوا کسی اور جگہ قرآن مجید پڑھتے۔ پھر اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ کو خیال آیا اور انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنا لی اور اس میں نماز ادا کیا کرتے اور قرآن پڑھا کرتے۔ انہیں سن کر مشرکوں کی عورتیں اور ان کے بیٹے حضرت ابوبکرؓ کے پاس آن جمع ہوتے اور ان سے تعجب کرتے اور ان کو دیکھتے رہتے اور حضرت ابوبکرؓ بہت رونے والے شخص تھے۔ جب قرآن پڑھتے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھتے اور اس بات نے مشرکین قریش کے بڑے بڑے آدمیوں کو گھبرا دیا۔ انہوں نے ابن الدغنہ کو بلا بھیجا۔ چنانچہ وہ آیا تو انہوں نے کہا ہم نے تو تمہاری پناہ کی وجہ سے ابوبکرؓ کو اس شرط پر پناہ دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں ہی اپنے رب کی عبادت کرے۔ مگر وہ اس سے آگے بڑھ گیا ہے اور اس نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنا لی ہے اور اس مسجد میں نماز اور قرآن اعلانیہ پڑھنا شروع کر دیا ہے اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں وہ ہماری عورتوں اور ہمارے بیٹوں کو بہکا نہ دے۔ اس لئے تم اس کو روک دو۔ پس اگر وہ اس کی پابندی کرنا پسند کرے کہ اپنے گھر میں ہی رہ کر اپنے رب کی عبادت کرتا رہے تو کرے اور اگر اس کے اعلان کرنے پر ہی اصرار کرے تو اسے کہو کہ وہ تمہاری ذمہ داری تمہیں واپس کر دے۔ کیونکہ ہمیں یہ ناپسند ہے کہ ہم تمہاری ذمہ داری کو توڑیں اور ہم تو ابوبکرؓ کو اعلان نہیں کرنے دیں گے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں چنانچہ ابن الدغنہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا تمہیں علم ہی ہے کہ جس بات پر میں نے تمہاری خاطر عہد کیا تھا۔ پس یا تو تم اس بات کے پابند رہو اور یا میری ذمہ داری مجھے واپس کر دو۔ کیونکہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ عرب لوگ یہ سنیں کہ ایک شخص کے متعلق کہ جس کی خاطر میں نے عہد کیا تھا میری ذمہ داری توڑ دی گئی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا اچھا میں تمہیں تمہاری پناہ واپس کرتا ہوں اور اللہ عز و جل کی پناہ پر راضی ہوتا ہوں اور نبی
(بخاری کتاب التفسیر باب قل یا اھل الکتاب تعالوا الی الکلمۃ سواء بیننا …4553)
ﷺ
کا خط منگایا اور اس کو پڑھا۔ تو اس میں یہ مضمون تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، محمد
ﷺ
کی طرف سے جو اللہ کا رسول ہے۔ ہرقل کی طرف جو رومیوں کا سردار ہے۔ جس نے ہدایت (صحیح راستے) کی پیروی کی۔ اس پر سلامتی ہو۔ اما بعد میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام قبول کرلو سلامتی میں رہو گے اور اسلام قبول کرو۔ اللہ تمہیں تمہارا اجر دے گا۔ دو مرتبہ۔ اگر تم نے منہ پھیر لیا تو یاد رکھو رعایا کا وبال بھی تم پر پڑے گا اور اے اہل کتاب تم اس بات کی طرف آؤ۔ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترکہ ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اشهدوا بانا مسلمون تک۔ جب ہرقل اس خط کے پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے پاس آوازیں بلند ہوئیں اور شور بہت ہوا اور ہمارے متعلق حکم دیا گیا اور ہم نکال دئیے گئے۔ ابوسفیان کہتے تھے۔ جب ہم نکلے میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا ابو کبشہ کے بیٹے کی تو دھاک بندھ گئی ہے۔ اس سے تو اب بنو اصفر کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے۔ میں اس وقت سے رسول اللہ کے سلسلے کی نسبت یقین کئے رہا کہ وہ ضرور غالب ہوگا۔ یہاں تک کہ یہ دن آیا اللہ نے مجھ کو اسلام میں داخل کیا۔ زہری کہتے تھے۔ ہرقل نے رومیوں کے بڑے بڑے سرداروں کو بلایا۔ ان کو اپنے ایک محل میں جمع کیا اور کہنے لگا۔ رومی لوگو! کیا تمہیں کامیابی اور سیدھے راستے پر رہنے کی خواہش ہے اور یہ کہ تمہاری بادشاہت قائم رہے۔ یہ سن کر وہ جنگلی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے۔ مگر انہوں نے ان کو بند پایا۔ ہرقل نے کہا ان کو میرے پاس لے آؤ۔ ان کو بلایا اور کہنے لگا۔ میں نے تو صرف یہ آزمایا تھا کہ تم اپنے دین پر مضبوط بھی ہو۔ سو میں نے تم سے یہ بات دیکھ لی ہے جو میں چاہتا تھا۔ یہ سن کر انہوں نے اس کے سامنے سجدہ کیا اور اس سے خوش ہوگئے۔
(بخاری کتاب مناقب الانصار باب ھجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینۃ 3905)
ﷺ
ان دنوں مکہ میں ہی تھے۔ نبی
ﷺ
نے مسلمانوں سے کہا تمہاری ہجرت کا مقام مجھے دکھایا گیا ہے جہاں کھجوریں ہیں اور پتھریلے میدانوں میں واقع ہے اور وہ یہی مدینہ کے دو میدان ہیں۔ تو یہ سن کر جن مسلمانوں سے ہو سکا وہ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے اور جو حبشیوں کے ملک میں ہجرت کر گئے تھے وہ بھی اکثر آخر مدینہ کو لوٹ آئے اور حضرت ابوبکرؓ نے بھی مدینہ جانے کی تیاری کی تو نبی
ﷺ
نے فرمایا ذرا ٹھہر جائیں۔ کیونکہ میں بھی امید کرتا ہوں کہ مجھے بھی اجازت دی جائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا اور کیا آپؐ اس کی امید کرتے ہیں میرے ماں باپ آپؐ پر قربان؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے رسول اللہ
ﷺ
کی خاطر اپنے آپ کو روکے رکھا تا وہ آپؐ کے ساتھ ہی جائیں اور دو سواری کی اُونٹنیوں کو جو اُن کے پاس تھیں کیکر کے پتے چار مہینے تک چراتے رہے۔ ابن شہاب کہتے تھے عروہ نے کہا حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں ایک دن ہم حضرت ابوبکرؓ کے گھر ٹھیک دوپہر کے وقت بیٹھے ہوئے تھے، کسی کہنے والے نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا رسول اللہ
ﷺ
اپنے سر پر کپڑا اوڑھے ہوئے آ رہے ہیں۔ آپؐ ایسے وقت آئے کہ جس میں آپؐ ہمارے پاس نہیں آیا کرتے تھے۔ تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ خدا کی قسم! آپؐ جو اس وقت تشریف لائے ہیں تو ضرور کوئی بڑا کام ہے۔ کہتی تھیں اتنے میں رسول اللہ
ﷺ
آن ہی پہنچے اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ حضرت ابوبکرؓ نے اجازت دی۔ آپؐ اندر آئے۔ نبی
ﷺ
نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا جو تمہارے پاس ہیں انہیں باہر بھیج دو۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ گھر میں تو صرف آپؐ ہی کے گھر والے ہیں (یعنی عائشہؓ اور امّ رومانؓ ان کی والدہ) تو رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا مجھے ہجرت کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا یا رسول اللہ! مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلئے۔ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ تو رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا ہاں (تم بھی میرے ساتھ چلو۔) پھر حضرت ابوبکرؓ نے کہا میرے ماں باپ آپؐ پر قربان تو پھر میری ان دو سواری کی اونٹنیوں میں سے ایک آپؐ لے لیجئے۔ رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا قیمتاً لوں گا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں چنانچہ ہم نے جلدی سے دونوں کا سامان سفر تیار کر دیا اور ہم نے ان کے لئے توشہ تیار کرکے چمڑے کے تھیلہ میں ڈال دیا۔ حضرت ابوبکرؓ کی بیٹی حضرت اسماءؓ نے اپنے کمر بند سے ایک ٹکڑا کاٹ کر تھیلے کے منہ کو اس سے باندھا، اس لئے ان کا نام ذات النطاق ہوگیا۔ فرماتی تھیں پھر اس کے بعد رسول اللہ
ﷺ
اور حضرت ابوبکرؓ ثور پہاڑ کی ایک غار میں جا پہنچے اور اس میں تین راتیں چھپے رہے۔ حضرت عبداللہ بن ابوبکرؓ ان دونوں کے پاس جا کر رات ٹھہرتے اور اس وقت وہ چالاک اور ہوشیار جوان تھے اور اندھیرے ہی میں ان کے پاس سے چلے آتے اور مکہ میں قریش کے ساتھ ہی صبح کرتے جیسے وہیں رات گزاری ہے۔ جو تدبیر بھی ان کے متعلق سنتے وہ اس کو اچھی طرح سمجھ لیتے اور جب اندھیرا ہوجاتا تو غار میں پہنچ کر ان کو بتا دیتے اور حضرت ابوبکرؓ کا غلام عامر بن فہیرہؓ بکریوں کے ریوڑ میں سے ایک دودھیل بکری ان کے پاس چراتا رہتا اور جب عشاء کے وقت سے کچھ گھڑی گزر جاتی تو وہ بکری ان کے پاس لے آتا اور وہ دونوں تازہ دودھ پی کر رات گزارتے اور یہ دودھ ان دونوں کی دودھیل بکری کا ہوتا۔ عامر بن فہیرہؓ رات کے پچھلے پہر (گلے میں چلا جاتا اور) بکریوں کو آواز دینا شروع کر دیتا۔ تین رات تک وہ ایسا ہی کرتا رہا اور رسول اللہ
ﷺ
اور حضرت ابوبکرؓ نے بنودیل کے قبیلہ کے ایک شخص کو راستہ بتانے کے لئے اجرت پر رکھ لیا اور وہ بنو عبد بن عدی سے تھا۔ بہت ہی واقف کار راستہ بتانے کا ماہر تھا۔
خِرِّیت
عربی میں اس شخص کو کہتے ہیں جو راہ دکھانے میں ماہر ہو۔ اس شخص نے عاص بن وائل سہمی کے خاندان کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لئے اپنا ہاتھ ڈبویا تھا اور وہ کفار قریش ہی کے مذہب پر تھا۔ آنحضرت
ﷺ
اور حضرت ابوبکرؓ دونوں نے اس پر اعتبار کیا اور اپنی سواری کی اونٹنیاں اس کے سپرد کردیں اور اس سے یہ وعدہ ٹھہرایا کہ وہ تین دن کے بعد صبح کے وقت ان کی اونٹنیاں لے کر غار ثور پر پہنچے گا۔ عامر بن فہیرہؓ اور رہبر ان دونوں کے ساتھ چلے۔ وہ رہبر اُن تینوں کو سمندر کے کنارے کے راستہ سے لے کر چلا۔