بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 68 hadith
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت ہو جائے تو تم نمازکے لئے دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ چل کر آؤ اور تم پر سکینت لازم ہے۔پھرجس قدر پالو وہ نماز پڑھ لو، جوتم سے رہ جائے اُسے مکمل کرلو ۔
حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اندھیروں میں چل کر (مساجد میں)آنے والوں کو قیامت کے دن نورِ تام کی بشارت ہو۔
حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اندھیروں میں مساجد کی طرف چل کر آنے والوں کو قیامت کے دن نورِ تام کی بشارت دو ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسجدسے دور(چل کر آنے)والا اوراس سے بھی دور(چل کرآنے) والا اجر کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہے۔
حضرت انس بن مالک ؓنے بیان کیا قبیلہ بنوسلمہ نے گھروں سے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔نبی ﷺنے ناپسند کیا کہ وہ مدینہ کو غیرمحفوظ کردیں۔ آپؐنے فرمایا اَے بنو سلمہ !کیا تم اپنے قدموں کے نشانوں پر ثواب کی امید نہیں رکھتے۔ پس وہ ٹھہرے رہے ۔
حضرت ابو سعید خدری ؓسے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں ، جس سے اللہ گناہ معاف کرتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں یا رسولؐ اللہ! فرمایا جی نہ چاہنے کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مساجد کی طرف کثرت سے قدم اٹھانا اورنماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا۔
حضرت عبد اللہؓ نے بیان کیا جسے یہ بات خوش کرے کہ کل اللہ کو مسلمان ہونے کی حالت میں ملے ، تو اُسے ان پانچ نمازوں کی حفاظت کرنی چاہئے ، جہاں اُن کے لئے اذان دی جاتی ہے۔کیونکہ وہ ہدایت کے طریق ہیں۔یقینا اللہ نے تمہارے نبی ﷺ کے لئے ہدایت کے طریق متعین فرمادئیے ہیں میری زندگی کی قسم ! اگر تم میں سے ہر ایک اپنے گھر میں نماز پڑھنے لگے تو تم اپنے نبیؐ کی سنت کو ترک کردو گے اور اگرتم اپنے نبیؐ کی سنت کو ترک کر دو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔میں اپنے لوگوں کو دیکھتا تھا نماز باجماعت سے معروف منافق کے سوا کوئی اس سے پیچھے نہیں رہتا تھا۔ میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو دو آدمیوں کے سہارے لایا جارہا ہے یہاں تک کہ نماز کی صف میں شامل ہوجاتا اور جو آدمی وضو کرے اوراچھی طرح سے وضو کرے اور مسجد کا ارادہ کرے اور اس میں نماز پڑھے تووہ جو قدم بھی اٹھائے گا، اللہ اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کردے گا اور اس کے ذریعہ اس کا ایک گناہ معاف کردے گا ۔
حضرت ابو سعید خدریؓ نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجو اپنے گھر سے نماز کے لئے نکلے اور یہ کہے اَے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اُس حق کی بنا پر جو مانگنے والوں کا تجھ پر ہے اور میں تجھ سے مانگتا ہوں ، اُس حق کی وجہ سے جو میرے اس چلنے کاہے ،میں ہر گز تکبر اور غرور اور دکھاوے اور شہرت کی غرض سے باہر نہیں نکلا ۔ میں نکلا ہوں ، تیری ناراضگی سے بچنے کے لئے ، تیری خوشنودی کے حصول کیلئے ، میں تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو مجھے آگ کے عذاب سے بچا اور میرے گناہ مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا۔ (جو یہ دعا مانگتا ہے) اللہ اس کی طرف اپنا رُخ کرے گا اور اس کے لئے ستّر ہزار فرشتے استغفار کریں گے ۔
حضرت اُبی بن کعبؓ نے بیان کیا کہ انصارؓ میں سے ایک شخص جس کا گھرمدینہ میں سب سے دُور تھا۔ اس کی کوئی نماز بھی رسول اللہ ﷺکے ساتھ ادا کرنے سے نہیں رہتی تھی۔مجھے اس کی حالت دیکھ کر دُکھ ہوا اور میں نے کہا اے فلاں! اگر تو ایک گدھا خریدلے جو تجھے تپش سے بچائے اور تجھے (پتھروں کی) ٹھوکرسے بچائے رکھے۔ وہ تجھے زمین کے کیڑوں مکوڑوں سے بچائے ۔ اس آدمی نے جواب دیا خدا کی قسم مجھے تو یہ پسند نہیں کہ میرا گھر محمد ﷺکے گھر کے قریب ہو ۔انہوں نے کہامجھ پر یہ بات بہت گِراں گذری۔ یہاں تک کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ ؐسے اس کا ذکر کیا اورحضور ؐنے اسے بلایا اور اس سے پوچھا۔اس نے وہی بات کہی اور یہ بھی کہا کہ وہ قدموں کے نشانوں پر ثواب کی امید کرتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تیرے لئے وہی ہے جس کی تونے نیت کی ۔