بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 68 hadith
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ(کچھ ) انصار ؓکے گھر مسجد سے دُور تھے ۔ انہوں نے قریب آنا چاہا تو یہ آیت نازل ہوئی وَنَکْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَآثَارَھُمْ ٭(ترجمہ)اورہم لکھ لیتے ہیں اُسے جووہ آگے بھیجتے ہیں اور اُن کے قدموں کے نشانات کو ۔ راوی نے کہا پھر وہ ٹکے رہے ۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاآدمی کی باجماعت نماز ثواب میں اُس کی گھر میں اور بازار میں نماز سے بیس سے کچھ اوپر درجہ رکھتی ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا نماز باجماعت کی فضیلت تم میں سے کسی کے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس حصّے زیادہ ہے۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کی باجماعت نماز اُس کی اس نماز سے پچیس گنا زیادہ ہے جو اس کے اپنے گھر میں ہو۔
حضرت ابن عمرؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاآدمی کی باجماعت نمازاُس کی اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے افضل ہے ۔
حضرت أُبَی بن کَعبؓ نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاآدمی کی باجماعت نمازاُس کی اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ ہے ۔
حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے اذان سنی اوراس کی طرف نہیں آیا۔اس کی نماز نہیں ہے سوائے کسی عذر کی وجہ سے ۔
حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے سوچا کہ نماز کا حکم دوں اور نماز کے لئے اقامت کہی جائے پھر میں کسی آدمی کو کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں کچھ لوگوں کو ساتھ لے کرجاؤں جن کے پاس ایندھن کے گٹھے ہوں،ایسے لوگوں کی طرف(جاؤں) جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور اُن ہی پر اُن کے گھروں کو آگ سے جلادوں ۔
حضرت ابن اُم مکتومؓ ٭نے بیان کیا کہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میں بڑی عمر کاکمزور بینائی والا ہوں اورمیرا گھر دور ہے اور میرے پاس کوئی ایسا رستہ بتانے والا بھی نہیں ہے جو میرے لئے مناسب ہو، کیا آپؐ (میرے لئے گھر میں نماز پڑھنے کی) رخصت پاتے ہیں ؟ آپؐ نے فرمایا کیا تُم اذان سنتے ہو ؟ میں نے کہا ہاں۔ فرمایا میں تمہارے لئے کوئی رخصت نہیں پاتا۔
حکم بن میناء نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباسؓ اور حضرت ابن عمرؓ نے مجھے بتایا انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ ؐ منبر پر تھے: لوگ نماز باجماعت ترک کرنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگادے گا۔ پھر وہ یقینا غافلوں میں سے ہوجائیں گے ۔