بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 68 hadith
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انصارؓ کے ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ تشریف لائیے اور میرے گھر میں نماز کے لئے جگہ معین کردیجئے ۔ میں اس میں نماز پڑھا کروں گا ۔ یہ واقعہ ان کے نابینا ہونے کے بعد کا ہے۔ آپ ؐ تشریف لائے اورآپؐ نے ایسا ہی کیا ۔
حضرت ابو سعید خدریؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس نے مسجد سے کسی تکلیف دہ چیز کو نکالا اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا ۔
حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ گھروں میں مساجد بنائی جائیں اور یہ کہ اُن کو پاک صاف اور خوشبودار رکھا جائے۔
حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاگھروں میں مسجد یں بنائی جائیں اور اُن کو پاک صاف اور خوشبودارکیا جائے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ نے بیان کیا کہ مساجد میں سب سے پہلے جس نے چراغ جلایا وہ حضرت تمیم داری ؓتھے ۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مسجد میں سامنے کے رُخ تھوک دیکھا۔آپؐ شدید ناراض ہوئے یہاں تک کہ آپؐ کا چہرہ سرخ ہوگیا ۔ انصارؓ میں سے ایک عورت آپؐ کے پاس آئی، اُس نے اُس کو رگڑا اور اس کی جگہ خوشبو لگادی۔ آپؐ نے فرمایایہ کیا ہی اچھا ہے ۔
حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ نبی ﷺنے مسجد میں سامنے کے رُخ تھوک رگڑ کر صاف کردیا ۔
حضرت انس بن مالک ؓنے بیان کیا کہ میرے ایک چچا نے رسول اللہ ﷺکے لئے کھانا تیار کیا اور انہوں نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپؐ میرے گھرکھانا کھائیں اور اس میں نماز پڑھیں۔ آپؐ اُن کے ہاں تشریف لائے اور گھر میں ان چٹائیوں میں سے ایک چٹائی تھی تو آپؐ نے اس کے ایک کونے کے بارے میں ارشاد فرمایا تو اس کو جھاڑاگیا اور اس پر پانی چھڑکا گیا۔آپؐ نے اس پر نماز پڑھی اور ہم نے آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ ابوعبد اللہ بن ماجہ نے کہا ’’فحل‘‘ اُس چٹائی کو کہا جاتا ہے جو(پرانی ہونے کی وجہ سے) سیاہ ہوگئی ہو ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ اورحضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے ان دونوں نے بتایاکہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کی دیوار پر بلغم دیکھی ۔ آپؐ نے ایک کنکر اٹھایا اور اس کو کھرچ دیا ۔ پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی تھوکے تو وہ اپنے سامنے نہ تھوکے اور نہ دائیں طرف تھوکے،بلکہ اپنی بائیں طرف تھوکے یا اپنے بائیں پیر کے نیچے ۔