بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 68 hadith
حضرت ابو سعید خدریؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمین ساری کی ساری مسجد ہے ، سوائے مقبرہ اور غسل خانہ کے۔
حضرت ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سات جگہوں پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے روڑی اور مذبح اور قبرستان اور چلتا راستہ اور غسل خانہ اور اونٹوں کا باڑہ اور کعبہ (کی چھت) پر۔
حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سات جگہیں ایسی ہیں جن میں نماز جائز نہیں۔ بیت اللہ کی چھت اور قبرستان اور روڑی اور مذبح اور غسل اور اونٹوں کا باڑہ اور چلتا راستہ۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کچھ باتیں ایسی ہیں جو مسجد میں مناسب نہیں۔ اسے راہ گزر نہ بنایا جائے اور اس میں اسلحہ کی نمائش نہ کی جائے اور اس میں کمان نہ چلائی جائے اور اس میں تیر نہ پھیلائے جائیں اور اس میں سے کچا گوشت لے کر نہ گزرا جائے اور اس میں حد کی سزا نافذ نہ کی جائے اور اس میں کسی سے قصاص نہ لیا جائے اور نہ ہی اسے منڈی بنایا جائے۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مساجد میں خرید و فروخت اور شعر گوئی میں مقابلہ سے منع فرمایا۔
حضرت واثلہ بن اَ سْقَع ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بچا کر رکھو اپنی مسجدوں کو اپنے (ناسمجھ) بچوں سے، اپنے دیوانوں سے، اپنی خرید و فروخت سے، اپنے جھگڑوں سے، اپنی آوازیں بلند کرنے سے، اپنی حدود نافذ کرنے سے، تلواریں سونتنے سے اور ان کے دروازوں پر وضو کی جگہیں بناؤ اور اجتماعات کے موقعہ پر ان میں خوشبو جلایا کرو۔
حضرت ابن عمرؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسجد میں سو جایا کرتے تھے۔
حضرت قیس بن طِخفہؓ جو اصحاب ِصُفَّہ میں سے تھے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا چلو۔ پس ہم حضرت عائشہؓ کے گھر کی طرف چلے اور ہم نے کھایا اور پیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو یہاں سو جاؤ اور اگر چاہو تو مسجد چلے جاؤ۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ ہم مسجد چلے جاتے ہیں۔
حضرت ابو ذر غفاریؓ نے بیان کیا میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کون سی مسجد سب سے پہلے بنائی گئی؟ آپؐ نے فرمایا مسجد حرام۔ انہوں نے کہا پھر میں نے عرض کیا اس کے بعد کون سی مسجد؟ آپؐ نے فرمایا مسجد اقصیٰ۔ میں نے پوچھا دونوں کے درمیان کتنا عرصہ تھا؟ آپؐ نے فرمایا چالیس سال اور ساری زمین تیرے لئے جائے نماز ہے۔ پس جہاں تمہیں نماز کا وقت آئے نماز پڑھ لو۔
حضرت محمودؓ بن ربیع انصاری _اور ان کو رسول اللہ ﷺ کا ایک کلی کرنا یاد تھا جو آپؐ نے ان کے کنویں سے ایک ڈول (پانی سے، لے کر) کی تھی_ حضرت عتبان بن مالک سالمی ؓ سے روایت کرتے ہیں جو اپنی قوم بنی سالم کے امام تھے وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر میں حاضر تھے۔ انہوں نے کہا میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا یا رسول ؐ اللہ! میری نظر کچھ کمزور ہو گئی ہے، سیلاب آتا ہے، میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، اسے پار کرنا مجھ پر مشکل ہوتا ہے۔ حضورؐ! اگر آپؐ مناسب خیال فرمائیں تو میرے گھر تشریف لائیں اور میرے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھیں۔ میں اُسے جائے نماز بنا لوں تو ایسا کیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا مَیں ایسا ہی کروں گا۔ دوسرے دن رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر ؓ جب دن خوب چڑھ آیا تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی۔ میں نے آپؐ کو اجازت دی۔ آپ ؐ بیٹھے نہیں بلکہ یہ پوچھا تم کہاں چاہتے ہو کہ تمہارے گھر میں نماز پڑھوں؟ میں نے اُس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں نماز پڑھنا پسند کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور ہم نے آپؐ کے پیچھے صفیں بنا لیں۔ آپؐ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر میں نے آپ ؐ کو خزیرہ کھانے کے لئے روک لیا جو آپؐ (اور اُن سب) کے لئے بنایا جا رہا تھا۔