بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت جابر بن عبد اللہؓ نے بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے ، آپؐ نے ایک لکیر کھینچی اور دو لکیریں اُس کے دائیں اور دو لکیریںاُس کے بائیں کھینچیں۔ پھر اپنا دست مبارک، درمیان والی لکیر پر رکھا اور فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے ۔ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہِ ٭(ترجمہ) اور یہ (بھی تاکید کرتا ہے) کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس اس کی پیروی کرو اور مختلف راہوں کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اس کے رستہ سے ہٹادیں گی۔
حضرت عائشہ ؓبیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات نکالی جو اس میں نہیں ہے تو وہ ردّ کئے جانے کے قابل ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے بیان کیا کہ جب میں تم سے رسول اللہ
حضرت مقدام بن معدیکرب کندیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا بعید نہیں کہ ایک آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے گااور اُسے میری حدیث سنائی جائے گی تووہ کہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ عزوجل کی کتاب ہے ۔ جو کچھ ہم اُس میں حلال پائیں گے اسے ہم حلال سمجھیں گے اور جو ہم اس میں حرام پائیں گے اسے حرام سمجھیں گے ۔ خبردار ہو کر سن لو ،جو رسول اللہ ﷺ نے حرام قرار دیا وہ ویسا ہی حرام ہے جیسے اللہ نے حرام قرار دیا ہو ۔
عبید اللہ بن ابی رافع اپنے والد ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم میں سے کسی کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے ہو جس کے پاس میری بات پہنچے جس کا میں نے حکم دیا ہے یا جس سے میں نے منع کیا ہے تو وہ کہے کہ مجھے نہیں پتا ۔ ہم جواللہ کی کتاب میںپائیں گے اس کی اتباع کریں گے ۔
عُروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس انصارؓمیں سے ایک شخص (مدینہ کی پتھریلی زمین ) حرّہ میں پانی کے نالے کے بارہ میں حضرت زبیرؓ کے خلاف جھگڑا لے گیا، جن سے وہ کھجور کے درختوں کو پانی دیا کرتے تھے۔ انصاری نے کہا کہ پانی چھوڑ دو ،وہ بہتا جائے مگر انہوں نے اس کی بات نہ مانی تو وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنا تنازعہ لائے۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زبیر ؓ ! تم (اپنے درختوں کو) سیراب کرلو ، پھر پانی اپنے ہمسایہ کے لئے چھوڑ دو ۔ وہ انصاری غصہ میں آگیا اور اس نے کہا یارسولؐ اللہ! یہ آپؐ کا پھوپھی زاد جو ہوا!اس پر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیااور آپؐ نے فرمایا اے زبیر ؓ پانی لگاؤ ، پھر پانی روکے رکھو، یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے۔ راوی نے کہا حضرت زبیر ؓ کہتے تھے کہ اللہ کی قسم میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی کے بارہ میں نازل ہوئی فَلَا وَربِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتَّی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ أَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا٭ (ترجمہ) نہیں! تیرے ربّ کی قَسم! وہ کبھی ایمان نہیں لا سکتے جب تک وہ تجھے ان امور میں منصف نہ بنا لیں جن میں ان کے درمیان جھگڑا ہوا ہے۔ پھر تُو جو بھی فیصلہ کرے اس کے متعلق وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور کامل فرمانبرداری اختیار کریں۔
سالم، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی بندیوں کو مسجد میں نماز ادا کرنے سے منع نہ کرو ۔ ان (حضرت ابن عمرؓ)کے بیٹے نے کہا ہم اُن کو ضرور منع کریں گے۔اس پر وہ (حضرت ابن عمر ؓ ) سخت غصّہ ہوگئے اور فرمایا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی حدیث سنا رہا ہوں اور تم کہہ رہے ہو کہ ہم ضرور انہیں روکیں گے ۔
حضرت عبد اللہ بن مغفلؓ سے روایت ہے کہ ان کے پہلو میں ان کا بھتیجا بیٹھا ہوا تھا اس نے کنکریاں مارنی شروع کیں ۔ انہوں نے اُسے منع کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے ، نیز فرمایا کہ وہ نہ شکار کرتی ہیں اور نہ دشمن کو زخمی کرتی ہیں ،ہاں یہ کسی کا دانت توڑ سکتی ہیں یا آنکھ پھوڑ سکتی ہیں ۔وہ (راوی)کہتے ہیں اس نے پھر کنکریاں ماریں تو انہوں نے کہا میں تجھے بتا رہا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تم پھر کنکریاں مار رہے ہو۔ میں تم سے کبھی بھی بات نہیں کروں گا ۔
اسحاق بن قبیصہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت انصاریؓ نے جو نقیب اور رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے،انہوں نے امیر معاویہؓ کی معیت میں ارض روم میں جہاد کیا، انہوں(حضرت عبادہؓ)نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سونے کے ٹکڑوں کا دیناروںکے عوض اور چاندی کے ٹکڑوں کا درہموں کے عوض لین دین کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا اے لوگو! تم سود کھا رہے ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سونے کی سونے کے ذریعہ خرید و فروخت نہ کرو مگر برابر برابر ۔ نہ تو اس میں کوئی کمی بیشی ہو اور نہ ہی اس میں کوئی وقفہ ہو۔معاویہ ؓ نے ان سے کہا اے ابو ولید ! میرے نزدیک تو یہ سود نہیں ہے سوائے اس کے کہ اس میں وقفہ ہو ۔ حضرت عبادہؓ نے جوابًا کہا میں تمہارے سامنے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم مجھے اپنی رائے بتارہے ہو ۔ اگر اللہ نے مجھے یہاں سے نکال لیا تو میں اس زمین میں ہر گز سکونت اختیار نہ کروں گا جس میں آپ کی مجھ پر امارت ہو۔ جب وہ لوٹے تو مدینہ آگئے ، اُن سے حضرت عمر بن خطاب ؓنے پوچھا آپ کس وجہ سے واپس آگئے اے ابوولید ؟ تو انہوں نے سارا واقعہ سنایا، اور وہ بات بھی جو اپنی سکونت اختیار کرنے کے بارے میں کی تھی ، اس پر حضرت عمر ؓ نے انہیں فرمایا اے ابو ولید! اپنی زمین کی طرف واپس چلے جائیں ورنہ اللہ اس زمین کو بدحال کردے گا ، جس میں آپؓ اور آپؓ جیسے نہ ہوں اور حضرت عمر ؓ نے امیرمعاویہؓ کو لکھا آپ کا حکم ان ( عبادہ ابو ولیدؓ) پرنہیں ہے اور جو کچھ انہوںنے کہا ہے لوگوں سے اس پر عمل درآمد کراؤ کیونکہ حکم یہی ہے ۔