بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 39 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ خیبر سے واپس لوٹ رہے تھے ، تو رات بھر چلتے رہے پھر جب آپؐ کو نیند آئی تو آرام کے لئے پڑاؤ کیا اور بلالؓ سے فرمایا کہ آج رات ہماری (نماز کے وقت کی) حفاظت کرو۔ پھر حضرت بلالؓ نے جتنی ان کے لئے مقدر تھی نماز پڑھی اور رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ سو گئے۔ جب فجر کا وقت قریب آیا تو بلالؓ نے صبح کی سمت رخ کرتے ہوئے اپنی سواری کا سہارا لیا تو بلالؓ پر نیند غالب آگئی جبکہ وہ اپنی اونٹنی سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ پس نہ تو بلالؓ بیدار ہوئے اور نہ ہی آپؐ کے اصحاب میں سے کوئی، یہانتک کہ دھوپ ان پر پڑی۔ رسول اللہ ﷺ ان میں سب سے پہلے جاگے۔ رسول اللہ ﷺ فکر مند ہوئے اور فرمایا اے بلال! بلالؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں۔ میری روح کو بھی اسی ذات نے روکے رکھا جس نے آپؐ کو روکے رکھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ روانہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے اپنی سواریوں کو تھوڑا سا چلایا پھر رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اور بلالؓ کو ارشاد فرمایا انہوں نے نماز کی اقامت کہی۔ پھر آپؐ نے انہیں صبح کی نماز پڑھائی۔ جب آپؐ نماز پڑھ چکے تو آپؐ نے فرمایا کہ جو نماز بھول جائے تو اسے چاہیے کہ جب یاد آئے اسے پڑھ لے کیونکہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ نماز کو میرے ذکر کے لئے قائم کرو۔ ایک روایت میں (لِذِکْرِیْ کی بجائے) لِلذِّکرَی کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو قتادہؓ نے بیان کیا کہ انہوں (یعنی صحابہؓ) نے نیند کی وجہ سے (نماز میں) کوتاہی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا وہ سوئے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیند کی وجہ سے کوتاہی نہیں ہے بلکہ کوتاہی بیداری کی حالت میں ہوتی ہے اور جب کوئی تم میں سے نماز بھول گیا یا اُس وقت سویا رہا، تو وہ اس وقت پڑھ لے جب اُسے یاد آئے اور اگلے دن اُس کے وقت پر پڑھے۔ عبد اللہ بن رباح نے کہا حضرت عمرانؓ بن حصین نے مجھے سُنا جبکہ میں اس روایت کو بیان کر رہا تھا تو انہوں نے کہا اے نوجوان! دیکھو تم کس طرح بیان کر رہے ہو۔ کیونکہ میں بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس روایت (کے بیان) کے وقت موجود تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ انہوں (حضرت عمرانؓ بن حصین) نے اس روایت میں کوئی بات غیر معمولی نہ دیکھی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی تو اس نے اسے پا لیا اور جس نے سورج طلوع ہونے سے قبل فجر کی ایک رکعت پا لی تو اُس نے اسے پا لیا۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے سورج طلوع ہونے سے قبل فجر کی ایک رکعت پا لی اس نے اسے پا لیا اور جس نے سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی تو اس نے اس کو پا لیا۔
حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نماز عشاء تاخیر کرکے پڑھنے کو پسند فرماتے تھے اور اس (نمازِ عشاء) سے پہلے سونے اور اس کے بعد (بلا ضرورت) باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے۔
حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ عشاء سے پہلے نہیں سوئے اور اس کے بعد (بلا ضرورت) بات نہیں کی۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لئے عشاء کے بعد (بلا ضرورت ) باتیں کرنے کو ناپسند فرمایا۔ جَدَبَ لَنَا کے معنی راوی نے زَجَرَنَا کئے ہیں۔
حضرت ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا بدوی لوگ تمہاری نماز کے نام کے بارے میں تم پر غالب نہ آجائیں۔ یہ عشاء (کی نماز) ہے۔ اور وہ (بدوی لوگ) اونٹوں کو اندھیرا ہوجانے کے بعد (دوہتے ہیں)۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بدوی لوگ تمہاری نماز کے نام کے بارے میں تم پر غالب نہ آجائیں۔ راوی ابن حرملہ نے یہ اضافہ کیا کہ یہ تو عشاء ہی ہے۔ (بدوی لوگ) اونٹوں کو اندھیرا ہونے پر دودھ دوہنے کی وجہ سے عتمہ کہتے ہیں۔