بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
یحیٰ بن سعید کہتے ہیں میں نے ابو صالح سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے رسول اللہﷺ کی مسجد میں نماز کی فضیلت کا ذکر کرتے سنا ہے تو انہوں نے کہا نہیں لیکن مجھے عبد اللہ بن ابراہیم بن قارظ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو یہ حدیث بیان کرتے سنا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری اس مسجد میں نماز دوسری مساجد میں سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار نماز سے بہتر ہے یا ایک ہزار نماز کی طرح ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا میری اس مسجد میں نماز کسی بھی دوسری مسجد میں سوائے مسجد حرام کے ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک عورت بیمار ہو گئی تو اس نے کہا اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا عطاء فرمائی تو میں ضرور جاؤں گی اور بیت المقدس میں نماز پڑھوں گی وہ اچھی ہو گئی پھر اس نے سفر پر جانے کی تیاری کی وہ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ (ام المؤمنین) حضرت میمونہؓ کے پاس سلام کرنے آئی پھر انہیں اس بارہ میں بتایا تو انہوں نے کہا کہ بیٹھو اور جو کچھ تم نے تیار کیا ہے وہ کھاؤ اور رسول اللہﷺ کی مسجد میں نماز ادا کرو یقیناً میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسجد کعبہ کے سوا (اس) مسجد میں نماز دیگر مساجد میں سوائے کعبہ کی مسجد کے ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ اسے نبیﷺ تک پہنچاتے تھے کہ کجاوے نہیں کسے جاتے مگر تین مساجد کی طرف۔ میری یہ مسجد اور مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ۔ ایک اور روایت میں (لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلَّا اِلَی ثَلَا ثَۃِ مَسَاجِدَ کی بجائے) تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلَی ثَلَا ثَۃِ مَسَاجِدَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جاتا ہے مسجد کعبہ اور میری مسجد اور مسجد ایلیاء۔
ابو سلمہ بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمان بن ابو سعید الخدریؓ میرے پاس سے گذرے۔ وہ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا آپ نے اپنے والد کو اس مسجد کے بارہ میں کیا ذکر کرتے سنا ہے جس کی بنیاد تقوٰی پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد کہتے تھے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آپ کی ازواج مطہرات میں سے کسی کے گھر حاضر ہوا۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! دو مسجدوں میں سے وہ کونسی مسجد ہے جس کی بنیاد تقوٰی پر رکھی گئی ہے؟ وہ کہتے ہیں آپؐ نے کنکریوں کی مٹھی بھری اور پھر اسے زمین پر ڈال دیا پھر مدینہ کی مسجد (نبویؐ) کے بارہ میں فرمایا وہ تمہاری یہ مسجد ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے آپؐ کے والد کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قباء تشریف لے جایا کرتے تھے سوار ہو کر بھی اور پیدل چل کر بھی۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد قباء سواری پر بھی اور پیدل چل کر بھی تشریف لے جایا کرتے تھے اور آپؐ اس میں دو رکعتیں پڑھتے۔ فَیُصَلِّیْ فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ کے الفاظ صرف ابو بکر کی روایت میں ہیں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قباء میں سوار ہوکر اور پیدل چل کر بھی تشریف لایا کرتے تھے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سوار ہو کر اور پیدل چل کر قباء تشریف لایا کرتے تھے۔