بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت کعبؓ بن عجرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کچھ ایسی مُعَقِّبَات ہیں جنہیں ہر نماز کے بعد کہنے یا کرنے والا کبھی نقصان نہیں اٹھاتا یعنی ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ تسبیح تینتیس دفعہ تحمید اور چونتیس دفعہ تکبیر۔
حضرت ابو ہریرہؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ سبحان اللہ کہا اور تینتیس دفعہ الحمد للہ کہا اور تینتیس دفعہ اللہ اکبر کہا تو یہ مل کر ننانوے ہوئے۔ سو کا عدد پورا کرنے کے لئے کہا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ۔۔۔۔ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اسی کی ہے۔ تمام تعریف اسی کے لئے ہے اور وہ ہر ایک چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے‘‘۔ اس کی تمام خطائیں معاف کر دی جائیں گی اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب نماز کے لئے تکبیر کہتے تو قراءت سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں، تکبیر اور قراءت کے درمیان اپنی خاموشی کے بارہ میں بتائیں کہ اس میں آپؐ کیا پڑھتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میں کہتا ہوں اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنی دوری ڈال دے جتنی تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری ڈال رکھی ہے۔ اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جیسے سفید کپڑے کو گندگی سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میری خطائیں برف، پانی اور اولوں سے دھو کر صاف کر دے۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب دوسری رکعت کے بعد کھڑے ہوتے تو الحمد للہ رب العالمین سے قراءت شروع کرتے اور (اس سے قبل) سکوت نہ فرماتے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آیا اور صف میں داخل ہوگیا اس کا سانس پھولا ہوا تھا اس نے کہا تمام تعریف اللہ ہی کے لئے ہے بہت زیادہ اور پاک جس میں برکت ہے۔ جب رسول اللہﷺ نے اپنی نماز پوری کرلی تو فرمایا کہ تم میں سے یہ کلمات کہنے والا کون تھا؟ لوگ خاموش رہے۔ آپؐ نے پھر فرمایا یہ کہنے والا کون ہے؟ اس نے کوئی حرج والی بات نہیں کہی۔ اس پر اس آدمی نے کہا کہ میں جب آیا تو میرا سانس پھولا ہوا تھا تو میں نے یہ (کلمات) کہے۔ تب آپؐ نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو ان کی طرف لپکتے دیکھا کہ ان میں سے کون اِن (کلمات) کو اوپر لے جائے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں اس اثناء میں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا اور حمد اللہ کے لئے ہی ہے بہت زیادہ۔ میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں صبح و شام۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ یہ کلمات کہنے والا کون تھا؟ لوگوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا میں تھا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا مجھے یہ (کلمات) اچھے لگے کہ آسمان کے دروازے ان کے لئے کھول دئیے گئے۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں جب سے میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میں نے ان کلمات کو ترک نہیں کیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب نماز کھڑی ہو جائے تو اس کی طرف دوڑ کر نہ آؤ بلکہ چلتے ہوئے آؤ اور تم پر سکینت لازم ہے۔ جو (نماز کا حصہ) تمہیں مل جائے وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے (بعد میں) پورا کر لو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہہ دی جائے تو دوڑ کر اس کی طرف نہ آؤ بلکہ اس کی طرف آؤ جبکہ تم پر سکینت لازم ہے اور جو (نماز کا حصہ) تم پالو وہ پڑھ لو اور جو تم سے رہ جائے اسے پورا کر لو کیونکہ جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔
ہمام بن مُنَبِّہ سے روایت ہے کہ یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے روایت کر کے بتائیں۔ پھر انہوں نے اس میں سے کچھ احادیث بیان کیں۔ ان میں سے (ایک یہ ہے) کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب نماز کے لئے اذان دی جائے تو چلتے ہوئے اس کی طرف آؤ اور تم پر سکینت لازم ہے۔ جو تم پالو وہ پڑھ لو اور جو تم سے رہ جائے وہ پورا کرلو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہہ دی جائے تو تم میں سے کوئی دوڑ کر اس کی طرف نہ جائے اور اسے چاہیئے کہ چل کر جائے جبکہ اس پر سکینت اور وقار لازم ہے اور جو تمہیں ملے پڑھ لو اور جو تم سے رہ جائے اسے پورا کر لو۔