بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 209 hadith
حضرت ابو بکرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے۔ خالد کی روایت میں ہے عید کے دو مہینے رمضان اور ذوالحجۃ۔
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب (یہ آیت) اتری حَتَّی یَتَبَیَّنَ۔۔۔ (ترجمہ): یہاں تک کہ تمہارے لئے سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے فجر کے وقت ممتاز ہو جائے (البقرہ: 188) تو عدی بن حاتمؓ نے آپؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! میں اپنے تکیہ کے نیچے دو رسیاں رکھ لیتا ہوں ایک سفید رسی اور ایک سیاہ رسی اور میں (اس طرح) رات کو دن سے پہچان لیتا ہوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تمہارا تکیہ بڑا چوڑا ہے۔ وہ تو صرف رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔
حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا۔۔۔ (البقرہ: 188) ترجمہ: اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے (صبح کی) سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے ممتاز ہو جائے۔ راوی کہتے ہیں ایک شخص سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لیتا تھا۔ وہ کھاتا رہتا تھا یہاں تک وہ دونوں (دھاگے) اسے واضح نظر آجاتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ’’مِنَ الْفَجْرِ‘‘ (کے الفاظ) نازل فرمائے تو اس (اللہ) نے یہ بات کھول دی۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب یہ آیت وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا۔۔۔ (البقرہ: 188) نازل ہوئی (ترجمہ): اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے (صبح کی) سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے ممتاز ہو جائے۔ راوی کہتے ہیں ایک شخص جب روزے کا ارادہ کرتا تو اپنے دونوں پاؤں میں سیاہ دھاگہ اور سفید دھاگہ باندھ لیتا اور وہ کھاتا اور پیتا رہتا یہاں تک کہ اس کو وہ دونوں واضح نظر آتے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مِنَ الْفَجْرِ (کے الفاظ) نازل فرمائے تو انہیں علم ہوا کہ اس سے مراد رات اور دن ہیں۔
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلالؓ (ابھی) رات (ہی ہوتی ہے کہ) اذان (دے) دیتے ہیں۔ پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تم ابن ام مکتومؓ کی اذان سن لو۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ بلالؓ رات میں ہی اذان دیتے ہیں پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تم ابن ام مکتومؓ کی اذان سنو۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے دو مؤذن تھے بلالؓ اور ابن ام مکتومؓ (جو) نابینا (تھے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلالؓ رات میں ہی اذان دیتے ہیں تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن امؓ مکتوم اذان دیں۔ راوی کہتے ہیں ان (دونوں) کے درمیان اتنا ہی وقفہ ہوتا تھا کہ یہ اترتے تھے اور وہ اوپر جاتے تھے۔
حضرت ابن مسعودؓ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی کو اس کی سحری (کھانے) سے بلالؓ کی اذان _ یا فرمایا بلال کی نداء _ نہ روکے۔ وہ رات میں اذان یا فرمایا نداء دیتے ہیں تا کہ وہ تم میں سے عبادت کرنے والے کو واپس لائے اور تم میں سے سونے والے کو جگائے۔ اور آپؐ نے فرمایا (طلوعِ فجر) اس اس طرح نہیں ہے اور آپؐ نے اپنا ہاتھ سیدھا کیا اور بلند کیا _ بلکہ اس طرح ہے _ اور آپؐ نے اپنی دو انگلیوں کے درمیان فاصلہ کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ فجر یوں نہیں اور آپؐ نے اپنی انگلیاں جمع کر کے ان کو زمین کی طرف جھکایا _ بلکہ اس طرح ہے _ اور آپؐ نے اپنی شہادت کی انگلی کو شہادت کی انگلی پر رکھا اور اپنے ہاتھ پھیلائے۔ ایک اور روایت میں ہے آپؐ نے فرمایا کہ وہ (بلالؓ ) تم میں سے سونے والے کو بیدار کرتے ہیں اور تم میں سے عبادت کرنے والے کو واپس لے آتے ہیں۔ راوی جریر اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ اس طرح نہیں بلکہ اس طرح یعنی فجر __ چوڑائی کے رُخ ہے لمبے رُخ (عمودی) نہیں۔
حضرت سمرہ بن جندبؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت محمدﷺ کو فرماتے ہوئے سنا سحری کھانے کے متعلق تم میں سے کسی کو بلالؓ کی اذان غلط فہمی میں نہ ڈالے اور نہ یہ سفیدی یہاں تک کہ وہ پھیل جائے۔
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی کو بلالؓ کی اذان غلط فہمی میں نہ ڈالے اور نہ یہ سفیدی _ صبح کے ستون کی _ یہاں تک اس طرح پھیل جائے۔