بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 209 hadith
زہری سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے قسم کھائی کہ وہ ایک ماہ اپنی ازواج کے ہاں نہیں جائیں گے۔ زہری کہتے ہیں مجھے عروہ نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا جب انتیس راتیں جنہیں میں گن رہی تھی گذر گئیں تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ انہوں (حضرت عائشہؓ) نے کہا کہ حضورؐ نے ابتداء مجھ سے کی۔ میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک ماہ تک آپؐ ہمارے پاس تشریف نہ لائیں گے۔ آپؐ انتیسویں دن تشریف لے آئے۔ میں تو دن گنتی رہی ہوں۔ آپؐ نے فرمایا۔ مہینہ اُنتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ماہ کے لئے اپنی ازواج مطہرات سے الگ ہو گئے۔ پھر انتیسویں دن آپؐ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا (آج تو) انتیسواں (دن) ہے۔ آپؐ نے فرمایا مہینہ اس طرح بھی ہوتا ہے اور آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ ملائے اور ایک انگلی آخری دفعہ بند کر لی۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی ﷺ ایک ماہ کیلئے اپنی بیویوں سے الگ ہوئے اور آپؐ ہمارے پاس انتیسویں صبح تشریف لائے۔ کسی نے کہا یا رسولؐ اللہ! ہم نے انتیسویں دن کی صبح کی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔ پھر آپؐ نے تین مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ ملائے۔ دو مرتبہ تو ساری (دس) انگلیوں کے ساتھ اور تیسری مرتبہ نو (انگلیوں کے) ساتھ۔
عکرمہ بن عبدالرحمان بن الحارث نے بیان کیا کہ (ام المو منین) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ نبی ﷺ نے قسم کھائی کہ وہ اپنی بعض بیویوں کے ہاں ایک ماہ تک نہیں جائیں گے۔ جب انتیس دن گزرے تو صبح یا شام کے وقت آپؐ ان کے پاس تشریف لے گئے آپؐ سے عرض کیا گیا۔ اے اللہ کے نبیؐ! آپؐ نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک ماہ تک ہمارے ہاں نہیں آئیں گے۔ آپؐ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے پھر تیسری مرتبہ آپؐ نے ایک انگلی کم کر دی۔
محمد بن سعد اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا مہینہ اس طرح، اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے۔ دس، دس اور ایک دفعہ نو (کا اشارہ کیا)۔
کریب سے روایت ہے کہ ام فضل بنت حارث نے انہیں امیر معاویہؓ کے پاس شام بھیجا۔ وہ کہتے ہیں میں شام آیا اور ان کا کام مکمل کیا۔ میں شام میں (ہی) تھا کہ رمضان کا چاند مجھ پر طلوع ہوا۔ میں نے نیا چاند جمعہ کی رات دیکھا۔ پھر مہینہ کے آخر پر میں مدینہ آگیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے (حال احوال) پوچھا پھر نئے چاند کا ذکر کیا اور کہا تم نے نیا چاند کب دیکھا؟ میں نے کہا ہم نے اسے جمعہ کی رات دیکھا۔ انہوں نے کہا تم نے خود اسے دیکھا؟ میں نے کہا ہاں اور دوسرے لوگوں نے (بھی) اسے دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا اور امیر معاویہؓ نے بھی روزہ رکھا۔ انہوں نے کہا لیکن ہم نے اسے ہفتہ کی رات دیکھا ہم روزے رکھتے رہیں گے یہاں تک کہ تیس پورے کر لیں یا ہم اسے (چاند کو) دیکھ لیں۔ میں نے کہا کیا آپ کے لئے امیر معاویہؓ کی رؤیت اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں تو انہوں نے کہا نہیں، ہمیں رسول اللہﷺ نے ایسا ہی حکم دیا تھا۔ راوی یحیٰ بن یحیٰ کو شک ہے کہ نَکْتَفِیْ کہا یا تَکْتَفِی کہا۔
ابو البَختَری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم عمرہ کے لئے نکلے۔ جب ہم وادی نخلہ پہنچے راوی کہتے ہیں ہم نے نیا چاند دیکھا۔ بعض لوگوں نے کہا یہ تیسری کا ہے اور بعض نے کہا یہ دوسری رات کا ہے۔ راوی کہتے ہیں ہم حضرت ابن عباسؓ سے ملے اور کہا ہم نے نیا چاند دیکھا تو بعض لوگوں نے کہا یہ تیسری کا ہے اور بعض نے کہا یہ دوسری کا ہے۔ انہوں نے کہا کس رات تم نے اسے دیکھا؟ راوی کہتے ہیں ہم نے کہا فلاں، فلاں رات تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے رؤیت کے لئے بڑھایا ہے۔ تو یہ اسی رات کا ہے جس رات تم نے اسے دیکھا۔
عمرو بن مُرّہ کہتے ہیں میں نے ابو البَخْتَری کو یہ کہتے ہوئے سنا ہم پر رمضان کا چاند طلوع ہوا جبکہ ہم ذاتِ عرق میں تھے۔ ہم نے ایک آدمی کو حضرت ابن عباسؓ کی طرف یہ پوچھنے کے لئے بھیجا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اسے (نئے چاند کو) اس کے دیکھنے تک بڑھا دیا ہے۔ پس اگر تم پر بادل چھا جائیں تو گنتی پوری کرو۔
حضرت ابو بکر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا عید کے دو مہینے رمضان اور ذوالحجہ ناقص نہیں ہوتے۔